ملالہ اب ہماری نہیں رہی – محمد حسان

0
110

حفصہ … حفصہ جلدی آؤ اِدھر .. ملالہ کے لیے واکس پاپس کرکے لاؤ جلدی سے۔

ملالہ کو نوبل پرائز ملنے کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل چکی تھی، پاکستان کے لیے اتنے بڑے اعزاز کی بھرپور پذیرائی کے لیے میڈیا آفسز میں دوڑیں لگی ہوئی تھی، کچھ ہی دیر قبل فون کی تیز گھنٹی بجی تو دوسری جانب سے ملالہ کے لیے واکس پاپس کروانے کا کہا گیا تھا

میڈیا کی اصطلاح میں واکس پاپس “عوامی رائے” کو کہتے ہیں۔ اس میں دلچسپ پہلو یہ ہے کہ عوام کو دکھائی جانے والی عوامی رائے وہی ہوتی ہے جو ادارہ اپنی پالیسی کے مطابق دکھانا چاہتا ہے۔ اپنی مرضی کے سوال پر مرضی کا جواب کچھ لوگوں سے حاصل کر کے سارے عوام کو یہ باور کروایا جاتا ہے کہ تم سب یہی چاہتے ہو اور ہم عوام کی ترجمانی کر رہے ہیں۔

ملالہ کے حق میں واکس پاپس کا مطلب تھا کہ ایسی باتیں جن میں لوگ ملالہ کو پاکستان کا بہترین اثاثہ قراردیں، اسے قابل فخر گردانیں اور بتائیں کہ اس خبر سے ان کا سر فخر سے بلند ہوگیا ہے اور عوام خوشی سے پھولے نہیں سما رہے۔

خبرنامہ کے وقت میں ڈیڑھ گھنٹہ باقی تھا اور میں نے فی میل رپورٹر حفصہ عثمان کو بلایا اور کہا کہ جلدی سے کیمرہ مین لے جاؤ اور واکس پاپس کر کے فورا آجاؤ تاکہ بروقت خبرنامہ میں چیزیں شامل ہو جائیں۔ میں حیران ہوا رپورٹر کی یہ بات سن کر جب اس نے کہا کہ سر! اتنی جلدی ممکن نہیں ہے، ملالہ کے حق میں بولنے کے لیے لوگوں کو قائل کرنا پڑتا ہے، میں پہلے بھی ایسا تجربہ کر چکی ہوں۔ میں نے کہا کہ حد ہے۔ ملالہ پر تنقید تو مولویوں کا کام ہے، باقی تو سب اس کے گن گاتے ہیں۔ تو کہنے لگی نہیں! مولویوں کی بات نہیں، زیادہ تر لوگ اس کے خلاف ہی بولتے ہیں۔ میں نے فوراً آئیڈیا دیا کہ ایسا کرو، کنیئرڈ کالج چلی جاؤ، وہاں ایلیٹ کلاس کی لڑکیاں سب ملالہ کی دیوانی ہوں گی، اور اس کے حق میں اچھا سا بولیں گی، اعلیٰ تعلیمی ادارے کی لڑکیوں کے خوبصورت چہرے اسکرین کی ڈیمانڈ بھی پورا کر دیں گے اور بلے بلے ہو جائے گی۔

حفصہ بات سن کر تیزی سے نکل گئی۔ اور میں دیگر کاموں میں لگ گیا، ایک گھنٹہ گزرنے کو آگیا رپورٹر واپس ہی نہ آئی۔ میں نے فون کیا اور غصے میں بولا کہ اتنی دیر لگا دی، جلدی واپس آؤ، تو روہانسی ہو کر کہنے لگی، سر! کنیئرڈ کالج کی لڑکیاں مجھ سے باقاعدہ لڑ پڑیں، اور کہتی ہیں کہ آپ زبردستی کیوں اپنی رائے ہم پر مسلط کر رہی ہیں، ہم جو کہنا چایتی ہیں وہی بات ریکارڈ کریں۔ میں نے انہیں بہت سمجھایا کہ یہ پاکستان کے لیے اعزاز ہے، آپ ملالہ کے حق میں دوچار جملے بول دیں مگر لڑکیاں مانتی ہی نہیں۔ اب دو تین لڑکیوں کی منت کی ہے کہ میری نوکری کا سوال ہے تو انہوں نے میرے کہے ہوئے جملے دہرا دیے ہیں، بس اب واپس آرہی ہو ۔ ویسے سر! آپ کے اس کام پر بہت ایمبیرسمنٹ ہوئی ہے میری۔

میں خود رپورٹر کی بات سن کر حیران رہ گیا، میں تو توقع ہی نہیں کر رہا تھا کہ کنیئرڈ کالج جیسے ادارے میں پڑھنے والی لڑکیاں بھی ملالہ کے بارے میں شک و شبہ کا اظہار کر سکتی ہیں۔ میرے لیے یہ نئی بات اور انہونی تھی۔ مگر جب رپورٹر واپس آئی اور اس سے قدرے تفصیل سے تبادلہ خیال ہوا تو کہنے لگی کہ سر آپ تو آفس بیٹھ کر آرڈر جاری کر دیتے ہیں، لوگوں سے تو ہم نے ملنا ہوتا ہے۔ ان کی باتیں سنیں تو پتہ چلے لوگ ملالہ کا نام سنتے ہی کتنا غصے میں آجاتے ہیں۔ میں نے ملالہ کے حق میں دلائل دیتے ہوئے پوچھا کہ لوگوں کو اعتراض کس بات پر ہے؟ تو اس کا کہنا تھا کہ سر کمال ہے، آپ کو کیوں نہیں لگتا کہ ملالہ کے ساتھ عالمی سطح پر جو ہو رہا ہے، وہ سب نیچرل نہیں ہے، اتنا پروٹوکول، اتنے ایوارڈ، اتنی مقبولیت، یہ سب اسکرپٹڈ ہے، میں نےسمجھانے کی کوشش کی تو اس نے بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ سر! میری ملالہ سے کوئی دشمنی یا خار بازی نہیں، مگر ایک بات ہے کہ جب تک وہ سوات کے اسکول میں پڑھتی رہی وہ ہماری ملالہ تھی، مگر جس دن بی بی سی میں گل مکئی کی پہلی اسٹوری چھپی، اس دن ملالہ ہم سے چھن گئی تھی۔ اس دن سے وہ کسی اور کی ملالہ بن چکی تھی، اب وہ ہماری ملالہ نہیں رہی سر، اسی لیے اس کے لیے اب ویسے دل نہیں دھڑکتا جیسے سوات کی بچی کے لیے دھڑکتا تھا۔

میں حیران تھا کہ آج کی لڑکیاں یہ کیسی باتیں کر رہی ہیں، کیونکہ میراخیال تھا کہ ملالہ کے بارے میں سازشی تھیوریز یا واضح تنقید مخصوص افراد ہی کرتے تھے، جنھیں عرف عام میں مولوی کہا جاتا تھا، رجعت پسند گردانا جاتا تھا، یا پھر سیدھا سیدھا طالبان کاحامی قرار دے کر نکو بنا دیا جاتا تھا۔ مگر اب میں حفصہ جیسی بہت سی لڑکیوں سے بات کرنے کے بعد دیکھ رہا تھا کہ ملالہ کے بارے میں کالجز اور یونیورسٹیز کی لڑکیوں کی رائے تقریبا وہی یا اس سے بھی سخت ہوچکی تھی جسے ماضی میں مولوی، رجعت پسند یا دہشت گردوں کے حامیوں کی رائے قرار دے کر سختی سے مسترد کر دیا جاتا تھا۔

اب ملالہ پانچ سال بعد اپنی زمین پر اتری ہے تو اسے اسٹیٹ گیسٹ کا درجہ دیا گیا ہے۔ رات ڈِ ی ایچ اے کلب میں امریکہ سے آئے دانشور آغا صالح سے ملاقات تھی، عزیز دوست عمر سلیم میزبان اور جناب فاروق بھٹی ہمراہ تھے۔ آغا صالح تقریبا تین دہائیوں سے امریکہ میں مقیم ہیں، اپنا ایک تھنک ٹیِنک ہے، امریکی پارلیمنٹرینز، پالیسی ساز اداروں سے ملاقاتیں رہتی ہیں۔ اپنی بیٹی کا واقعہ سناتے ہیں کہ امریکہ میں ہماری ملالہ فیملی سے ملاقات ہوئی۔ ہم بہت ایکسائیٹڈ تھے، میری بیٹی امریکہ میں ہی پیدا ہوئی، وہی پلی بڑھی، اور ملالہ کی ہم عمر بھی ہے۔ ملالہ سے ملنے کے لیے وہ بھی بہت پرجوش تھی، مگر ملاقات سے واپس آئے تو بیٹی بجھی ہوئی تھی، اور موڈ خراب تھا، ملالہ کے ساتھ بنوائی گئی تصویر بھی اس نے شیئر نہیں کی۔ کہتی ہے ملالہ صرف پپٹ ہے، جو کچھ ہے وہ اس کا باپ ہے، اور مجھے یقین ہے کہ وہ پاکستان سے مخلص نہیں ہے، میں امریکن ہوں، مگر اپنے پاکستانی باپ کی وجہ سے پاکستان میرے خون اور دل میں بستا ہے، میرا سب کچھ پاکستان ہے۔ دوسری جانب وہ پاکستانی ہو کر بھی پاکستان سے مخلص نہیں، اور نہ ہی ان کا سب کچھ پاکستان ہے۔ ایک موقع پر آغا صاحب کے پوچھنے پر فاطمہ نے کہا کہ

“Sorry Dad I don’t feel proud of Malala after meeting her”
“After meeting her I don’t feel proud of her but feel sympathetic towards her for being a victim of her father’s nefarious design.”

ہم سب آغاصالح کی بیٹی فاطمہ کی واٹس ایپ آڈیو میسیج سن کر حیران تھے۔ ملالہ سے ملنے والی اس کی ہم عمر امریکن لڑکی نے ایک ہی ملاقات اور چند سوال و جواب کر کے ساری حقیقت کس طرح کھول کر رکھ دی۔ فاطمہ کا مزید کہنا تھا کہ ملالہ کی مخالفت کی ضرورت نہیں، مغرب کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ وہ سمجھتی تھی کہ ملالہ کی حمایت یا مخالفت میں توانائیاں ضائع کرنے کے بجائے بس اپنا کام کرنا چاہیے۔ فاطمہ بھی یہ سمجھتی تھی کہ ملالہ اب ہماری نہیں رہی۔

ملاقات میں شریک فاروق بھٹی صاحب کہنے لگے کہ جب نیویارک ٹائمز کے صحافی نے ملالہ پر پہلی ڈاکومینٹری بنائی تو میں اسی وقت کھٹک گیا تھا کہ اس کو ”آئی کون” بنایا جائے گا اور پھر اس آئی کون کو ڈیمیج کیا جائے گا۔ یہ ایک خطرناک کھیل تھا مگر اس وقت ریاستی بیانیہ کی ضرورت کو پورا کرتا تھا، اس لیے کھیلا گیا۔ ملالہ ایک پروڈکٹ بن چکی تھی، سب سے پہلے اس کے باپ نے اس پروڈکٹ کو متعارف کروایا، ریاست نے اس پروڈکٹ کو اونر شپ دی، اور عالمی طاقتوں نے اس پراڈکٹ پر انویسٹمنٹ کی۔ ظاہر ہے کہ مال پر سب سے زیادہ حق اسی کا ہوتا ہے جس نے سب سے زیادہ سرمایہ لگایا ہوتا ہے۔

تو جناب پاکستانی حفصہ (جو ملالہ سے کبھی نہیں ملی) اور امریکن فاطمہ (جو ملالہ سے باقاعدہ مل چکی ہے)، دونوں ہی اس سوچ پر متفق ہیں کہ ملالہ اب ہماری نہیں رہی۔

اور میں سوچ رہا تھا کہ اس بار ملالہ پاکستان آئی، مگر آفس نے ”واکس پاپس” نہیں مانگے۔ شاید اس کی ضرورت اب ختم ہوچکی تھی، ملالہ کے واکس پاپس بےاثر ہو چکے تھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here