کل نواز شریف نے فرمایا کہ ” میرا اور عبدالصمد اچکزئی کا نظریہ ایک ہے اور مجھے یہ نظریہ بہت عزیز ہے

0
278

نظریاتی اتحادی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !

کل نواز شریف نے فرمایا کہ ” میرا اور عبدالصمد اچکزئی کا نظریہ ایک ہے اور مجھے یہ نظریہ بہت عزیز ہے ” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عبدالصمد اچکزئی کا نظریہ کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟

عبدالصمد اچکزئی موہن داس کرم چند گاندھی کو اپنا آئیڈیل مانتے تھے۔

موصوف “بلوچ گاندھی” کہلانے پر فخر کرتے تھے۔

عبدالصمد اچکزئی بلوچستان میں کانگریس کے متحرک رکن تھے۔

مسلم لیگ سے شدید نفرت کرتے تھے۔

قیام پاکستان کے بدترین مخالفین میں سے تھے۔

باچا خان کی طرح انکا بھی یہی مطالبہ تھا کہ اگر پاکستان نہیں بنتا تو ہم ہندوستان کا حصہ بنیں گے اگر پاکستان بنتا ہے تو ہم پشتونوں کا الگ ملک بنائیں گے۔

قیام پاکستان کے ایک سال بعد ہی افغانستان کے ساتھ خفیہ رابطوں اور ساز باز کے الزام میں دھر لیا گیا اور چھ سال جیل میں گزرے۔

اپنی ہلاکت تک اپنے نظریات پر قائم رہے۔

کچھ یہی حال ان کے بیٹے محمود اچکزئی کا ہے۔

کے پی کے کو افغانستان کا صوبہ قرار دے چکے ہیں۔

ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہیں کرتے۔

خطے میں ہونے والی تمام تر دہشت گردی کا ذمہ دار پاک فوج کو قرار دیتے ہیں۔

این ڈی ایس سے رابطوں میں رہتے ہیں جس کے نتیجے میں اب تک ہزاروں بلوچوں اور پشتونوں کا خون بہہ چکا ہے۔

نواز شریف حقیقتاً ان کے نظریاتی اتحادی ہیں۔

ہندو مسلمان کو ایک قوم قرار دیتے ہوئے درمیان میں قائم ہونے والی سرحد کو ” جدا کر دینے والی” لکیر قرار دے چکے ہیں۔

نواز شریف کے انڈیا کے ساتھ خفیہ رابطوں اور ساز باز کی خبریں مسلسل آتی رہتی ہیں۔

ڈان لیکس کی شکل میں خطے میں ہونی والی تمام تر دہشت گردی کی ذمہ داری پاک فوج پر ڈال چکے ہیں۔

تو دونوں نظریاتی اتحادی تو ہیں۔ اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے!

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here