This is an event of May 2012 when a Buddhist girl accepted Myanmar (Burma) in Islam

0
79
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ مئی 2012 کا واقعہ ہے جب میانمار (برما) میں ایک بدھ پیروکار لڑکی نے اسلام قبول کر لیا جس کو مقامی بدھ مت کے پیروکاروں نے اپنی ہتک اور بےعزتی گردانا اور اس لڑکی کو بدھ مذہب چھوڑنے کی سزا کے طور پر اغوا کر کے اجتمائی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور بعدازاں قتل کر دیا گیا۔ اور پھر اسی قتل کا الزام بھی مسلمانوں پر دھر دیا گیا جس کی وجہ سے علاقے میں پہلی بار فسادات کی آگ بھڑکی۔ اس لڑکی کے قتل کے بعد بدھ بکشوں نے مسلمانوں کے گاؤں پر حملہ کر دیا اور مسلمانوں کی بستی کو آگ لگا دی جس میں بے شمار مسلمان جل کر راکھ ہو گئے۔

چند دن بعد بدھ بکشوں نے تبلیغی جماعت کی ایک بس روکی اور اس میں سوار دس تبلیغی بھائیوں کو شہید کر دیا اور الٹا الزام مسلمانوں پر لگا کر لوگوں کو گمراہ کیا کہ مسلمان تبلیغی جماعت نے بدھ مونک (مذہبی پیشوا) کو پیروکاروں سمیت قتل کر دیا ہے۔ اس کے بعد ایک وسیع پیمانے پر قتل و غارت گری کا سلسہ چل پڑ۔ مسلمانوں کی یہ آبادیاں بنگلہ دیش سے چند سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔ بنگلہ دیش والے ان مسلمانوں کو برمی کہتے ہیں اور برما والے ان کو بنگلہ دیشی کہہ کر دھتکارتے ہیں۔ ان فسادات کے بعد مسلمانوں کی بستیاں جلا دی گئیں، ہزاروں مسلمانوں کو تہہ و تیغ کر دیا گیا۔ اور آج ان فسادات کو شروع ہوئے پانچ سال سے زائد کا عرصہ ہو گیا ہے۔

مئی 2015 میں مظلوم اور نہتے مسلمان برما سے جان بچا کر بنگہ دیش کی طرف بھاگے تو حسینہ واجد نے ان کی مدد کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ فوج نے پناہ گزینوں کو واپس دھکیل دیا اور میانمار سیکورٹی فورسز نے ان مسلمانوں کا وسیع پیمانے پر قتلِ عام کیا کہ شاید ہی کوئی ذی روح بچا ہو۔ انااللہ و انا علیہ راجعون

ان واقعات کے بعد پوری دنیا سے آزاد اور باضمیر لوگوں نے ان مظالم کے خلاف آواز اٹھائی لیکن نہ تو اقوامِ عالم کے کان پر جوں رینگی اور نہ ہی مسلمان حکمرانوں کو اتنی غیرت آئی کہ وہ برما کی حکومت کے ساتھ اس مسلے پر بات چیت کرتے ہیں

اس کے علاوہ ایک اور جھوٹی خبر تھی جس کے مطابق پاکستانی ہندوؤں سے زبردستی قبول اسلام کروایا گیا تھا۔ ان دونوں معاملات پر کیسے پوری دنیا کا میڈیا حرکت میں آ گیا تھا۔ پاکستان کے اندر نام نہاد کرائے کے لبرلز اور دنیا بھر کی سیکولر تنظیموں نے پاکستان پر تبرہ کیا تھا کہ یوں لگتا تھا کہ شاید پاکستان میں انسانی حقوق معطل ہو چکے ہیں اور انسانیت اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے

لیکن پچھلے کئی سالوں سے برما میں ہونے والی مسلمان نسل کشی پر مسلسل اقوامِ متحدہ کو خطوط لکھے جا رہے ہیں کہ میانمار حکومت نے اس قدر ظلم روا رکھا ہے کہ اپنے ہی شہریوں کی شہریت منسوخ کر کے ان کے بنیادی حقوق معطل کر دیے گئے ہیں۔ اب ان کا کوئی والی وارث نہیں ہے لیکن اقوام متحدہ اس کو میانمار کا اندرونی معاملہ کہہ کر مسلسل نظرانداز کر رہی ہے۔ کیا یہ دہرے معیار اور تضادات نہیں ؟؟ اب کہاں ہیں وہ پاکستانی مسلمانوں کی اس نسل کشی پر قبروں کی طرح خاموش ہیں۔
جو ہونا ہے وہ تو ہو ہی جائے گا لیکن یہ یاد رہے گا کہ کیسے مسلمانوں کے مرنے پر عالمِ انسانیت خاموش تھی لیکن آج پاکستان میں اگر کسی پر مقدمہ بن جائے تو کیسے پوری دنیا چیخ اٹھے گی۔ لیکن آج اللہ اور محمد رسول اللہ ص کے نام لیوا کھلے عام ذبح ہو رہے ہیں تو ایسے لگتا ہے جیسے مردہ خانے کی سی خاموشی ہو۔ افسوس اس بات کا بھی ہے کہ ہمارے اپنے مسلمان علماء نے بھی اس معاملے میں خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

 

This is an event of May 2012 when a Buddhist girl accepted Myanmar (Burma) in Islam, who was abducted by the local Buddhist followers of her father and daughter-in-law and abducted the girl as a punishment for leaving Buddhist religion. Was abducted and was killed later. And then the accusation of this murder was also given to the Muslims due to which fire broke out for the first time in the area. After the murder of this girl, Buddhists attacked the village of Muslims and burned the house of Muslims in which many Muslims were burnt burnt.

A few days later, Buddhists killed a bus in the preaching community and killed 10 preachers who were riding on it and misled the accused on Muslims and led the people astray that the Muslim propaganda party killed Buddhist (religious leaders) including followers Has given Then there was a massive massacre of murder. These settlements of Muslims are within a few hundred kilometers from Bangladesh. They call Bangladesh Muslims as Burmese and Burma, who call them Bangladeshi. After the riots, Muslims’ houses were burnt, thousands of Muslims were deported. And today these riots started over the past five years.

In May 2015, the oppressed and the new Muslims ran away from Burma to escape from Bangladesh, when Hameena Wajid refused to help them. The army pushed the refugees back and Myanmar security forces massacre the Muslims that perhaps some soul was saved. انااللہ و اناای راجعون

After these incidents, free and gentlemen from all over the world raised a protest against these protests, but neither did the nation nor the Muslim rulers come so much to say that they talked about this issue with the Burmese government. Are there

Apart from this, there was another false news that the acceptance of Islam was adopted by Pakistani Hindus. How did the world of media spread on both these issues? Liberal libraries inside Pakistan and secular organizations around the world relied on Pakistan that it seems that human rights in Pakistan have been suspended and humanity is taking its last breath

But for the past several years, the Muslim race in Burma is constantly being written to the UN that Myanmar government has solemnly violated the citizenship of their citizens and their basic rights have been suspended. . Now he has no inheritance but the United Nations is constantly ignoring it as the internal matter of Myanmar. Is not it a standard and contradictory ?? Where are they now, Muslims are silent like graves on this genocide?
What will happen to happen, but it will remember how the humanity was silent on the death of Muslims, but if there is any case in Pakistan, how will the whole world scream. But today, the names of Allah and Muhammad Rasoolullah Saw are being commonly slaughtered, so it looks as if there is a silence in the living room. Sadly, our Muslim scholars have also kept silent in this matter.


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here