دہشت گردی ختم نہ ہونے کی پانچ بڑی وجوہات  آخری حصہ 

0
89

دہشت گردی ختم نہ ہونے کی پانچ بڑی وجوہات  آخری حصہ

<<< Next Article     Previous Article >>>

 

نیشنل ایکشن پلان دہشت گردی کے خلاف 20 نقاطی منصوبہ تھا جن میں 3 نقاط پر عمل دارآمد پاک فوج کے ذمے تھا جبکہ 17 سول حکومت کی ذمہ داری تھے۔ ملاحظہ کیجیے ان پر کتنا عمل درآمد ہوا۔

۔ 1 ۔۔۔ دہشت گردوں کو عدالتوں سے ملنے والی سزاؤوں پر عمل درآمد کیا جائے۔
اس شق پر انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں کی اپیلوں کے بعد عدالت نے حکم امتناع جاری کر دیا۔ یوں اس شق پر خود عدلیہ نے ہی عمل درآمد رکوایا دیا۔

۔ 2 ۔۔۔ فوجی عدالتوں کا قیام۔

اس شق میں یہ پخ لگائی گئی کہ فوجی عدالتیں بذات خود ایکشن نہیں لے سکیں گی بلکہ سول حکومت ان کو کسیز منتقل کرے گی۔
نتیجہ یہ ہوا کہ دہشت گردی کے 11000 سے زائد کیسز میں سے صرف چند سو ہی فوجی عدالتوں کو منتقل کیے گئے۔ مزید ستم یہ کہ ان فوجی عدالتوں سے سزائیں پانے والے دہشت گردوں کی سزاؤوں پر عدلیہ نے عمل درآمد رکوا دیا۔ یوں فوجی عدالتوں کو تقریباً غیر موثر کر دیا گیا ہے۔

۔ 3 ۔۔۔ ملک سے مسلح ملیشیاز کا خاتمہ۔

یہ کام پاک فوج کر رہی ہے اور اپنے ہزاروں سپاہیوں کی جانیں دے کر پاک فوج نے کراچی، فاٹا اور قبائیلی پٹی سے دہشت گرد لشکروں کا خاتمہ کر دیا ہے۔

۔ 4 ۔۔۔۔۔ نیکٹا کا قیام

دہشت گردی کی روک تھام کے لیے بنائے جانے والے اس ادارے کے لیے مسلم لیگ ن کی حکومت پچھلے چار سالوں میں فنڈز کی جاری نہیں کر سکی۔ میٹرو اور اورینج ٹرین جیسے نمائشی منصوبوں میں سینکڑوں ارب روپے جھونکنے والوں کے پاس نیکٹا کے لیے 21 ارب روپے نہیں تھے۔
حالت یہ ہے کہ نیکٹا کے پاس اپنی بلڈنگ تک نہیں ہے۔ اس کے بورڈ اور گورنرز کا پہلا اجلاس ہی طلب نہیں کیا جا سکا ہے کیونکہ اس اجلاس کی صدارت وزیراعظم نے کرنی ہے جس کے پاس اجلاس کی صدارات کا ٹائم ہی نہیں ہے۔
البتہ اپنے درجنوں نجی دوروں کے لیے یہ ٹائم نکال لیتے ہیں۔

۔ 5 ۔۔ انتہا پسندانہ مواد اور تقاریر کا خاتمہ۔

اس پر کوئ عمل درآمد نہیں کروایا گیا گو کہ ن لیگی حکومت نے اعلانات بھی کیے۔ آج بھی مساجد میں نفرت انگیز تقاریر کی جاتی ہیں اور وہ اہم ترین سیاسی علماء حکومت کے اتحادی ہیں جنکا ان مساجد پر اثرورسوخ ہے۔ نتیجے میں کچے ذہنوں میں انتہاپسندی پھیل رہی ہے۔

۔ 6 ۔ دہشت گردوں کی فنڈنگ روکنا۔

اس کےلیے پاک فوج نے کراچی میں زبردست آپریشن کیا جس کے نتیجے پیپلز پارٹی دہشت گردوں کی سب سے بڑی فنڈنگ کرنے والی جماعت کے طور پر سامنے آئی اور اسی جماعت کی سندھ میں حکومت بھی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نواز شریف حکومت کی غیراعلانیہ اتحادی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ڈاکٹر عاصم اور ایان علی کا معاملہ لٹکا دیا گیا اور ٹپی، شرجیل میمن اور آصف زرداری وغیرہ پر تاحال ہاتھ نہیں ڈالا گیا جبکہ نواز شریف نے اسکا وعدہ کیا تھا۔ تب فنڈنگ کیسے روکیں؟

۔ 7 ۔۔ کلعدم تنظیموں کو دوسرے ناموں سے فعال ہونے سے روکنا۔

اس پر بھی کوئی عمل نہیں ہو رہا بلکہ کچھ کلعدم تنظمیں رانا ثناءاللہ کے ذریعے حکومت کی اتحادی بنی ہوئی ہیں اور ان کے چند سرکردہ اراکین پارلیمنٹ میں بھی بیٹھے ہیں۔

۔ 8 ۔ انسداد دہشت گردی کے لیے خصوصی فورس کا قیام۔

یہ فورس شائد قیامت والے دن بنے گی۔ سول حکومت کی پانچ سالہ مدت ختم ہونے والی ہے لیکن تاحال اس پر کام کا آغاز نہیں کر سکی۔

۔ 9 ۔۔ مذہبی بنیادوں پر استحصال اور امتیاز کے عمل کو روکنا۔

اس پر بھی کوئی عمل نہیں ہورہا۔ حتی کہ میڈیا تک پر فرقہ واریت پر مبنی مباحثے پیش کیے جا رہے ہیں۔ سول حکومت اور پیمرا دونوں خاموش ہیں۔

۔ 10 ۔۔ مدارس کی رجسٹرین اور ریگولیشن کو یقینی بنانا۔

اس پر عمل درآمد تو دور کی بات سول حکومت ابھی تک یہ فیصلہ بھی نہیں کر سکی کہ یہ کام مذہبی وزارت کے امور نے کرنا ہے، تعلیم کی وزارت نے یا وزات داخلہ نے۔ جبکہ مدارس کے سب سے بڑے نیٹ ورکس چلانے والے فضل الرحمن جیسے لوگ حکومت کے اہم ترین اتحادی ہیں۔

۔ 11 ۔۔۔ میڈیا وغیرہ سے دہشت گردوں کو پرکشش بنانے کا عمل روکنا۔

میڈیا میں تو پاک فوج کے خوف سے یہ عمل کم ہو گیا ہے لیکن جب بات دہشت گردوں کے سہولت کاروں کی آتی ہے تو آج بھی نہ صرف میڈیا بھرپور انداز میں انکا موقف پیش کرتا ہے بلکہ میڈیا پر آکر وہ دھڑلے سے آپریشن کرنے والی رینجرز اور پاک فوج کو تنقید کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں۔
بلوچستان کے بعد اب کے پی کے اور فاٹا میں بھی مسنگ پرسنسز کے نام سے دہشت گردوں کے لیے ہمدردیاں جمع کی جا رہی ہیں۔
حکومت اور اسکے ماتحت کام کرنے والی پیمرا اس پر کوئی ایکشن نہیں لے رہی۔اسی طرح سوشل میڈیا اور مساجد کے منبروں پر بھی یہ کام بدستور جاری ہے۔
ہاں دہشت گردوں کو بے نقاب کرنے والے احسان اللہ احسان کا انٹرویو فوراً بند کر دیا گیا۔

۔ 12۔۔۔ فاٹا میں ریفارمز۔

یہ پاک فوج کا ایک اہم مطالبہ تھا جسکا حکومت نے وعدہ کیا تھا۔ اس کے تحت فاٹا کو صوبہ کے پی کے میں شامل کیا جانا تھا۔ ایف سی آر کا خاتمہ اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں تباہ ہونے والے املاک کی ازسر نو تعمیر تھی۔
اس سہانے خواب پر جمہوری حکومت کی جانب سے زیرو کام کیا گیا۔ بلکہ فضل الرحمن اور اچکزئی صاحب کی مداخلت سے یہ معاملہ بلکل متنازع ہوکر بند کر دیا گیا۔ دہشت گردی سے متاثرہ وزیرستان کے لوگوں کے لیے فنڈز تک منظور نہیں کیے جا سکے۔ ان لاکھوں متاثرین کی دیکھ بھال اور وزیرستان میں ممکن حد تک انفرسٹرکچر کی تعمیر پاک فوج محض اپنے بل بوتے پر کر رہی ہے جس کا اعتراف سلیم صافی جیسے فوج مخالف صحافی نے بھی کیا۔

<<< Next Article     Previous Article >>>

 

۔ 13 ۔۔۔۔ دہشت گردوں کے کمیونیکشن نیٹ ورکس ختم کرنا۔

پاک فوج اور ہماری اینٹلی جنس ایجنسیوں نے اس پر کام کرتے ہوئے حیرت ناک کامیابی حاصل کی اور نہ صرف پورے پورے نیٹ ورکس پکڑے گئے بلکہ تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے کل بھوشن کی صورت میں دہشت گردوں کے نیٹ ورک چلانے والے انڈین اینٹلی جنس کے اعلی ترین آفیسرز بھی پکڑے گئے۔
احسان اللہ احسان اور لطف اللہ محسود جیسے دہشت گردوں کے کمانڈرز پکڑے گئے۔
سول حکومت سے توقع کی جارہی تھی کہ اب وہ یہ معاملہ بھرپور انداز میں انڈیا اور ایران کے سامنےاٹھائی گی بلکہ اقوام عالم کے سامنےبھارت کا چہرہ بے نقاب کرے گی۔ لیکن وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی زبان سے کل بھوشن کا نام تک نہیں نکلا۔

۔ 14 ۔۔ انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکنا۔

اس پرآج بھی کھل کر دہشت گرد اور پاکستان دشمن اپنے نظریات کی پرچار کر رہے ہیں۔ جسکا تاحال کچھ نہیں ہوا۔ تاہم حکومت پر تنقید کے خلاف کچھ عرصہ پہلے نہایت تیزی سے سائبر کرام بل منظور کر لیا گیا۔

۔ 15 ۔۔ پنجاب کے اندر سے عسکریت پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا۔

پنجاب کے کئی علاقوں اور اندروں سندھ میں پاک فوج اور رینجرز کو ن لیگی حکومت آپریشن کرنے کی اجازت ہی نہیں دے رہی۔ اب شائد کچھ مشروط سی اجازت ملی ہے کچھ مخصوص علاقوں میں۔ لیفٹننٹ جنرل طارق کے مطابق زیادہ تر ” دہشت گردوں کا مائنڈ سیٹ جنوبی پنجاب میں بنایا جاتا ہے اور وہیں سے سب سے زیادہ بھرتیاں کی جاتی ہیں جبکہ سندھ سے فنڈز آتے ہیں۔”

۔ 16 ۔۔ کراچی میں آپریشن۔

اس پر رینجرز اور پاک فوج پوری تندہی سے عمل کر رہی ہیں اور اس کے تحت جتنی بھی گرفتاریاں ہوئیں سب کی پشت پر سیاسی و جمہوری قوتیں برآمد ہوئیں۔ جنہوں نے اب اس آپریشن کو ہی متنازعہ بنا دیا ہے۔ ڈاکٹر عاصم اور عزیر بلوچ کا معاملہ لٹکا دیا گیا ہے۔ نائن زیرو پر چھاپے میں دو درجن دہشت گرد پکڑے گئے تھے ان کا ابھی تک کچھ نہیں ہوسکا ہے۔ بہت سوں کی عدلیہ نے قبل از گرفتاری ضمانتیں منظور کر لیں۔ عدالت میں گرینڈ پھٹ جاتے ہیں لیکن پھر بھی کچھ ” ثابت ” نہیں ہورہا۔ حکومت نے پاک فوج کی مدد کے لیے ایک کمیٹی بنانے کا وعدہ کیا تھا جس کا چار سال بعد بھی کوئی اتا پتا نہیں ہے۔

۔ 17 ۔۔ بلوچستان میں مفاہمت۔

اس پرجنرل ناصر جنجوعہ صاحب نے بے پناہ کام کیا اور بے شمار بلوچون کو قومی دھارے میں واپس لایا گیا۔ لیکن جہاں تک ان بلوچوں کی محرومیاں دور کرنے کی بات ہے تو حالت یہ ہے کہ صوبائی وزیر خزانہ کے سیکٹری کے گھر سے 70 کروڑ روپے نقد برآمد ہو رہے ہیں۔ بلوچوں کے حقوق خود وہیں کے منتخب لوگ کھا گئے۔ اگر یہی حال رہا تو آگے کیا ہوگا؟

۔ 18 ۔۔ فرقہ ورانہ تنظیموں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا عہد۔

کیا اس پر آپ نے کسی پیش رفت کے بارے میں سنا ہے؟ ابھی تک صفر ہے۔ فرقہ پرستی پر بنی کچھ جماعتوں کے سیاسی ونگ بھی ہیں جو حکومت کے کافی قریب ہیں۔

۔ 19 ۔۔ افغان مہاجرین کا مسئلہ حل کرنا۔

اس معاملے میں صرف پاک فوج اور کے پی کے میں قائم پی ٹی آئی کی حکومت ہی کام کر رہی ہے اور افغان مہاجرین کی باعزت اور جلد واپسی پر کام ہو رہا ہے۔ جبکہ حکومتی جماعت کے تینوں اہم ترین اتحادی مولانا فضل الرحمن، محمود اچکزئی اور اسفند یار والی افغان مہاجرین کی واپسی کی مخالفت کر چکے ہیں۔ بلکہ محمود اچکزئی تو صوبہ کے پی کے کو افغانستان کا صوبہ قرار دے چکا ہے۔

۔ 20 ۔۔ عدلیہ یا جسٹس سسٹم کی تشکیل نو۔

اس پر کوئی کام نہیں ہوا ہے اور عدلیہ ہی پاکستان میں تمام مسائل کی جڑ ہے۔ صرف عدالتیں ٹھیک ہوجائیں تو ہر قسم کی کرپشن، بد انتظامی اور جرم کو روکا جا سکتا ہے۔ لیکن 5 سال پورے ہوگئے ابھی تک اس معاملے میں حکومت کی طرف سے پہلا قدم بھی نہیں اٹھایا جا سکا۔

نیشنل ایکشن پلان کے صرف ان ہی حصوں پر کام ہو سکا ہے جو پاک فوج نے کرنے تھے۔ جمہوری حکومت کے حصے کا کام چار سال بعد بھی صفر کا صفر ہے۔ منتخب جمہوری حکومت نے ابھی تک کمیٹیاں بنانے، اجلاس کرنے، دعوے کرنے، بیان بازیاں کرنے اور بھاری بھرکم تنخواہوں پر نئے نئے وزیر اور مشیر بھرتی کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔

پاکستان میں دہشت گردی ایک نہایت پیچیدہ معاملہ ہے جس میں دنیا بھر کی بڑی بڑی طاقتیں ملوث ہیں اور انکی مدد پاکستان کے اندر سے کئی مذہبی اور سیاسی گروہ کر رہے ہیں۔ اس جنگ کے بے شمار پہلو ہیں اس لیے اس سے نمٹنے کے لیے پاک فوج کے مشورے سے یہ نیشنل ایکشن پلان مرتب کیا گیا تاکہ سارے پہلوؤں کا احاطہ کیا جاسکے۔

پاک فوج کے ذمے اس پلان کا سب سے مشکل حصہ تھا جو اس نے اپنا خون دے کر بخوبی پورا کیا۔ اسی کا نتیجہ ہے جو آپ ملک میں کسی حد تک امن و آمان دیکھ رہے ہیں۔ لیکن جو حصہ منتخب جمہوری حکومت نے کرنا تھا اس پر ایک فیصد کام بھی نہیں ہوا بلکہ الٹا پاک فوج کے راستے میں بھی مختلف رکاؤٹیں حائل کی جا رہی ہیں جنکا مشاہدہ آپ کر رہے ہیں۔

سچائی یہ ہے کہ پاکستان کی جمہوری قوتیں نیشنل ایکشن پلان کو دفن کر چکی ہیں۔ اگر صورت حال یہی رہی تو 6 لاکھ تو کیا 60 لاکھ کی فوج بھی یہ دہشت گردی ختم نہیں کروا سکے گی۔

تحریر شاہدخان

<<< Next Article     Previous Article >>>

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here