کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ھے

0
265
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

۔
یہ مشہورو مقبول جُملہ قائدِ اعظم محمد علی جناح نے کہا تھا۔

کل کشمیر میں انڈین دھشت گرد فوج کی فائرنگ سے سات کشمیری جامِ شہادت نوش کر گئے۔۔۔

بچپن میں پی ٹی وی پر کشمیر کو لے کر نغمے ترانے اور ہر روز ہونے والے پروگراموں ڈراموں میں کشمیر کی محبت دل میں لیے اب میں اپنی عمر کے بتیسویں سال میں داخل ہو چکا ہوں۔

میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے اک دن
ستم شعاروں سے تجھ کو چھڑائیں گے اک دن
یہ ترانہ سن کر آج بھی رگوں میں خون جوش مارنے لگتا ھے اور تصور میں خود کو کشمیر کی ان وادیوں میں محسوس کرتا ہوں جو اب کسی چینل کے کسی کشمیر ڈے کے پروگرام میں بھی خال خال نظر آتی ہیں۔

سوشل میڈیا پر کنکترے جب کہتے ہیں کہ کشمیر بنے گا خود مختار تو بے ساختہ میرا خیال ان شہیدوں کی طرف چلا جاتا ھے جو سبز ہلالی پرچم میں لپٹ کر جنتوں کے مہمان بن گئے۔
میں ان گلیوں میں پہنچ جاتا ہوں جن میں دیواروں پر پاکستان زندہ باد اور کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے درج ہیں۔۔۔
میں برہان وانی اور اس کے جاں نثاروں کو سبز ہلالی پرچم تھامے ان پہاڑوں اور وادیوں میں چلتا ہوا بھی دیکھتا ہوں اور پاکستانی پرچم کو عقیدت سے چومتا ہوا بھی اور اسی پرچم میں لپٹ کر لحد میں اترتا ہوا بھی۔۔
میں چودہ اگست تئیس مارچ یا کسی پاکستانی دن پر کشمیر کی گلیوں بازاروں میں ہونے والی بچوں کی اس پریڈ کو بھی دیکھتا ہوں جس میں وہ ننھے منے بچے اپنے بدن پر سبز لباس زیبِ تن کیے ہاتھوں میں سبز ہلالی پرچم اٹھائے پاک فوج کے نعرے بلند کرتے ہوئے پریڈ کر رھے ہوتے ہیں۔۔
نظر ان نوجوانوں پر بھی پڑتی ھے جو قابض انڈین فوج کے سامنے ہاتھوں میں پتھر اٹھائے بدن پر پاکستانی پرچم لپیٹے ان انڈین فوجیوں کو چیلنج کر رھے ہوتے ہیں کہ پاکستان سے محبت کا حق تم ہم سے نہیں چھین سکتے۔۔۔
میں دیکھتا ہوں کہ انڈین چینل زی ٹی وی کا آکاش ناگرے جب چند چھوٹے چھوٹے بچوں سے پوچھتا ھے کہ پاکستان اگر کشمیر پر حملہ کر دے تو تم کیا کرو گے اور وہ جواب میں بہت بے تابی محبت اور عقیدت سے کہتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ تمہارے خلاف لڑیں گے اور کشمیر کو پاکستان بنائیں گے ۔۔۔۔
میرا خیال بے ساختہ آپی آسیہ اندرابی اور ان کے خواتین ونگ کی ان بہادر” نڈر” اور نقاب پوش دلیر بہنوں کی طرف بھی جاتا ھے جو پاکستان کی محبت سے سرشار کاندھے پر سکول بیگ لٹکائے ہاتھوں میں پتھر لیے انڈین فوج مردہ باد اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہی ہوتیں ہیں۔۔۔

میں اس ماں کے آنسو بھی دیکھتا ہوں جس کے چار بیٹے کشمیر پر قربان ہو گئے اور پانچویں کی سبز ہلالی پرچم میں لپٹی میت سامنے پڑی دیکھ کر وہ روہانسی آواز میں پاکستان زندہ باد کہہ رہی ہوتی ھے
تو میں عقیدت سے خیال ہی خیال میں اس عظیم ماں کے قدم پر بوسہ دیتا ہوں اور کہتا ہوں کہ میری ماں ہم کشمیر آزاد کروائیں گے ہم ان ظالموں قابضوں سے کشمیر چھڑوائیں گے

پھر اچانک میں خود کو پاکستان کی گلیوں میں اپنے لوگوں میں پاتا ہوں جو کشمیر سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور آج بھی مسجد سے ہونے والے اس اعلان کے منتظر ہیں کہ 
ایک جماعت کشمیر میں جہاد کے لیے جا رہی ھے اگر کوئی جوان گھر والوں کی اجازت سے شامل ہونا چاہے تو شام تک امام مسجد صاحب کو نام لکھوا دے۔۔۔
میں اس آواز کے تعاقب میں اس شخصیت تک پہنچ جاتا ہوں جسے حافظ محمد سعید کے نام سے جانا جاتا ھے جن کا نام کشمیر کا ہر بچہ جانتا ھے ہر بہن پہچانتی ھے اور ہر گلی میں پکارا جاتا ھے ۔۔۔
پھر میں اپنی حکومت کی بے حسی پر آ کر خاموش ہو جاتا ہوں مجھے چپ لگ جاتی ھے اور میں بے ساختہ قادرِ مطلق کی طرف آس بھری نظروں سے دیکھتا ہوا التجا کرتا ہوں کہ اے تمام جہانوں کے پالنے والے ایک صلاح الدین ایوبی اور دے دے
ایک مردِ مجاھد اور عطا کر دے جو اس ریوڑ کو دوبارہ قوم بنا سکے 
جو ہمیں مسلمانیت سکھا سکے جو ہمیں غیرت سکھا سکے کیوں کہ ہم مسلمان تو ہیں لیکن ہم دین کے سبق کو فراموش کر چکے ہیں۔
دین غیرت کا درس دیتا ھے۔
دین جہاد کا درس دیتا ھے
دین تقاضا کرتا ھے کہ کوئی بہن جب پکارے کہ اے سلطان صلاح الدین ایوبی کہاں ہو تم
تو صلاح الدین ایوبی سورج کے ڈوبنے سے پہلے اپنے مرکز سے اس بہن کی آواز پر لبیک کہتا نکل چکا ہو۔۔
لیکن ہمارے اعمال” افکار اورہمارے انداز اس صلاح الدین ایوبی کے آنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں

تب تک ہر روز برہان وانی شہید ہوتے رہیں گے
اور آسیہ اندرابی پاکستان پاکستان کرتی رھے گی

ان کے شہید پاکستانی پرچم میں لپٹ کر لحد میں اتارے جاتے ہیں۔۔۔
اور پاکستان میں صرف دو چار شہروں میں یومِ کشمیر پر نعرے مارے جاتے ہیں۔۔۔

تحریر: سلطان اعوانزادہ


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here