یحی خان کتنا بڑا مجرم تھا ؟؟؟

0
121

یحی خان کتنا بڑا مجرم تھا ؟؟؟

کہتے ہیں کہ یحیی خان بھی ایک آمر تھا ( گو آمریت میرے نزدیک جمہوریت سے ہزار درجے بہتر ہے ) ۔۔۔۔۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یحیی خان نے کسی جمہوری حکومت کا تختہ نہیں الٹا تھا بلکہ ایوب خان سے اقتدار لے کر الیکشن کروائے تھے کیونکہ ایوب خان کے بعد کوئی ایسی باڈی موجود نہیں تھی جسکو عارضی اقتدار سونپ کر الیکشن کروائے جا سکیں ۔

یحیی خان نے الیکشن کروائے ۔ شیخ مجیب جیت گیا ۔ ٰبھٹو نے اسکا مینڈیٹ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہاں تم حکومت بناؤ یہاں میں بناتا ہوں ۔ جس پر مجیب نے آزادی کا اعلان کر دیا اور مکتی باہنی نے فلفور پورے بنگلہ دیش میں آزادی کا پرچم لہراتے ہوئے پاکستان کے حامیوں کا قتل عام شروع کر دیا ۔ بنگالی فوج کا ایک بڑا حصہ بغاوت کر بیٹھا ۔

تب ٰیحیی خان کیا کرتا ؟؟

اس نے پاکستان کو بچانے کے لیے باغیوں کے خلاف آپریشن شروع کرنے کا حکم دیا ۔ 90،000 ہزار محض جھوٹ ہے ۔ کل پچاس ہزار لڑنے والی فوج تھی جس میں سے 25000 ہزار ڈھاکہ میں تھی ۔ باقی 25000 ہزار تین لاکھ گوریلوں کے خلاف انتہائی نامساعد حالات میں مسلسل نو مہینے تک بر سر پیکار رہی اور بالاآخر جب ان پر قابو پانے لگی تو انڈیا سے یہ ناکامی برداشت نہ ہوئی اور ڈھائی لاکھ باقاعدہ فوج کے ساتھ تین طرف سے حملہ کر دیا ۔ نہایت تھوڑی سی اس 9 مہینے کی تھکی ہوئی فوج نے زبردست مزاحمت کی جو ہم نہیں بلکہ انڈیا کے اپنے کتابیں لکھنے والے کہتے ہیں لیکن کوئی مقابلہ نہیں تھا ۔ پوری فوج کو مرنے سے بچانے کے لیے ہتھیار ڈالنے کا حکم ہوا ۔

بھٹو کے اس جرم کے باوجود یحیی خان نے دوبارہ الیکشن کروانے کے بجائے بھٹو ہی کو اقتدار سونپ دیا ۔

یحیی خان نالائق تھا لیکن بھٹو اور مجیب کی طرح پاکستان دشمن نہیں تھا ۔ نالائق صرف اسلئے کہ ہمیشہ بھٹو کی مانتا رہا جس نے بالاآخر پاکستان کو توڑ دیا اور جس نے بلا آخر سارا ملبہ یحیی خان کے سر ڈال دیا ۔

جرم اس کے صرف دو تھے ۔ اس نے ایوب خان سے حکومت لے کر الیکشن کروائے تھے ۔ جب جمہوریت کے دو چیمپئنز کے درمیان اقتدار کی جنگ میں پاکستان کو ہی خطرہ درپیش ہوا تو اسنے باغیوں کے خلاف آپریشن کرنے کا حکم دیا جس میں جمہوریت کے سب سے بڑے چیمپئن بھٹو کا مشورہ شامل تھا ۔ اور پھر بھٹو کو اقتدار سونپ کر چلتا بنا ۔۔۔۔

یحیی خان کے متعلق یہ واقعہ کافی مشہور ہے کہ اسکی بہن اس کے پاس آئی جسکا بیٹا بنگال کے محاذ پر تھا اور درخواست کی کہ اپنے بھانجے کو واپس بلا لیں وہاں جنگ ہے اور جان سے جائے گا ۔ تو یحیی خان نے نہایت غصے میں جواب دیا تھا کہ ۔۔۔ ” کیا باقی مرنے والے پاکستان کے بیٹے نہیں ہیں ۔ وہ مرتے ہیں تو میرا بھانجا بھی مرے گا “

حقیقت یہ تھی کہ یحیی خان کو یہ بدنامی بھٹو نے سونپی تھی اور وہ اس سارے معاملے میں اتنا بڑا مجرم نہٰیں جتنا اسکو بنا دیا گیا ۔

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here