نواز شریف اور انڈیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  حصہ اؤل 

0
462

نواز شریف اور انڈیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  حصہ اؤل 

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے جاوید چودھری کے پروگرام میں انکشاف کیا تھا کہ نواز شریف انڈین دھماکوں کا جواب دینے کی اجازت نہیں دے رہا تھا تب میں نے ان کو ایک دھمکی آمیز خط لکھا کہ ۔۔۔
” اگر آپ نے دھماکے نہیں کیے تو قوم آپ کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔ سارے سائنسدان پریس کانفرنس کے ذریعے عوام کو بتادینگے کہ ہمارے پاس کب سے تیار پڑا ہے، ہم نے آپ کو فیل نہیں کیا بلکہ آپ کے حکمران نے آپ کو فیل کردیا “
ڈاکٹر قدیر کی اس دھمکی کے بعد نواز شریف کے پاس کوئی چارہ نہیں رہا۔
تمام اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت نے بھی ایٹمی دھماکوں کے لیے دباؤ ڈالا جس کا بدلہ نواز شریف نے دھماکوں کے فوراً بعد ان سے استعفے کی صورت میں لے لیا۔

کشمیر کی چوٹیوں پر دونوں افواج سخت سردیوں میں نیچے اتر آتی تھیں۔
۔ 84ء میں انڈین افواج بظاہر گلیشیر سے اترنے کے بعد نہایت خاموشی سے دوبارہ واپس چلی گئیں اور ان چوکیوں پر قبضہ کر لیا جو پاک فوج نے خالی کی تھیں۔
جواباً ایک طویل اور صبر آزما انتظار کے بعد 99ء میں پاک فوج نیچے اترنے کے بعد دوبارہ واپس گئی اور انڈیا کی خالی کی گئی تمام چوٹیوں پر قبضہ کر لیا۔
اس قبضے کے نتیجے میں سیاچن اور لداخ میں موجود انڈیا کی بہت بڑی فوج محصور ہوگئی اور ان کے لیے جانے والی اکلوتی سپلائی لائن پاکستان کے نشانے پر آگئی۔ بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانے کے باؤجود انڈیا چوٹیوں کا قبضہ واپس لینے میں ناکام رہا۔
اسی دوران انڈیا اقوام متحدہ اور امریکہ کو پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے مجبور کرتا رہا۔ بالاآخر 4 جولائی 1999 کو نواز شریف نے صدر کلنٹن سے ملاقات کے فوراً بعد پاک فوج کو کارگل کی چوٹیاں خالی کرنے کا حکم دے دیا۔ نواز شریف کے اس فیصلے کے بعد پاکستان نہ صرف ایک جیتی ہوئی جنگ ہار گیا بلکہ دوران پسپائی پاک فوج کو پشت پر کیے گئے حملوں میں بہت زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑا۔

اگست 1999 میں دو انڈین ائر کرافٹس نے پاکستانی نیوی جہاز مار گرایا جس میں نیوی کے 16 افیسرز شہید ہوگئے۔ نواز شریف نے معاملے کو یکسر نظر انداز کر دیا۔ اپنے وزیراعظم کی اس بے حسی نے نیوی پر بہت برا اثر ڈاال اور اس وقت کے نیوی ایڈمرل عبد العزیز مرزا نواز شریف کے خلاف ہوگئے۔

اکتوبر 1999ء میں گجرال نے انکشاف کیا کہ نواز شریف نے مجھے کشمیری مجاہدین کی سرگرمیوں کی خفیہ رپورٹس دیں۔

نواز شریف اور انڈیا   حصہ دوم

نواز شریف اور انڈیا  آخری حصہ

۔ 12 اکتوبر 1999 کو اس وقت کے آرمی چیف پرویز مشرف کے جہاز کو پاکستان میں اترنے کی جازت نہیں دی اور حکم جاری کیا کہ کراچی ائر پورٹ مذکورہ جہاز کے لیے سیل کر دیا جائے۔
جہاز کے کیپٹن نے ری فیولنگ کے لیے نواب شاہ ائرپورٹ پر اترنے کی اجازت مانگی تو نواز شریف نے حکم جاری کیا کہ یہ ری فیولنگ انڈیا میں کروائی جائے۔ یوں پاکستان کے حاضر سروس چیف آف آرمی سٹاف کو انڈیا بھیجنے پر تیار ہوگئے۔

۔ 2008ء میں ممبئی حملوں کے فوراً بعد نواز شریف نے کامران خان کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ” میں نے خود چیک کروایا ہے قصاب یہیں کا ہے، آخر ایسا کرنے کی ضرورت کیوں پڑی، ہمیں اپنا گھر صاف کرنے کی ضرورت ہے”

اپریل 2010ء میں پیپلز پارٹی کے ساتھ ملکر اٹھارویں آئینی ترمیم منظور کی جس نے پاکستان میں صوبائیت کو مزید بڑھاوا دیا اور مرکز کو کمزور کیا۔ جس کے بعد انڈیا کے لیے پاکستان میں صوبائی قوم پرستی کو ابھارنا مزید آسان ہوگیا۔

اگست 2011ء میں اپنا مشہور زمانہ بیان جاری فرمایا کہ ۔۔۔
” ہماری زبان‘ کلچر ایک ہے‘ صرف سرحد کی ایک لکیر درمیان میں آ گئی‘ ورنہ جس رب کو بھارتی پوجتے ہیں‘ ہم بھی اسی کو پوجتے ہیں “

نواز شریف اور انڈیا   حصہ دوم

نواز شریف اور انڈیا  آخری حصہ

اسی بیان میں مزید فرمایا کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
” واجپائی ٹھیک کہتے ہیں، ہم نے انڈیا کی پیٹھ میں چھرا مارا یہ سب جانتے ہیں، بھارت نے تو کارگل کا انکوائری کمشن بنا دیا لیکن یہاں کیا کہیں کہ کون آج تک کارگل کی انکوائری نہیں ہونے دے رہے ہیں”

۔ 2013ء کے انتخاب میں عمران خان کی بے پناہ مقبولیت کے باؤجود نواز شریف حیران کن طور پر بھاری مارجن سے جیت گیا، معید پیرزادہ نامی مشہور اینکر نے دعوی کیا کہ نواز شریف کو جتوانے کے پیچھے انڈیا اور انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ ہے اور آنے والے دنوں میں نواز شریف انڈیا اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کے مفادات پورے کرے گا۔
معید پیرزادہ کا یہ دعوی کس حد تک درست ثابت ہوا اس کا جائزہ اگلے حصے میں لیں گے!

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر شاہدخان

نواز شریف اور انڈیا   حصہ دوم

نواز شریف اور انڈیا  آخری حصہ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here