کچھ نام کے بوٹ پالشیے اور مراثی دانشوروں نے ابھی تک اس خبر کا ایسا دفاع کیا ہوا ہے جیسے یہ مسلہ قومی سلامتی کا ہو

0
849

میری بہن حجاب رندھاوا کی اس تصدیق کے بعد بھی کچھ نام کے بوٹ پالشیے اور مراثی دانشوروں نے ابھی تک اس خبر کا ایسا دفاع کیا ہوا ہے جیسے یہ مسلہ قومی سلامتی کا ہو۔۔

دراصل یہ مسلہ انکی ذاتی انا کا بنا ہوا ہے کہ ان کی سابقہ پوسٹوں کو جو لائیک کمنٹس اور شئیر ملنے کے ساتھ جو واہ مرشد واہ سر ہوتی رہی تو اچانک اس پر موقف میں تبدیلی لانے سے فوج اور ملک کی غلط خبر پر بدنامی ہو بھی جائے تو کوئی مسلہ نہیں بس ان مراثیوں کی واہ واہ باقی رہنی چاہیے۔۔

دشمن نے ایسے ہی نہیں تمہاری فوج کے حق میں خبریں لگائیں اسکی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔۔ دراصل ایسا کوئی بیان جنرل ذوبیر صاحب نے نہیں دیا بلکہ خبر انڈین میڈیا نے پھیلائی جسے پھر کچھ پاکستانی میڈیا کے گندے انڈوں نے بھی اچھالا۔ یہ بیان انڈیا کی ایک ویب سائٹ نے نشر کیا تو ہماری جزباتی عوام نے اسے خوب فوج کی محبت میں بڑھا چڑھا کر سوشل میڈیا پر رنگا رنگ کی پوسٹ کی مدد سے وائرل کر دیا ۔۔

اس خبر کو جھوٹا ہونے کے باوجود بھی پھیلانا انڈیا کو فائدہ پہنچانے کے مترادف ہے کیوں کہ جتنا پاکستان میں اسرائیل کے خلاف پروپیگنڈہ مظبوط ہوگا اتنا اسرائیل انڈیا کی دفاعی و عسکری مدد کرے گا اور رقم فراہم کرے گا۔ انڈیا اسرائیل کو ہمیشہ پاکستان کے خلاف کرنے کی کوششیں کرتا رہا ہے یہ جھوٹی خبر بھی اسی کا ایک حصہ ہو سکتی ہے۔۔

ایسا نہیں کہ پاکستان آرمی انڈیا و اسرائیل و امریکہ سے ڈر
گئی یا اسکا مقابلہ نہیں کرسکتی بالکل ہماری افواج ایک ساتھ سب کفار کا منہ توڑنے کے قابل ہے مگر ایسے نازک وقت میں ایک نیا محاذ کھولنا کونسی عقل مندی ہے ؟؟

رہی پاکیستان کے ایٹمی پروگرام کی صلاحیت کی بات تو آپ سب کو پتہ ہے ہم کتنے وقت میں اسرائیل و امریکہ یا انڈیا کو تباہ و برباد کر سکتے ہیں۔۔ اور رہی پاکستان آرمی کے جنرلوں کی بات تو یہ مجاہدِ دین و وطن انڈیا و امریکا کی طرح بیان بازیاں یا باتوں کی ہوائی فائرنگ نہیں کرتے بلکہ خاموشی سے اپنا کام کرتے ہیں۔۔
پاکستان فوج کی صلاحیت سے سب واقف ہیں ۔۔۔

آپ سے میں گزارش کروں گا کہ ایسے خارشی دانشوروں سے دور رہیں جو آپ کو دشمنوں کے ایجنڈے کو تقویت دیتے نظر آئیں۔۔

تحریر محمد شاہد عنائیت

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here