میجر ریٹائرڈ محمد عامر  آخری حصہ 

0
91

میجر ریٹائرڈ محمد عامر  آخری حصہ 

<<< Next article    Previous article >>>

آپریشن ضرب عضب اور افواج پاکستان کے بارے میں میجر عامر کی رائے۔

” موجودہ فوجی قیادت آئیڈیل ہے” ۔۔۔
جرگہ 27 اگست 2017ء

” آپریشن ضرب عضب کے نتائج بہت بہتر ہیں۔ کراچی میں بھی بہتر ہوئی ہے۔ بلوچستان میں بھی بہتر ہوئی ہے۔ براہمداغ بھی کہتا ہے کہ میں پاکستان کو مانتا ہوں۔ پاکستان کے روس سے تعلقات ٹھیک ہوچکے ہیں۔”
کیپٹل ٹاک 30 اگست 2015ء

“میں مزاکرات اس لیے چاہتا تھا کہ آپریشن یا آخری آپشن کو استعمال کیے بغیر مسئلہ حل ہوجائے اور مزید خونریزی نہ ہو۔ میں امن لانا چاہتا تھا جو اب ہم آپریشن کے ذریعے حاصل کر رہے ہیں۔
یہ میرا ایمان ہے کہ پاکستانی فوج سرحدون پر لڑنے کے لیے بنائی ہے۔ لیکن اب ہماری مجبوری ہے۔ جو ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھاتا ہے اس سے تو لڑنا ہے۔” ۔۔۔۔
کیپٹل ٹاک 30 اگست 2015ء

“جب فوج کہیں جاتی ہے تو کولیٹرل ڈیمیج لازمً ہوتا ہے۔ اس حوالے سے قرآن کی ایک آیت پیش کرتا ہوں مفہوم جسکا یہ ہے کہ جب بھی کسی بادشاہ کا لشکر داخل ہوتا ہے تو فساد ہوتا ہے اور عزت دار بے عزت ہوجاتے ہیں۔ یہ جنگ میں لازم ہے۔ پھر آگے اللہ فرماتا ہے کہ انے والے بھی یہی کرینگے۔
سوات میں تو جنرل کیانی نے بہت محنت کی۔ امن قائم کر دیا۔ لیکن عزت دار بے عزت ہوگئے تھے وہاں پر بھی۔” ۔۔۔۔۔۔
لائیو ود ڈاکٹر شاہد مسعود 18 اگست 2015ء

“پاکستان میں اس وقت را لڑ رہی ہے۔ ان کے ایجنٹ پکڑے جا رہے ہیں۔ انڈیا افغان اینٹلی جنس کو استعمال کر رہا ہے۔ موساد بھی یقیناً موجود ہوگی۔”
لائیو ود ڈاکٹر شاہد مسعود 18 اگست 2015ء

یعنی میجر عامر کے مطابق دہشت گردی کے پیچھے آج بھی افغانستان، انڈیا اور غیر ملکی طاقتیں ہیں نہ کہ وردی۔ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے لڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ سوات آپریشن اور ضرب عضب نے امن قائم کیا۔ تاہم جنگ جنگ ہوتی ہے۔ جتنی بھی احتیاط کریں عوام کا کچھ نہ کچھ نقصان تو ہوتا ہی ہے اور عزت دار بے عزت ہوتے ہیں اور یہ قرآن سے ثابت ہے۔

—————————

میجر عامر کی پرویز مشرف اور راحیل شریف کے خلاف بیان بازیوں کو سمجھنے کے لیے میجر صاحب کا پس منظر جاننا ضروری ہے۔

میجر عامر کو 1990ء میں آئی ایس آئی سے جبری طور پر ریٹائرڈ کیا گیا۔ ان پر نواز شریف کو اقتدار دلانے کے لیے آئی جے ائی نامی اتحاد بنانے کا الزام تھا۔ نکالے جانے والوں میں ایک کرنل اور ایک برگیڈئر بھی شامل تھے۔

ان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے بے نظیر اور غلام اسحاق خان کو لڑوایا۔

میجر عامر پر یہ بھی الزام ہے کہ جب ان پر مقدمات بنے تو وہ فوری طور پر سوات گئے جہاں اس نے صوفی محمد سے مل کر پاکستان اور پاکستانی کی سیکیورٹی فورسزز کو چلینج کیا۔

میجر عامر کی نواز شریف سے قربت اور وفاداری کو سمجھنے کے لیے سلیم صافی ہی کے پروگرام میں سے لیے گئے چند اقتباسات پیش خدمت ہیں۔

“میرا محسن نواز شریف ہے اور میں اپنے محسن سے غداری نہیں کرونگا”
“میں نواز شریف کو شروع سے لائک کرتا تھا “
“میں فوج سے فارغ ہوا تو میں خود میاں صاحب کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ میں آپ کو جوائن کرنا چاہتا ہوں اور آپ کے کیمپ میں آنا چاہتا ہوں تاکہ ان سے بدلہ لے سکوں جنہوں نے میرے خلاف سازش کی۔
میں نے نواز شریف کی کامیابی میں کچھ نہ کچھ حصہ ضرور ڈالا۔ “

نواز شریف کی پہلی اور دوسری حکومت میں میجر عامر کو اعلی ترین مناسب ملے اور وہ ان کے قریبی ساتھیوں میں شامل رہے۔ ان کو سب سے پہلا عہدہ ڈائرکٹر ایف آئی اے کا ملا تھا۔

۔ 1999ء میں میجر عامر بھی نواز شریف کے ساتھ گرفتار ہوا اور تقریبا ایک سال قید رہا۔ میجر عامر کے بقول جب ایک میجر صاحب نے نواز شریف کو گالی دی تو میں نے اس کو شٹ اپ کال دی۔

میجر عامر نے سلیم صافی ہی کے پروگرام میں یہ بھی کہا کہ نواز شریف کے خلاف گڑے مردے اکھاڑے جا رہے ہیں۔

پرویز مشرف نواز شریف کا سب سے بڑا دشمن مانا جاتا ہے جس نے انکی حکومت گرائی۔
جبکہ راحیل شریف پر الزام ہے کہ ان کے دور میں نواز شریف کے خلاف احتساب کا یہ سارا عمل شروع ہوا جس میں وہ آج بری طرح سے پھنسے ہوئے ہیں۔

ان حالات میں پاک فوج سے 28 سال پہلے ریٹائرڈ ہونے والے نواز شریف کے قریبی ساتھی میجر عامر کی مشرف اور راحیل شریف پر تنقید بلا جواز نہیں۔


<<< Next article    Previous article >>>

اب میجر عامر کے الزامات پر کچھ بات کرتے ہیں۔

” یہ امریکہ کی جنگ تھی تو جو ہماری بنا دی گئی”

سچائی یہی ہے کہ ہم تو اپنے گھر سکون سے بیٹھے تھے۔ امریکہ بد مست ہاتھی کی طرح یہاں آیا تب ہم نے فیصلہ کرنا تھا کہ اس بدمست ہاتھی سے پاکستان میں ہی لڑیں یا اس کو اپنی پسند کے میدان جنگ میں جانے کا موقع دیں۔ اس فیصلے پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔

” ہم نے فاٹا میں المیزان آپریشن 2001ء میں شروع کر دیا تھا امریکہ کے کہنے پر۔ جبکہ ابھی پاکستان میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ نہیں ہوا تھا “

یہ سفید جھوٹ ہے۔ المیزان آپریشن 2002ء میں شروع ہوا۔ یہ بنیادی طور پر ایک سرچ آپریشن تھا جو جون 2002ء میں پاک فوج پر وزیرستان میں ورسک میں ہونے والے ایک حملے کے جواب میں کیا گیا تھا۔ اس حملے میں پاک فوج کے 12 جوان شہید ہوگئے تھے۔ اس آپریشن کا مقصد دہشت گردوں کو جڑیں گہری کرنے سے پہلے پکڑنا تھا۔
آپریشن المیزان کی ناکامی کی وجہ مقامی قبائل کی مزاحمت اور سیاسی مخالفت تھی۔ خاص طور پر احمد زئی اور وزیر قبائل کی۔

” ہم نے فاٹا میں سی آئی اے کے سٹیشن بنائے”

یہ سی آئی اے سٹیشن کہاں واقع تھے؟ اور آج تک کسی کو نظر کیوں نہیں آئے؟

” ہم نے حقانیوں کے مدرسوں پر چھاپے مارے امریکہ کے کہنے پر”

اس کے باؤجود آج دنیا بھر کی اینٹلی جنس ایجنسیاں رپورٹ کر رہی ہیں کہ پاک فوج حقانی نیٹ ورک کو سپورٹ کرتی ہے۔ یہ کیوں؟؟

” ہم نے اڈے دئیے جہاں سے بی 52 طیاروں نے 57000 اڑانیں بھریں”

اڈے مجبوری میں دئیے گئے لیکن یہ 57000 اڑانیں کس نے گنی ہیں یہ آج تک مجھے علم نہیں ہوسکا۔

” راحیل شریف پشتونوں کا قتل ہے اس نے مجھے آٹھ ہفتے کا ٹائم دیا تھا اور اب چار سال ہونے کو آرہے ہیں اور آپریشن ختم نہیں ہوا “

آپ نے اوپر خود اعتراف کیا ہے کہ ضرب عضب کے خوشگوار اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ راحیل شریف نے پشتونوں کو قتل کرنے والوں سے پشتونوں کی جان چھڑائی تب وہ پشتونوں کا قاتل کیسے بن گیا؟؟
نیز آپ کو کس حیثیت میں راحیل شریف نے آٹھ ہفتوں کا ٹائم دیا تھا؟؟
اور سب سے بڑھ کر دہشت گردوں کے خلاف مکمل فتح حاصل نہ کرنے کی وجہ نیشنل ایکشن پلان کے وہ 17 نقاط ہیں جن پر نواز شریف حکومت نے عمل درآمد کروانا تھا اور انہوں نے نہیں کیا۔ کیا آپ ان سے اس بابت سوال کرینگے؟

کمنٹ میں موجود لنک ملاحظہ کیجیے تاکہ آپ کو اندزہ ہو کہ جنگ ختم کیوں نہیں ہو رہی۔

—————————–

میجر عامر آئی ایس آئی کا قابل فخر سپاہی رہا ہے۔ ان کا اہم ترین کارنامہ کہوٹہ کے خلاف اسرائیلی حملے کا سراغ لگانا تھا۔ ان کی اور بھی بہت سی خدمات ہونگی جن کا ہمیں کبھی علم نہیں ہو سکتا۔

لیکن اب میجر عامر کو ریٹائرڈ ہوئے 28 سال ہو چکے ہیں اور وہ مکمل طور پر ایک سیاسی شخصیت کا روپ دھار چکے ہیں۔ ان کے تو سارے ساتھی بھی ریٹائرڈ ہو چکے ہیں۔ ان حالات میں ان کی رائے کی حیثیت کسی بھی دوسرے سویلین شخص کی رائے جیسی ہی ہوگی۔

میجر عامر کی طرح ایک جنرل خٹک صاحب کی ویڈیو بھی گردش کر رہی ہے۔ جو کہتے ہیں کہ یہ سارا پراپگینڈا ہے اور پشتونوں کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہورہی۔ آپ اس کی رائے کیوں نہیں سنتے؟؟ وہ تو جنرل ہے!

میجر عامر اگر انصاف سے کام لیں تو وہ 40 سال کا حساب مانگنے والوں کو یہ ضرور بتائیں کہ ۔۔۔

افغان جہاد کا ماسٹر مائنڈ اور مجاہدین کا گاڈ فادر کہلانے والا جنرل حمید گل ایک پشتون تھا۔
طالبان کو افغانستان میں طاقت اور اقتدار فراہم کرنے وال جنرل نصیر اللہ بابر بھی ایک پشتون ہی تھا۔
ضرب عضب کے تحت وزیرستان آپریشن کرنے والا جنرل طارق خان بھی ٹانک سے تعلق رکھنے والا ایک پشتون ہی ہے۔

اور ان سب نے پشتونوں کی بقا کی جنگ لڑی۔ پہلے پشتونوں کو روس اور افغانیوں سے بچایا اور اب دہشت گردوں سے بچانے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

میجر صاحب آپ نے ڈاکٹر شاہد مسعود کے پروگرام میں کہا تھا کہ ” پاکستانی عوام کو دو چیزوں کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور پاک فوج۔” آج آپ محض سیاسی اختلاف کی بنا پر ان دونوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔

تحریر شاہدخان

<<< Next article    Previous article >>>

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here