کرپشن کے ریکارڈز جلانے والی آگ

0
312

تحریر حجاب رندھاوا
ہمارے ملک میں بغیر جہز کے گھر آئی بہو اور شریف برادران کے پراجیکٹ ریکارڈ کو بغیر پیٹرول کے ہی آگ لگ جاتی ہے اور یہ موئی ایسی سیانی آگ ہوتی ہے جو اپنا مطلوبہ حدف جلا کر ہی بُجھتی ہے
نیب نے 24مارچ کو احد چیمہ، خواجہ سعد رفیق ، شریف فیملی کی شوگر ملوں سمیت کئی اہم کیسز میں کارپوریٹ ریجنل ٹیکس یونٹ سے ریکارڈ طلب کیا
اسے 30مارچ کو آگ لگ گئی ۔ آگ بھی اتنی سیانی کہ پانچویں منزل پر لگی جہاں کارپوریٹ ریجنل ٹیکس کا دفتر تھا ۔ کیونکہ آگ جانتی تھی کہ کارپوریٹ ریجنل ٹیکس کا دفتر سیاست دانوں ، بڑے صنعت کاروں ، شوگر ملز، ایل ڈی اے ، ہاؤسنگ سوسائٹیز سمیت تمام بڑی کمپنیوں کے ٹیکس معاملات کو ڈیل کرتا ہے
اس کے بعد اس سیانی آگ نے جب سنا کے عدالت نے نجی ائرلائنز کا ریکارڈ طلب کیا ہے اور ریکارڈ نیو اسلام آباد کے نئے ایئر پورٹ میں ہے یہ سیانی آگ وہاں بھی پہنچی اور اس ریکارڈ کو جلا کے بھسم کر دیا جو شریف برادران اور شاہد خاقان عباسی کو پھنسانے کے پر تول رہا تھا
یاد رہے یہ وہی ائیر پورٹ ہے جس کا کنٹریکٹ جاوید صادق کو ملا وہی جاوید صادق جو متعدد ٹھیکوں میں شریف برادران کا فرنٹ مین رہا
جاوید صادق اب تک شریف برادران کے دئے گئے پراجیکٹس می‍ں سے 15 ارب روپے کمیشن وصول کرچکے ہیں اور پنجاب حکومت کی ہر ڈیل کے پیچھے یہ صاحب ہوتے ہیں ۔

نندی پور پراجیکٹ
لاگت23 ارب تھی جو مکمل ہونے تک 120 ارب سے زائد ہوگئی لیکن کارکردگی صفر
شہباز شریف کی نہ سمجھ میں آنے والی پھرتیوں کی وجہ سے نندی پور پاور پراجیکٹ کا افتتاح نواز شریف نے 31 مئی کو کیا اور صرف پانچ روز فعال رہنے کے بعد تکنیکی مسائل کی بناءپر اسے بند کر دیا گیا۔ پچانوے میگاواٹ کی پہلی ٹربائن ڈیزل پر چلائی گئی تھی۔ اس پرانی اور متروک مشینری پر فی یونٹ تیس روپے کے قریب خرچ آرہا تھا لہٰذا یہ ٹربائن بند کردی گئی۔ اپنی نااہلی اور بدعنوانی چھپانے کےلیے فوری طورپر منصوبے کے ایک یونٹ کو کمشننگ کے بغیر چلا کر “پیداوار” کا افتتاح کردیا گیا۔ افتتاح کے بعد وزیراعظم کی تشہیر کے لیے کروڑوں کے اشتہارات چلائے گئے۔ صرف پانچ روز بعد پراجیکٹ ڈائریکٹر کے اعلان کے ذریعے اس یونٹ کو بھی بند کردیا گیا کہ یہ پیداوار باقاعدہ نہیں محض “آزمائشی تھی اس کے بعد ریکارڈ بھی جلا دیا گیا
خریدوفروخت کا تمام کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ بھی ڈیلیٹ کر دیا گیا ۔ گارڈ گرفتارر ہوا اس نے تسلیم کیا آگ سی ای او کے حکم پر لگائی گئی یوں 120ارب روپے اپنے انجام کو پہنچے
میٹروبس
نواز و شہاز جدھر بھی جائیں یہی شوروغوغَا کرتے ہیں ہم نے میٹرو بنائی
جبکہ شوباز شریف کے اس لاہور، میٹرو میں 13 ارب روپے کی اور
راولپنڈی اسلام آباد میٹروبس میں 5 ارب 18 کروڑ 35 لاکھ روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آئیں، ترکی کی طرف سے فراہم کی گئ رقم بھی شریف برادران اپنی جیب میں ڈال گئے اس کا سالانہ خسارہ 5 ارب سے زائد کا ہے
میٹرو بس، نندی پور سمیت متعدد منصوبوں کی تحقیقات سے پہلے ریکارڈ کو ضائع کر دیا گیا۔
دوسرے منصوبوں کی طرح کھاؤ پالیسی کے تحت
یوتھ ہیلمٹ، اجالا سکیم شروع ہوئی اور اور اربوں روپے خزانے سے اُڑانے کے بعد تین ماہ میں بند کر دی گئ
سکوٹی بھی چل ہی نہ سکی۔
لیپ ٹاپ سکیم
اس میں شریف برادران کے فرنٹ مین احد چیمہ نے بہت اہم رول ادا کیا، 20 ہزار کا لیپ ٹاپ خریدا گیا اور اس کی رسید 38 ہزار روپے کی بنوائی گئی جبکہ متعلقہ کمپنی کو
پنجاب بینک کی سیکرٹریٹ برانچ سے ایک ارب 65 کروڑ روپے کی ادائیگی کی گئی جو کہ طے شدہ رقم سے کئی گنا زیادہ تھی
اس کے بعد اس مافیا نے 2081 طلبا کے جعلی شناختی کارڈ پر کاغذات میں لیپ ٹاپ دئیے ۔ جبکہ 1181 کا ریکارڈ ہی نہیں لکھا گیا جبکہ 305 لیپ ٹاپ چوری ہو گئے یا جل گئے جبکہ حکومتی لیپ ٹاپ مارکیٹ میں10 تا 15 ہزار روپے میں آج بھی فروخت ہو رہے ہیں

ن لیگ کے 2013 کے الیکشن منشور میں 45 بار لفظ توانائی لکھا گیا لیکن یہ توانائی صرف ریکارڈ جلانے پہ صرف ہوئی
قائداعظم سولر پارک
اربوں روپے سے شروع کیا گیا ہے 100 میگاواٹ بجلی کے میگا پروجیکٹ سے صرف 18 میگاواٹ بجلی ہی پیدا ہی ہوسکی اور حکومتی خزانے سے اربوں روپے پہ ہاتھ صاف کر لیے گئے
سابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے قائد اعظم سولر پارک منصوبہ کا افتتاح کرتے وقت پوری قوم کے سامنے کہا تھا کہ یہ 100 میگاواٹ کا منصوبہ ہے اور اسکی استعداد 900 میگاواٹ تک بڑھائیں گے اور آج وہ ڈھٹائی کے ساتھ اپنے کہے ہوئے اعلان سے منحرف ہوتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ یہ منصوبہ 18 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا ہے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب خود ہی بتائیں وہ تب جھوٹ بول رہے تھے یا اب
ماہرین کے مطابق منصوبے میں استعمال کی گئی سولر پلیٹس اعلیٰ معیار کی نہ ہونے کے باعث یہ سولر سسٹم پیداوار نا دے سکا
جب کہ قائداعظم سولر پارک منصوبے میں ایک ارب 20 کروڑ روپے کی کرپشن سولر پلیٹیس میں کی گئ اس منصوبے میں شہبازشریف کے فرنٹ مین 8.2 کمپنی کے چیف ایگزیکٹو رشید تھے
چیچوں کی ملیاں پاور پلانٹ
فلاپ ہوا تین ارب روپے لگنے کے بعد پراجیکٹ بند ہو گیا
نیلم جہلم ہائیڈروپراجیکٹ
فلاپ ہوا اور 40 ارب کا پراجیکٹ 450 ارب تک جاپہنچا اور پھر بند ہوا دوبارہ اسے کھڑا کیا گیا اب اس کا ایک یونٹ 25میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا ہے
گڈانی پاور پراجیکٹ
فلاپ ہوا فزیبلٹی رپورٹ اور افتتاح پر کروڑوں روپے لگانے کے بعد بند کردیا گیا
یوں یہ تشہیر پہ اربوں لگا کے منصوبے بھی توانائی سے محروم ہو کر ناکام ہو گئے ۔اور ریکارڈ آگ میں جل گیا

سیف سٹی پراجیکٹ
پنجاب سیف سٹی پراجیکٹ اکتوبر دو ہزار سولہ میں ابتدائی طور پر پانچ ارب کی لاگت سے شروع کیا گیا جس کی لاگت بعد ازاں ساڑھے تیرہ ارب تک پہنچا دی گئی۔

اس میں شریف برادران نے پراجیکٹ شروع ہونے سے قبل ہی ٹیکنیکل کرپشن کا آغاز کر دیا تھا
اس پراجیکٹ کے لیے اربوں روپے اپنی جیب میں ڈالنے کے لیے غیر معیاری کیمرے خریدے گئے
اب یہ کیمرے غیرمعیاری ہونے کی وجہ سے گاڑیوں کی نمبر پلیٹس بھی صاف طور پر نہیں دکھا سکتے
اس میں یپرا رولز کی شدید ترین خلاف ورزی کے بعد کاغذوں میں ڈیڑھ ارب روپے صرف کنسلٹنٹس کو نواز دیے گئے جو کسی طور بھی نہیں بنتے تھے،
شریف برادران کی پنجاب حکومت نے 5 شہروں میں سیف سٹی پراجیکٹس پر ڈیڑھ ارب روپے کے قریب رقم کنسلٹنٹس کی نذر کی گئ ۔
سیف سٹی پراجیکٹس کے منصوبے کیلئے فنڈز مختص ہونے سے قبل ہی کنسلٹنٹس کو ادائیگی کردی گئی تھی لاہورکیلئے44 کروڑ4لاکھ کنسلٹنسی کی مد میں اداکیے گئے ،
جس میں سے صرف نیسپاک کو 13کروڑ36 لاکھ روپے اداکیے گئے ہیں جبکہ سیف سٹی پراجیکٹ بہاولپور کیلئے14 کروڑ72لاکھ روپے کنسلٹنٹ کو ادا کیے گئے ہیں،سیف سٹی پراجیکٹ میں کنسلٹنٹس کو فیصل آباد کیلئے 22کروڑ 64 لاکھ روپے ادا کیے گئے
،سیف سٹی پراجیکٹ گوجرانوالہ کیلئے 20کروڑ64 لاکھ روپے اور ملتان پراجیکٹ 14 کروڑ 72 لاکھ روپے نوازے گئے،سیف سٹی پراجیکٹ روالپنڈی کیلئے23کروڑ 38 لاکھ روپے کنسلٹنٹ کی نذر کیے گئے لیکن پھر بھی کوئی کنسلٹنٹ یہ نا بتا سکا کہ کون کون سی لنک سڑکیں کیمروں کی حقدار ہیں اتنی کنسلٹنٹسی کی بجائے چوک میں کھڑے شاہ دین گٹے والے سے ہی پوچھ لیتے تو وہ بھی
بغیر کنسلٹنٹسی فیس کے خوشی سے بتاتا کہ کون سے پوائنٹ پہ کیمرہ لگے تو تمام لنک سڑکوں کا احاطہ ہو سکتا ہے
بالآخر یہ منصوبہ بھی ناکام ہوا سیف سٹی کے غیرمعیاری کیمرے چند ماہ ہی چل سکے اور اپنی موت اپ مر گئے یوں اس منصوبے کا ریکارڈ اور 13 ارب روپے دونوں غائب ہو گئے
اسے کہتے ہیں ٹیکنیکل کرپشن

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here