نواز شریف اور انڈیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  آخری حصہ 

0
55

نواز شریف اور انڈیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  آخری حصہ 

۔ 3 مئی 2018ء کو نواز شریف نے احتساب عدالت کی سیڑھیوں پر کھڑے ہوکر کہا کہ ” میرے سینے میں بہت راز ہیں، ان کے افشا ہونے سے پہلے سدھر جائیں”

چند دن پہلے نواز شریف نے ڈان نیوز سے اپنا انٹرویو لینے کی فرمائش کی۔
سیرل المیڈا کو خصوصی طور پر بلوا کر جو انٹرویو دیا اس کا مندرجہ ذیل حصہ پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بن گیا۔

” پاکستان میں دہشت گرد تنظیمیں متحرک ہیں، آپ انہیں غیر ریاستی عناصر کہیں، لیکن کیا ہمیں ان کو سرحد پار جاکر 150 افراد کو قتل کرنی کی اجازت دینی چاہیے تھی؟ ہم ان کے خلاف مقدمات کیوں ختم نہیں کر پا رہے؟ ” ( تین بار وزیراعظم رہنے والے اس دلال کو اتنا نہیں علم کہ انڈیا شواہد اور ثبوت فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں اس لیے مقدمات ختم نہیں ہو رہے )

نواز شریف نے جو بیان دیا انڈیا عالمی برادری کے سامنے پاکستان کے خلاف بلکل یہی موقف پیش کر رہا ہے۔

نواز شریف کے سپورٹرز نے کہا کہ نواز شریف کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔
لیکن اگلے ہی دن نواز شریف نے اپنے بیان کی تصدیق کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ان کا بیان بلکل صحیح شائع کیا گیا ہے۔

نواز شریف اور انڈیا  حصہ اؤل

نواز شریف اور انڈیا   حصہ دوم

جواباً پاک فوج نے وزیراعظم کو قومی سلامتی کا اجلاس طلب کرنے کی تجویز دی جس کو قبول کر لیا گیا۔ اس کانفرنس میں ریاست پاکستان نے متفقہ طور پر نواز شریف کا بیان مسترد کردیا۔ البتہ مریم اورنگزیب نے اس کانفرنس کا بیانیہ پی ٹی وی پر نشر ہونے نہیں دیا۔
اگلے دن وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کمال ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوبارہ فرمایا کہ کہ نواز شریف کا بیان توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے اور وہ آج بھی میرے وزیراعظم ہیں۔

اس بیان کے بعد مریم نواز نے بیان جاری کیا کہ ڈان لیکس والی خبر بلکل درست تھی اور پرویز رشید کو سزا دینا غلط تھا۔
یہ امر ملحوظ رہے کہ دونوں بار ڈان اخبار اور سیرل المیڈا صحافی استعمال ہوا۔

انڈیا اس وقت پوری طاقت سے اقوام عالم کے سامنے اس بیان کا ڈھونڈورا پیٹ رہا ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انڈیا اس بیان کو لے کر پاکستان کے خلاف اقوام متحدہ میں جائے گا۔

یہ بیان ایک نہایت خطرناک وقت میں دیا گیا ہے۔
صرف چند دن بعد پاکستان کے حوالے سے فیصلہ کیا جانا ہے کہ پاکستان کو دہشت گرد ممالک کی عالمی واچ لسٹ میں شامل کیا جائے یا نہیں؟
نواز شریف کے اس بیان کے بعد پاکستان کے گرے لسٹ میں شامل ہونے کے امکانات قوی ہوگئے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پاکستانیوں کو ویزوں، رقوم کی منتقلی اور بیرونی ممالک کے ساتھ تجارت میں شدید مشکلات پیش آئنگی۔

اس وقت پاکستان کے ساری سرحدیں ایکٹیو ہیں۔ افغانستان اور انڈیا مسلسل پاکستانی سرحدوں پر حملے کر رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا سے معاہدہ کر کے پوری توجہ پاکستان پر مرکوز کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان کی فوجی امداد بند ہے، امریکہ میں پاکستانی سفیروں کی نقل و حمل پر پابندی لگ چکی ہے اور پاکستان میں ایسے گروہ متحرک کر دئیے گئے ہیں جو پاکستان کو ظالم ریاست قرار دیتے ہوئے کھل کر پاکستان کے خلاف اقوام متحدہ، امریکہ، انڈیا حتی کہ اسرائیل تک سے فوجی کراوائی کرنے کی درخواست کر رہے ہیں۔

نواز شریف اور انڈیا  حصہ اؤل

نواز شریف اور انڈیا   حصہ دوم

ان گروہوں میں اس وقت لبرلز کے جھنڈے تلے چلنے والی ” پشتین تحریک ” ٹاپ پر ہے۔

اس تحریک کے حوالے سے بھی نواز شریف کا کردار خاصا مشکوک ہے۔
نواز شریف حکومت نے آئی ڈی پیز کو کسی طرح کی مدد فراہم نہیں کی نہ ہی ان کی واپسی کے بعد وزیرستان میں تعمیر نو کا کوئی کام کیا۔ سوائے اس کے جو پاک فوج اپنے بل بوتے پر کرتی رہی۔ یوں ان کی بڑی تعداد ناراض ہوگئی۔
نواز شریف کے اہم ترین اتحادی فضل الرحمن اور محمود اچکزئی مسلسل دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کو قبائل کے خلاف آپریشن قرار دیتے رہے۔
پاک فوج نے فاٹا کے تمام مسائل کا حال فاٹا اصلاحات کی شکل میں پیش کیا جس کی نواز شریف کے دونوں اتحادیوں محمود اچکزئی اور فضل الرحمن نے شدید مخالفت کی۔ یوں فاٹا اصلاحات پر عمل نہیں کروایا گیا۔
جب نقیب اللہ قتل ہوا تو نواز حکومت زرداری کے دست راست راؤ انوار کی گرفتاری میں پس و پیش سے کام لیتی رہی۔
نقیب اللہ کو لے کر پشتین تحریک اٹھی تو نواز حکومت نے ایک بار بھی ان سے بات چیت کرنے کی کوشش نہیں کی، حالانکہ تحریک کی سرکردگی نواز شریف کا دست راست محمود اچکزئی کر رہا تھا۔
الٹا نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے نہ صرف اس تحریک کے نعرے ” دہشت گردی کے پیچھے وردی ہے ” کو سپورٹ کرنے کا اعلان کیا بلکہ اپنے تیس ہزار کارکن بھی ان کے جلسے میں شرکت کرنے کے لیے بھیجنے کا وعدہ کیا۔

مذکورہ تحریک کی قیادت پاکستان کا باغی لادین اور لبرل طبقہ کر رہا ہے جن پر مغرب خصوصی طور پر مہربان ہے۔ اس لیے وہ دنیا بھر میں پاکستان کے خلاف جلسے کر رہے ہیں اور پاکستان کو ایک دہشت گرد ریاست کے طور پر پیش کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف اقوام عالم سے کروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اگر پاکستان کےخلاف عالمی دباؤ بڑھتا ہے تو نواز شریف کو اس کا فوری فائدہ یہ ہوگا کہ اس کی دنیا بھر میں اربوں ڈالر کے اثاثے محفوط ہوجائینگے اور نواز شریف دنیا کو بتائگا کہ درحقیقت ریاست پاکستان کی اس کے خلاف کاروائی اسکی دہشت گردی کے خلاف موقف کی وجہ سے ہے نہ کہ کرپشن کی وجہ سے۔

اگر پاکستان کے خلاف کوئی بہت بڑی فوجی کاروائی عمل میں لائی جاتی ہے تو یہ سونے پہ سہاگہ والی بات ہوگی۔

یہ ظالم انسان محض اپنے چند ٹکوں کے لیے پوری ریاست کو برباد کر دینا چاہتا ہے اور محض اپنی جان بچانے کے لیے 22 کروڑ لوگوں کو مروانا چاہتا ہے۔

میر جعفر اور میر صادق غدار تھے لیکن انہوں ایک چھوٹی سی ہاری ہوئی ریاست کے خلاف غداری کی تھی جو اس خطے میں برطانیہ کے خلاف مسلمانوں کی دم توڑتی ہوئی آخری مزاحمت تھی۔

لیکن نواز شریف جو غداری کر رہا ہے وہ عالم اسلام کے سب سے مضبوط قلعے میں نقب لگا رہا ہے۔ یہ نقب صرف پاکستان میں بسنے والے 22 کروڑ مسلمانوں کو ہی متاثر نہیں کرے گی بلکہ پاکستان کی ایٹمی قوت کی وجہ سے سعودی عرب، ترکی حتی کہ ایران تک کو جو تقویت ملتی ہے وہ بھی ختم ہوجائیگی اور دنیا بھر کے مسلمان ہل کر رہ جائنگے۔

نواز شریف مسلمانوں کی تاریخ کا سب سے بڑا غدار ہے!

تحریر شاہدخان

نواز شریف اور انڈیا  حصہ اؤل

نواز شریف اور انڈیا   حصہ دوم

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here