میجر ریٹائرڈ محمد عامر  حصہ اؤل 

0
80

میجر ریٹائرڈ محمد عامر  حصہ اؤل 

<<< Next article    Previous article >>>

انصاف کا تقاضا ہے کہ میجر عامر کی پوری بات سنی جائے۔

افغان جہاد میں پشتونوں کو استعمال کیا گیا یا وہ پشتونوں کی بقا کی جنگ تھی ؟؟

سنئے میجر عامر سے ۔۔

” آئی ایس آئی نے تاریخ کی سب سے بڑی جنگ لڑی اس سپر پاور کے خلاف لڑی جس نے اکتہر میں انڈیا کے ساتھ ملکر ہمیں توڑا تھا۔ وہ دوبارہ تورخم بارڈر پر آکر کھڑا ہوگیا تھا۔ وہ وہاں کھڑا ہونے کے لیے نہیں آیا تھا۔ ” —
جرگہ 27 اگست 2017ء

” روس نو ڈیوژن فوج لے کر افغانستان آیا۔ اس نے طے کر لیا تھا کہ ہمارا بارڈر دریائے سندھ تک کا علاقہ ہوگا (یعنی پورا کے پی کے اور بلوچستان)۔ اور یہ بات آن ریکارڈ ہے تب ہمارے پاس کیا آپشن تھی؟” —
کیپٹل ٹاک 30 اگست 2015

” افغان جہاد ہم نے شروع کیا تھا امریکہ تو دو سال بعد اس جنگ میں شریک ہوا۔ ضیاء نے چارلی ولسن کو استعمال کیا تاکہ امریکہ کو بھی ملوث کیا جا سکے۔ ضیاء نے امریکہ کو قائل کیا کہ اگر ہمارا ساتھ دو تو روس سے ویت نام کا بدلہ لے سکتے ہو۔ کوئی سٹرٹیجک ڈیپٹ والی اصطلاح نہیں تھی۔ ہم صرف یہ چاہتے کہ کہ روس واپس چلا جائے” —
کیپٹل ٹاک 30 اگست 2015

“افغان جہاد کے بعد پہلا موقع آیا کہ افغان سرزمین ہمارے خلاف استعمال ہونی بند ہوگئی اور ہم نےاپنے دشموں کی جڑیں اکھاڑ دیں وہاں سے” —
جرگہ 27 اگست 2017ء

یعنی افغان جہاد امریکہ نے نہیں بلکہ پاکستان نے شروع کیا اور پاکستان نے ہی امریکہ کو اس میں ملوث کیا تاکہ اپنے جنگی اخراجات پورے کر سکے۔ یہ جنگ پشتونوں اور بلوچوں کو روسی تسلط سے بچانے کے لیے لڑی گئی۔
آپ نے پڑھا ہوگا کہ اس دور کے سرخے روس کی تربیت لے کر آزاد پشتونستان دوسرے لفظوں میں کے پی کے اور بلوچستان کے اکثر حصوں کو افغانستان میں ضم کرنے کے نعرے لگاتے تھے اور آج بھی لگاتے ہیں۔
پشتونوں کی بقا کی اس جنگ کو آج نہایت ڈھٹائی سے پشتونوں کو استعمال کرنے کی جنگ قرار دیا جا رہا ہے۔


<<< Next article    Previous article >>>

کیا واقعی خطے میں بدامنی کا ذمہ دار پاکستان ہے؟
سنئے میجر عامر صاحب کی رائے۔

“” ۔ 1948ء سے افغان سرزمین ہمارے خلاف پراکسی جنگوں ( دہشت گردی ) کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔
۔ 48ء میں وہاں پرنس عبدلکریم بلوچ کے ٹریننگ کمیپ بنے،
۔ 60ء شیر محمد مری کے ٹریننگ کیمپ بنے،
۔ 70ء میں اے این پی والے ناراض ہوئے ان کے اور بلوچوں کے ٹریننگ کیمپس بنے اجمل خٹک اور افراسیاب خٹک بھی ان کیمپس کا حصہ تھے،
۔ 80ء میں پیپلز پارٹی کی الذولفقار نامی دہشت گرد تنظیم کے ٹریننگ کیمپس بنے،
ان کو ہمیشہ روس اور انڈیا چلایا کرتے تھے۔ ہم نے کبھی افغان سرزمین میں پراکسی وار نہیں لڑی۔ ہمشیہ ہمارے خلاف لڑی گئی جس کا ہم نے صرف جواب دیا۔”
کیپٹل ٹالک 30 اگست 2015

یعنی بدامنی ہمیشہ افغانوں کی طرف سے آئی نہ کہ پاکستان کی طرف سے۔ جس کی قیمت پشتونوں سمیت تمام پاکستان نے چکائی۔ اور اگر 48ء سے 80ء تک افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹریننگ کیمپس چلتے رہے ہیں تو کیا آج وہ بند ہوگئے ہونگے؟؟

—————————

بیڈ اور گڈ طالبان بقول میجر عامر

“بیڈ کو آپ طالب کا نام دے دیں ناراض بلوچ یا کچھ اور۔ جو ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائیگا وہ بیڈ ہے۔ اس کے خلاف ریاست نے لڑنا ہے۔ اور اس کے خلاف ریاست کو لڑنا چاہئے۔

“جہاں تک گڈ طالبان کی اصطلاح ہے یہ عموماً افغان طالبان کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ افغان طالبان نہ صرف گڈ ہیں بلکہ فریڈم فائٹر ہیں۔
مجھے کئی ایک واقعہ پاکستان میں بتا دو جس میں افغان طالب ملوث ہو۔”
کیپٹل ٹاک 30 اگست 2015ء

جو ریاست پاکستان کے خلاف جنگ کرے وہ یقیناً بیڈ ہے لیکن جس نے کبھی پاکستان کو کوئی نقصان نہیں پہچایا ہم ان کو بیڈ کیوں کہیں؟ کیوں ان سے دشمنی کریں؟؟

——————————–

آئی ایس آئی کے بارے میں

“آئی ایس آئی نے پاکستان کو گھیراؤ کی کیفیت سے نکالا۔
آئی ایس آئی نے پاکستان کی مغربی سرحد محفوظ کر دی۔
آئی ایس آئی نے افغانستان سے پاکستان کے خلاف پندرہ ٹریننگ کیمپس اکھاڑ دئیے۔
آئی ایس آئی نے ہی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو مکمل کیا۔
آئی ایس آئی نے ہی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو بچایا کہوٹہ کو بچا کر۔
آئی ایس آئی نے سی آئی اے کی خودمختار کشمیر بنانے کی سازش سبوتاژ کی۔
آئی ایس آئی نے اس دور کی سب سے بڑی دہشت گرد تنظیم الذولفقار کی کمر توڑی۔
افغان جنگ آئی ایس آئی نے جیتی اگر سی آئی اے میں یہ صلاحیت ہوتی تو وہ ویتنام میں جیت لیتی۔
آج بھی آئی ایس آئی لڑ رہی ہے۔”
جرگہ پروگرام 27 اگست 2017ء

“” ڈاکٹرصاحب آئی ایس آئی جس شاباش اور خراج کی مستحق ہے وہ اس کو کبھی نہیں ملی۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم خاموشی سے کر کے گزر جاتے ہین اور کسی کو پتہ نہیں چلتا۔
الذولفقاار کے پیچھے پانچ ممالک تھے۔ لیبیا، سیریا، افغانستان، روس اور انڈیا۔ ہم نے اس تنظیم کو شکست دی۔”
لائیو ود ڈاکٹر شاہد مسعود 18 اگست 2015

“میں نہیں مانتا کہ دھرنے کے پیچھے فوج ہو سکتی ہے یا جنرل ظہیر۔ یہ سوچنا بھی حماقت ہے۔ یہ خبر پھیلانے والوں کو سزا بھی ملی۔
جنرل ظہیر نے انڈینز کے خلاف ایک آپریشن کیا ہے اگر اسکی تفصیلات کبھی منظر عام پر آئیں تو یہ پورا خطہ ہل جائیگا۔
آئی ایس آئی میں آج جو بیٹھے ہیں وہ ہم سے بہتر کام کر رہے ہیں۔ ان پر رحم کریں۔ ان کو کام کرنے دیں۔ ان کے خلاف بیان بازیاں بند کر دیں۔”
لائیو ود ڈاکٹر شاہد مسعود 18 اگست 2015

—————————-

یہ تو ہوگئی افغان جنگ اور آئی ایس آئی میجر عامر کی نظر میں۔ اگلے حصے میں ان شاءاللہ دہشت گردی کے خلاف حالیہ جنگ اور میجر عامر کی ان ویڈیوز پر بات کرینگے جن کو وائرل کیا جا رہا ہے۔

تحریر شاہدخان

<<< Next article    Previous article >>>

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here