5 ایجنٹس نے کل بھوشن کا اتنا اعتماد جیتا کے کل بھوشن نے ان ایجنٹس کو اثاثہ قراردےکر تربیت کےلیے انڈیا بھجوا دیا۔

0
37

لوگ سوال کرتے ہیں بھارتی ایجنٹ کل بھوشن انکشافات کے دوران ہنس کیوں رہا تھا پتہ نہیں کیوں ہنس رہا تھا ہاں مجھے خود البتہ بہت ہنسی آئی جب یہ پتہ لگا کہ جاسوسِ اعظم کل بھوشن یادیو کے پاکستان آنے سے پہلے کل بھوشن کے ھینڈلر کے ساتھ آئی ایس آئی کے کاؤنٹرانٹیلیجنس کے ایجنٹس مل کر کام کر رہے تھے۔ پاکستان پہچنے کے بعد ترقی کرتے کرتے کل بھوشن را کا اسٹیشن چیف بنا تو ھینڈلر واپس چلا گیا۔ ترقی کے اس سارے سفر میں کل بھوشن کاؤنٹر انٹیلیجنس کے ایجنٹس کے ساتھ کام کرتا رہا جو اس کا اعتماد جیتنے کےلیے بلوچستان میں چھوٹی موٹی کاروائیاں بھی کرتے رہے۔ ان میں سے 5 ایجنٹس نے کل بھوشن کا اتنا اعتماد جیتا کے کل بھوشن نے ان ایجنٹس کو اثاثہ قراردےکر تربیت کےلیے انڈیا بھجوا دیا۔
انڈین انٹیلیجنس ایجنسیز اور را والے کل بھوشن کی گرفتاری سے زیادہ اس معاملے پر پریشان ہیں کہ آئی ایس آئی کے وہ پانچ کور ایجنٹس جن کو بھارت اپنا ایجنٹ سمجھ کر تربیت دیتا رہا وہ بلوچستان اور افغانستان سے جڑی منصوبہ بندی سے واقف ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ دوران تربیت وہ کچھ اہم راز حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہے۔ یاد رہے کہ پاکستان کافی عرصے سے ایک بات کرتا آ رہا ہے کہ بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت اقوامِ متحدہ کو دیے جائیں گے مگر حکومت کی نا اہلی ہے یا شائد ن لیگ کے انڈیا سے جڑے کاروباری مفادات ہیں کہ حکومت ان ثبوتوں کو اقوامِ متحدہ میں پیش نہیں کر رہی اور نا ہی کل بھوشن والے معاملے کو حکومت عالمی سطح پر اٹھا رہی ہے۔
کل بھوشن اکیلا نہیں تھا اس کی ریکٹ میں کافی سارے سرگرم ایجنٹس تھے جن میں سے دیپک کمار پرکاش گرفتار ہو چکا ہے جو قلات کے علاقوں میں کاروائیاں کرنے پر متعین تھا اور ایک اہم ایجنٹ راکیش عرف رضوان اس وقت ایران کی تحویل میں ہے۔ 25 کے قریب بھارتی ایجنٹس کراچی الیکٹرک میں کام کر رہے ہیں اور 37سے زائد بھارتی میاں نواز شریف کی ملوں میں کام کر رہے ہیں جن میں سے اکثریت ایجنٹس کی ہیں۔ کچھ بھارتی سفارتخانے میں پناہ لے چکے ہیں اور کچھ ابھی بھی آئی ایس آئی کی ھٹ لسٹ پر ہیں جن کو کسی بھی وقت اٹھایا جا سکتا ہے۔ کل بھوشن کی گرفتاری کے بعد کاؤنٹر انٹلجینس کی ٹیمز نے میاں نواز شریف کی ایک شوگر مل میں چھاپہ مارا مگر کاؤنٹر انٹیلیجنس کی ٹیم کو ان بھارتیوں تک رسائی نا دی گئی۔
یہ جمہوریت کی ایک اور برکت ہے کہ زرداری دور میں لندن سے را ایجنٹس کوپاکستانی ویزے ملتے رہے اور واشنگٹن سے سی آئی اے اور بلیک واٹر کے ایجنٹس کو ریوڑیوں کی طرح ویزے جاری ہوتے رہے۔ اور موجودہ جمہوری حکومت میں تو خیر را کے ایجنٹس کو حکومتی سرپرستی میں کام کرنے کی اجازت تھی۔ عالمی ادارے اور امریکہ جب اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پاکستان میں فوج کا کردار محدود کیا جائے تو اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ وہ لوگ کھل کر کھیلنا چاہتے ہیں۔ جب کہ پاکستان آرمی اور آئی ایس آئی کھل کر کھیلنے نہیں دیتے بلکہ ان کی چالیں ان پرالٹ دی جاتی ہیں۔ کل بھوشن یادیو کا معاملہ ہم لوگوں کو ابھی پتہ لگ رہا ہے بات 28 سال پیچھے شروع ہوتی ہے جب را کے زھین ترین دماغ بلوچستان کی زمین پر قدم جمانے کےلیے منصوبہ سازی کر رہے تھے اس وقت آئی ایس آئی کے کور ایجنٹس بلوچستان کے شدت پسندوں کے ساتھ مل کر کام کرنا شروع ہو گئے تھے۔ کل بھوشن کی گرفتاری اس معاملے کا عروج تھا جو 28 سال پہلے را نے شروع کیا۔ کل بھوشن کی گرفتاری سے سابقہ 28 سال میں کی گئی انڈیا کی محنت، سرمایہ کاری، منصوبہ بندی, نیٹ ورکنگ سب کچھ خاک میں مل چکا ہے.
یہاں یہ سوال زھن میں آتا ہے کہ آئی ایس آئی اگر 28 سال پہلے انڈین مداخلت کے بارے میں آگاہ تھی تو اب تک کیوں خاموش رہی۔ دو میجر وجوہات ہیں اس کی۔ ایک اگر 28 برس اس زمین پر اترنے والے پہلے بھارتی ایجنٹ کو ختم کردیا جاتا تو انڈیا نے رک جاناتھا کیا ؟ نہیں۔ کور ایجنٹس اور کوورٹ آپریشنز کا سلسلہ جاری رہتا یہ نیٹ ورک آئی ایس آئی کی آنکھوں کے سامنے پھیل رہا تھا نیا نیٹ ورک بنتا تو وہ زیرِ زمین جا سکتا تھا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ہر ملک کی خفیہ ایجنسیاں ردِ عمل دکھانے کےلیے مناسب ترین وقت کا انتظار کرتی ہیں۔ بارہا اس طرح ہوتا ہے کہ دشمن ایجنٹ ہاتھ لگنے کے باوجود شور نہیں کیا جاتا اور مناسب وقت پر سامنے لا کر دنیا کی رائے اپنے لیے ہموار کی جاتی ہے۔ پاک چین اقتصادی راہدری کے متعلق جب پوری دنیا جان گئی اور یہ بھی جان گئی کے بھارت اس منصوبے کے حق میں نہیں ہے اس کے بعد انڈیا کے ناپاک عزائم دنیا پر واضح کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور یوں کل بھوشن کی نقاب کشائی ہوئی۔
آئی ایس آئی نے بلا شبہ اپنی تاریخ کا ایک بہت بڑا شکار کھیلا ہے اب یہ حکومتِ وقت پر ہے کہ اس شکار کو دنیا کے سامنے کیسے پیش کرتی ہے اور کیسے پاکستان کے حق میں عالمی رائے عامہ ہموار کرتی ہے۔ رہی بات بھارتیوں کی تو منہ پیٹنا ان لعنتیوں کا مقدر ہے۔ اجیت دوول ڈینگ مار رہا تھا کہ وہ پاکستان میں سات سال رہا ہے ہمیں ڈینگ مارنے کی ضرورت نہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ اجیت دوول جیسوں کی ناک کے نیچے آئی ایس آئی کے ایجنٹس را سے تربیت لیتے رہے۔ اب بیچارے گھر گھس کے مارنے آئے تھے تو آئی ایس آئی نے ہاتھ منہ میں گھسا کر کلیجہ نکال دیا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here