یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ دونوں ہی کے نشانے پر پاکستان اور پاک فوج ہے۔

0
274

پھر سے ” تعلیم ” پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 🙂

ایک طرف پرائیویٹ سکول ایسے لبرل تیار کر رہا ہے جنہیں اسلام کی ہوا تک نہیں لگی۔

تو دوسری طرف مدرسہ ایسے ” ملا ” تیار کر رہا ہے جو حقیقی دنیا کے بارے میں قطعاً کچھ نہیں جانتے۔

نتیجہ؟

ایک دعوی کرتا ہے تو دوسرا اسکو ثابت کرتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔

لبرل دعوی کرتا ہے کہ اسلام شدت پسند ہے۔

ملا نفاذ اسلام کے نام پر لوگوں کی گردنیں کاٹ کر ثابت کر دیتا ہے۔

———

لبرل دعوی کرتا ہے اسلام عورت پر ظلم کرتا ہے۔

ملا بوقت ضرورت بیوی کو کھانا حلال قرار دے دیتا ہے۔

——–

لبرل دعوی کرتا ہے کہ دنیا کائنات کے اسرار ڈھونڈ رہی ہے اور اسلام بچگانہ چیزوں میں اٹکا ہوا ہے۔

ملا عین اسی وقت اس مسئلہ پر رائے پیش کرتا ہے کہ اگر مدینہ سے آئی ہوئی کھجور میں کیڑا ہو تو وہ کیڑا واپس مدینہ چھوڑنا پڑے گا یا اس کو یہاں رکھا جا سکتا ہے۔

———

لبرل دعوی کرتا ہے کہ اسلام لونڈیاں رکھنے کا درس دیتا ہے۔

ملا عین اسی وقت عراق میں سو سو ڈالر میں عورتوں کو بیچ رہا ہوتا ہے۔

———-

لبرل دعوی کرتا ہے کہ اسلام عدم برداشت سکھاتا ہے۔

ملا اعلان کرتا ہے کہ فلاں فلاں اقلیت یا مسلک واجب القتل ہے۔

———–

لبرل دعوی کرتا ہے کہ اسلام پر عمل پیرا مسلمان منافق اور بدکار ہیں۔

عین اسی وقت حیات آباد میں ایک ” ملا ” سکول کی 80 بچیوں کے ساتھ زیادتی کا اعتراف کرتا ہے۔

—————–

لبرل دعوی کرتا ہے کہ اسلام خواتین کی تعلیم کے خلاف ہے۔

ملا بچیوں کا سکول بم سے اڑا کر اسکو ثابت کردیتا ہے۔

—————–

بظاہر ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار یہ مخلوقات اسلام کے خلاف اس جنگ میں ایک پیج پر نظر آتی ہیں۔

بلاشبہ یہ منصوبہ شیطانی ذہانت سے تیار کیا گیا ہے۔

میرا کافی دنوں سے ارادہ ہے کہ اس کھیل پر سوات کے حوالے سے مضمون لکھوں جو اس کی ایک بہترین مثال ہے۔

وہاں این جی اوز نے بیک وقت مدارس اور پرائیویٹ سکولز کی داغ بیل ڈالی۔ انکی فنڈنگ کی۔ ان میں تیار ہونے والوں کو آپس میں ٹکرایا۔
جہاں فضل اللہ لوگوں کی گردنیں کاٹ رہا تھا تو ملالہ یوسف زئی اس پر رننگ کمنٹری کر کے دنیا کو آگاہ کر رہی تھی۔ دونوں کی پشت پناہی ایک ہی طاقت کر رہی تھی۔

اس کھیل کو سمجھو ۔۔۔۔۔

یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ دونوں ہی کے نشانے پر پاکستان اور پاک فوج ہے۔

یہ بھی اتفاق نہیں ہے کہ عاصمہ جہانگیر آرمی کورٹس سے سزائیں پانے والے دہشت گردوں کو بچاتی ہے۔
نہ یہ اتفاق ہے کہ فرنود عالم اور وقاص گورایا جیسے ملعونوں کی فوج مخالف پوسٹوں پر ” ملا ” داد دے رہے ہوتے ہیں کہ ” ہاں یہ اس نے صحیح لکھا ہے” ۔۔۔

ہر قسم کی درسگاہیں اور ذرائع ابلاغ ریاست کے کنٹرول میں ہونی چاہئیں ورنہ ایک یقینی تباہی کا انتظار کرو ۔۔۔۔

تحریر شاہدخان

نوٹ ۔۔ یہاں ملا سے مراد ایک مخصوص ذہنیت رکھنے والا طبقہ ہے جو ہر مسلک میں پایا جاتا ہے۔ تمام علماء یا مولوی اس سے مراد نہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here