نواز شریف اور انڈیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  حصہ دوم

0
508
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نواز شریف اور انڈیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  حصہ دوم

مئی 2013ء میں نواز شریف نے انڈین وزیراعظم من موہن سنگھ کو اپنی تقریب حلف برداری میں شرکت کرنے کی دعوت دی لیکن اس نے شرکت کرنے سے معذرت کر لی۔

مئی 2014ء میں نواز شریف گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کے قاتل اور پاکستان دشمنی کے نعرے پر ووٹ لینے والے نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں شرکت کرنے کے لیے خصوصی طور پر دہلی پہنچا۔

نریندر مودی نے حلف اٹھاتے ہی سارے کام چھوڑ کر پاکستان کے خلاف پوری دنیا میں نہایت جارحانہ سفارت کاری شروع کردی۔ جواباً نواز شریف نے پاکستان کا وزیرخارجہ مقرر نہ کرنے کا حیران کن فیصلہ کیا یوں نریندر مودی کے لیے میدان بلکل خالی چھوڑ دیا۔
البتہ جاتے جاتے خواجہ آصف کو وزیرخارجہ مقرر کیا جس نے واحد کارنامہ یہ سرانجام دیا کہ امریکہ جاکر بیان داغ دیا کہ ” حافظ سعید پاکستان سے باہر دہشت گردی کرتا رہا ہے اور ہمیں اپنا گھر صاف کرنے کی ضرورت ہے”

نواز شریف اور انڈیا  حصہ اؤل

نواز شریف اور انڈیا  آخری حصہ

نواز شریف نے اپنے دورہ انڈیا کے دوران کشمیری حریت لیڈروں سے ملنے سے انکار کر دیا حالانکہ پاکستانی سربراہان انڈیا دورے میں یہ ملاقاتیں ضرور کرتے ہیں۔
کشمیر کمیٹی کا چیرمین فضل الرحمن کو مقرر کیا جو 2002ء میں مسئلہ کشمیر کو علاقائی تنازع قرار دے چکا ہے اور کشمیری مجاہدین کو دہشت گرد۔
نواز شریف کی آمد کے بعد انڈین فوج کا کشمیریوں پر ظلم کئی گنا بڑھ گیا اور کشمیریوں کو جانوروں کا شکار کرنے والی پیلٹ گنوں سے نشانہ بنایا جانے لگا، جواباً کشمیریوں کی تحریک آزادی بھی عروج پر پہنچ گئی۔
لیکن نواز شریف نے سوائے اقوام متحدہ میں ایک رسمی بیان جاری کرنے کے کشمیر کے لیے سفارتی محاذ پر ایک لفظ تک نہیں بولا۔

۔۔ 2014ء میں راحیل شریف نے نواز شریف کو ایک آڈیو سنائی جس میں ایک انڈین جنرل ٹی ٹی پی کے امیر فضل اللہ کو ہدایات دے رہا تھا۔ یہی آڈیو امریکن سفیر کو بھی سنائی گئی تھی۔
بلوچ فراریوں نے ہتھیار ڈال کر اعتراف کیا کہ انڈیا ان کو پاکستان میں دہشت گردی کرنے کے لیے سپورٹ کر رہا ہے۔
اسی طرح فاٹا اور کراچی میں پکڑے جانے والے دہشت گردوں نے بھی یہی بیانات دئیے۔
نواز شریف کو پاک فوج نے تمام شواہد پر مبنی ایک ڈوسئیر بنا کر دیا تاکہ انڈیا کے خلاف اقوام متحدہ میں اپنا کیس جمع کروا سکیں۔ لیکن نواز شریف اپنے وعدے سے مکر گیا اور وہ ڈوسئیر تاحال جمع نہیں کروایا جا سکا۔

جون 2014ء میں مودی کی والدہ کے لیے ساڑھی اور آموں کا تحفہ بھیجا۔

جنوری 2015ء میں انڈین قومی سلامتی کے مشیر اور نریندر مودی کے بعد انڈیا کی سب سے طاقتور شخصیت اجیت ڈاوول نے بیان جاری کیا کہ ہم پاکستان میں دہشت گردی کریں گے، اس کے لیے دہشت گردوں کو دگنی رقم دینگے اور کانٹے سے کانٹا نکالیں گے۔
جون 2015ء میں نریندر مودی نے بنگلہ دیش جاکر برملا اعتراف کیا کہ ہم نے بنگالیوں کے ساتھ ملکر پاکستان توڑا۔
اسی سال نریندر مودی اور اجیت ڈاؤول نے پاکستان کو توڑ کر بلوچستان الگ کرنے کے بیانات بھی جاری کیے اور کہا کہ بلوچستان ہمیں پکار رہا ہے۔ لیکن جواباً نواز شریف مکمل طور پر خاموش رہا۔

دسمبر 2015ء میں نریندر مودی اجیت کمار ڈاوؤل کے ہمراہ اچانک نواز شریف کی نواسی کی شادی میں شرکت کرنے ان کے گھر جاتی امراء پہنچ گئے۔ سرخ قالین بچھا کر ان کا استقبال کیا گیا اور نواز شریف ان کو ریسیو کرنے اور چھوڑنے ائر پورٹ تک گئے۔

مارچ 2016ء میں پاک فوج نے ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کے موقع پر انڈین جاسوس کل بھوشن یادیو کی گرفتاری ظاہر کی جو چاہ بہار سے آپریٹ کر رہا تھا۔
نواز شریف نے ایرانی صدر کے ساتھ اس پر بات تک نہیں کی۔
کل بھوشن یادیو نے اعتراف کیا کہ فاٹا سے کراچی تک پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی پشت پناہی انڈیا کر رہا ہے۔
نواز شریف نے کل بھوشن کا معاملہ عالمی برادری کے سامنے اٹھانا تو درکنار اس کا نام تک لینا پسند نہ کیا۔
نواز شریف کل بھوشن کو آج بھی دہشت گرد قرار دینے کے لیے تیار نہیں وہ اس کے لیے “جاسوس” کا لفظ استعمال کرتا ہے۔
یوں جاسوسی کی جدید تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی کو خاک میں ملا دیا۔

نواز شریف اور انڈیا  حصہ اؤل

نواز شریف اور انڈیا  آخری حصہ

کل بھوشن کے معاملے میں انڈیا مئی 2017ء میں عالمی عدالت پہنچا۔ پاکستان کے پاس آپشن تھی کہ عالمی عدالت کی ثالثی ماننے سے انکار کردیتا۔ لیکن نواز شریف نے نہ صرف یہ ثالثی قبول کر لی بلکہ پاکستان کی جانب سے وکیل تک نہیں کیا۔
پاک فوج کو عین آخری لمحات عجلت میں وکیل بھیجنا پڑا۔
عالمی عدالت نے کل بھوشن کی سزا پر انڈیا کو پاکستان کے خلاف سٹے دے دیا۔

ٹائمز آف انڈیا نے فروری 2016ء میں انکشاف کیا کہ نواز شریف کی آمد کے بعد صرف تین سال کے عرصے میں پاکستان سے انڈیا 14 ارب ڈالر کی رقوم منتقل کی گئیں ہیں۔ کس کھاتے میں؟ یہ آج تک واضح نہیں ہوسکا!
خیال رہے کہ نواز شریف کی آمد سے قبل پاکستان سے انڈیا کسی قسم کی رقوم نہیں بھیجی جاتی تھیں۔

اپریل 2016ء میں ایک انڈین دفاعی تجزیہ نگار نے ٹی وی پر آکر برملا اعتراف کیا کہ ہم نے نواز شریف پر سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور ہم اس کو ضرور بچائنگے۔ اس وقت نواز شریف پر پانامہ کا گھیرا تنگ ہورہا تھا۔

ستمبر 2016ء میں طاہرالقادری نے نواز شریف کی شوگر ملوں میں انڈین جاسوسوں کی موجودگی کا انکشاف کیا۔ جس کے فوراً بعد ان جاسوسوں کی تصاویر اور ویزا فارمز سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں۔

اکتوبر 2016ء میں ڈان اخبار میں سیرل المیڈا کے توسط سے مضمون چھپا جس میں پاکستان اور پاک فوج کو خطے میں دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دیا گیا اور یہ کہ نواز شریف پاک فوج کو دہشت گردی سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔
خبر کے تانے بانے پرویز رشید سے ہوتے ہوئے مریم نواز اور نواز شریف تک جا رہے تھے۔ دونوں نے خبر کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے پرویز رشید کو عہدے سے ہٹا دیا۔
ڈان لیکس عین اس وقت کی گئیں جب انڈیا پوری دنیا میں کشمیریوں کے خلاف پیلٹ گنیں استعمال کرنے کی وجہ سے دباؤ میں تھا۔ ڈان لیکس کے بعد وہ معاملہ پس منظر میں چلا گیا۔

اپریل 2017ء میں احسان اللہ احسان نے خود کو پاک فوج کے حوالے کر دیا۔ جس کے بعد اس کا ایک سنسنی خیز انٹرویو نشر کیا گیا۔
اس انٹرویو میں اس نے نہ صرف ٹی ٹی پی اور جماعت الحرار کی پشت پر انڈیا کی موجودگی کا پول کھولا بلکہ یہ بھی بتایا کہ بلوچ فراریوں کی طرح ٹی ٹی پی کے بہت سے لوگ ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار ہیں اگر ان کو واپسی کا راستہ دیا جائے۔
سلیم صافی نے احسان اللہ احسان کا ایک نسبتاً زیادہ تفصیلی انٹرویو نشر کرنے کا اعلان کیا جس میں دہشت گردوں، را اور این ڈی ایس میں موجود تعلق کے حوالے سے مزید انکشافات کیے جانے تھے۔
لیکن وہ انٹریو شائع ہونے سے قبل ہی اچانک انڈین بزنس ٹائکون اور افغان معاملات کے حوالے سے خصوصی طور پر متحرک سجن جندال بغیر کسی ویزے کے پاکستان پہنچا اور مری میں نواز شریف سے چند گھنٹوں کی ایک خفیہ ملاقات کی۔
ملاقات کی تفصیلات کبھی منظر عام پر نہیں آسکیں لیکن اس ملاقات کے فوراً بعد نواز شریف کے حکم پر احسان اللہ احسان کا تفصیلی انٹرویو شائع کرنے سے روک دیا گیا۔
یوں دباؤ میں آئے ہوئے انڈیا کو ریلیف مل گیا۔

انڈیا کو پاکستانی ڈیموں پر ہمیشہ اعتراض رہا ہے۔
نواز شریف نے پہلے زرداری کے ساتھ ملکر کالاباغ ڈیم کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد دیا میر بھاشا پر کام مکمل طور پر رکوا دیا۔
پرویز مشرف کا نیلم جہلم ڈیم 2009ء میں مکمل ہونا تھا، اس پر کام سست کروا کر 2018ء تک کھینچ لیا اور چند ماہ پہلے اسی ڈیم پر کھڑے ہو کر انڈیا سے بجلی خریدنے کا اعلان کیا۔

پاک ایران چین گیس پائپ لائن پر بھی انڈیا کو شدید تحفظات تھے، وہ منصوبہ بھی نواز شریف نے ہی معطل کروایا تھا۔

نواز شریف کا دعوی ہے کہ وہ انڈیا کے ساتھ تعلقات ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن سچائی یہ ہے کہ سوائے انڈین الزامات کو تقویت دینے کے ایسی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔
پاکستان کے انڈیا کے ساتھ تعلقات کس حد تک ٹھیک ہو چکے ہیں اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہےکہ نواز شریف کے دور حکومت میں انڈیا نے ایل او سی پر جتنے حملے کیے ہیں اتنے پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں کیے۔
یہ حملے تب خاص طور پر بڑھ جاتے ہیں جب نواز شریف پر دباؤ بڑھتا ہے۔

جاری ہے۔۔۔۔

تحریر شاہدخان

نواز شریف اور انڈیا  حصہ اؤل

نواز شریف اور انڈیا  آخری حصہ

اگلے حصے میں ان شاءاللہ نواز شریف اور پی ٹی ایم کی تحریک اور پاکستان پر حالیہ الزام کے حوالے سے بات کرینگے۔۔۔۔۔


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here