کالا باغ ڈیم کی بحث کو چھیڑنا پاکستان کی فیڈریشن سے کھیلنے کے مترادف ہے

0
107

جناب خورشید شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ
کالا باغ ڈیم کی بحث کو چھیڑنا پاکستان کی فیڈریشن سے کھیلنے کے مترادف ہے

پارلیمنٹ نے پانچ سال پورے کیے یہ بڑی کامیابی ہے ،میری نظر میں سب سے بڑا مسئلہ آبادی اور پانی کا ہے
درست فرمایا جناب خورشید شاہ اپ نے پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ تو جمہوریت کے پانچ سال پورے ہونے کا ہے اور دوسری بات بھی ٹھیک ہے نا آبادی بڑھے نا پانی پیے. اپ لوگوں پہ بچے پیدا کرنے کا قدغن تو لگا سکتے ہیں لیکن جو ذندہ ہیں ان کے لیے بھی بے نظیر کی تصویر لگے کسی چھپڑ کا بندوبست کر دیتے اور کالاباغ ڈیم کی مخالفت کرنا تو بنتا ہے اپ کا روٹی پانی اور سیاست ہمیشہ ایسے ہی ایشوز سے تو چلتی ہے عوام خوشحال ہو گئ تو اپ کو کون پوچھے گا.
پاکستان کی معیشت بجلی کی کمیابی کی وجہ سے پولیو کا شکار ہے

اور پاکستان کی اس حالت کے زمے دار وہ بھارت نواز تمام ڈرامے باز ہیں جنھوں نے پاکستان کا کھا کے بھارت کے لیے کام کیا جس نے ہمارے ہاں لوگوں کو لمبی رقوم دیں، منصوبہ بندی کی، ڈیم نہیں بننے دیئے اور واپڈا کو صرف پانی سے بننے والی بجلی تک محدود کر دیا ملک میں صلاحیت اور معاشی طور پر واپڈا کے علاوہ کوئی ادارہ یہ اختیار نہیں رکھتا تھا کہ وہ ملک میں ہوا، دھوپ، تیل، کوئلے یا گیس سے بجلی کا کوئی منصوبہ بنا سکتا اور جو ادارہ بنا سکتا تھا وہ واپڈا تھا جسے پلاننگ کمیشن نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے پانی کے سوا بجلی کے معاملات کو دیکھنے سے منع کر دیا یوں پاکستان کو دس سال میں بجلی کے جس شدید بحران کا سامنا درپیش تھا وہ آٹھ سال میں ہی سامنے آگیا

جس پر حکمرانوں نے موقع غنیمت جانتے ہوئے بھاری کمیشن کے ذریعے آئی پی پیز کو سستا ڈیزل دیا جنہوں نے اسے مہنگے داموں مارکیٹ میں فروخت کیا بجلی کم پیدا کی اور پاکستان سے کھربوں روپے وصول کیے ( پاکستان میں تیل کی سب سے بڑی اور اکلوتی تاجر حکومت ہی رہی ہے جو ایک گیلن پر ساٹھ روپے ٹیکس بھی وصول کرتی ہے جس سے سارے ملک میں مہنگائی بڑھ جاتی ہے بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کے بیرل کی قیمت آدھی بھی ہوجائے تو لوگوں کو یہ سہولت نہیں دی جاتی اور خزانے کو بھرنے کے بعد بڑے منصوبوں کے نام پر لوٹ لیا جاتا ہے)

محترمہ بے نظیر بھٹو آئی پی پیز ( انڈی پینڈنٹ پاور پرڈیوسر) کے ساتھ اس وقت کے مطابق انتہائی مہنگے داموں بجلی خریدنے کے بجائے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کی کوشش کرتیں تو اکیسویں صدی کے آغاز سے قبل یہ ڈیم تکمیل کے مراحل طے کرکے کب سے چار ہزار میگاواٹ بجلی برائے نام قیمت پر قومی گرڈ میں شامل کر چکا ہوتا۔ کالاباغ ڈیم کا محل وقوع ایسا ہے کہ بجلی کی پیداوار کے حوالے سے چین کے تعاون سے اس میں دس گناہ تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ ہمارے سیاست دانوں کی بصیرت کا اندازہ یہی سے لگائیے کہ وآپڈا 75 پیسے فی یونٹ بجلی لوگوں کو دیتی تھی اسوقت بے نظیر اور اسکے شوہر نے آئی پی پیز سے 5 روپے فی یونٹ میں معاہدے کیے تھے

کرائے کے بجلی گھر بجلی کی عارضی کمی پر قابو پانے کیلئے منگوائے جاتے ہیں۔ انکے ذریعے قومی گرڈ میں مستقل بنیادوں پر بجلی شامل نہیں ہو سکتی۔

ماہرین کے مطابق کرائے کے بجلی گھروں کے منصوبے کی شروعات‘ پیش رفت اور تکمیل کا مقصد ہی کرپشن تھا ۔
۔ ٹیکسٹائل ، سپننگ اور شوگر انڈسٹری مالکان نے ذاتی ملیکتی ( نجی پاور پلانٹس) لگا رکھےہیں۔ ان کا موقف ہے کہ حکومت ایک ہی جیسی ٹیکنالوجی ، ساخت، استعداد کے آئی پی پیز پالیسی کے تحت لگائے گئے کیپٹو ( نجی ملیکتی) پاور پلانٹس کےلیے ٹیرف ( قیمت) پر بجلی مہنگے داموں خریدتی ہے لیکن ہم سے انتہائی کم قیمت میں خرید کر ادائیگیاں نہیں کرتی جس کی وجہ سے حکومت کو بجلی نہیں دیتے

جبکہ جو اشرافیہ حکومت میں ہے ان کی شوگر ملوں نے اپنا کام دکھایا حکومت کی بجلی چار روپے یونٹ صنعتی بجلی کے نام پر وصول کی اور پھر 17 روپے فی یونٹ حکومت کو واپس فروخت کر دی کہ یہ بجلی ہم نے اپنی مل میں بنائی ہے اس طرح گورنمنٹ کو اربوں روپے کا ٹیکا لگایا گیا اور یہ ساری رقوم بظاہر قانونی طور پر لوٹ لی گئیں
آئی پی پیز کے دم سے ہی پاکستان میں سیاسی مداریوں کا کاروبار چلتا ہے جیسا کہ
جن نجی کمپنیوں نے ن لیگ کی انتخابی مہم چلائی تھی اور

ن لیگ کو پا رٹی فنڈز دیے تھے اقتدار میں آنے کے بعد ان آئی، پی پیز کو نواز حکومت نے پاکستان کے خزانے سے 400 ارب روپے سے نوازا اور بوگس کمپنیز کے نام سے ادائیگیاں کی گئ اڈٹ رپورٹ میں ان کمپنیز کا کہیں وجود نہیں مل پایا
۔پرویز مشرف کے دور میں غازی بروتھا پاور پراجیکٹ مکمل ہوا جس میں سے 1500 میگا واٹ بجلی سسٹم میں آئی مگر ن لیگ کی حکومت نے کبھی اس کا ذکر نہیں کیا البتہ سارا ملبہ پرویز مشرف پر ڈال دیا۔

حکمرانوں نے جو بجلی کے منصوبے لگائے اس میں بھاری رقوم وصول کیں۔پیپلز پارٹی کے دور میں نندی پور پاور پراجیکٹ کو سرد خانے میں ڈال دیا گیا پھر اس پراجیکٹ کے لوگوں نے خواجہ آصف کو سامنے رکھ کر سپریم کورٹ میں درخواست دائر کروائی اور مسلم لیگ ن کی حکومت کو اس میں بے تحاشہ پیسے کی چمک نظر آئی چنانچہ نواز حکومت نے اسے زور و شور سے مکمل کیا مگر آج وہ کہانی الٹ نظر آرہی ہے اربوں روپے لگ گئے مگر پروجیکٹ تکمیل کے بعد بھی مطلوبہ نتائج دینے سے قاصر رہا

۔ 22 ارب کا نندی پور پاور منصوبہ 120 ارب روپے کھا گیا
نندی پور پاور پراجیکٹ کا افتتاح وزیراعظم نواز شریف نے 31 مئی کو کیا اور صرف پانچ روز فعال رہنے کے بعد تکنیکی مسائل کی بناءپر اسے بند کر دیا گیا۔ پچانوے میگاواٹ کی پہلی ٹربائن ڈیزل پر چلائی گئی تھی۔ اس پرانی اور متروک مشینری پر فی یونٹ تیس روپے کے قریب خرچ آرہا تھا لہٰذا یہ ٹربائن بند کردی گئی۔ اپنی نااہلی اور بدعنوانی چھپانے کےلیے فوری طورپر منصوبے کے ایک یونٹ کو کمشننگ کے بغیر چلا کر “پیداوار” کا افتتاح کردیا گیا۔ افتتاح کے بعد وزیراعظم کی تشہیر کے لیے کروڑوں کے اشتہارات چلائے گئے۔ صرف پانچ روز بعد پراجیکٹ ڈائریکٹر کے اعلان کے ذریعے اس یونٹ کو بھی بند کردیا گیا کہ یہ پیداوار باقاعدہ نہیں محض “آزمائشی” تھی

آئیل کنٹینرز کی جعلی انوائسز بنا کر اربوں ڈکار لیے گئے ۔نندی پور پاور اسٹیشن میں آئیل کی خریداری اور اہم فائلوں کو 6 ستمبر 2016 کی صبح پھاڑ دیا گیا اس پراجیکٹ میں شہباز شریف کے فرنٹ میں محمد محمود کو اج کل شہبازشریف نے
سیکرٹری زراعت بھی تعینات کر رکھا ہے اس نے شہباز شریف کی سربراہی میں قومی خزانہ کو چالیس ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا تھا
نندی پور کا زیادہ تر ریکارڈ بھی جلا دیا گیا ہے جب یہ ریکارڈ جلایا گیا تھا اس وقت وزیر پانی و بجلی کے وفاقی وزری خواجہ اصف تھے

پاکستان میں دو سال کے اندر فوری طور پر بجلی کے مستقل منصوبوں میں سے ایک گیس پر چلنے والے پاور پلانٹ تھے۔ ایران سے سستی گیس لاکر ان پلانٹس کو مہیا کی جا سکتی تھی۔ آصف زرداری نے اپنے دور میں پاک ایران گیس پائپ لائن کا ایران میں جاکر اس وقت بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان کو ملنے والی گیس دنیا کی سستی ترین گیس ہوگی گو یہ گیس دفاعی اور قومی اہمیت کی اس طرح سے ہوگی کہ کسی بیرونی خطرے اور حملے کی صورت میں سمندر میں بحری جہازوں کو پاکستان پہنچنے کے لئے روکا جاسکتا ہے بھارت نے مدت سے یہ منصوبہ بندی کر رکھی ہے کہ پاکستان کو سمندر میں روکنے کا مکمل انتظام کیا جائے اب جبکہ سی پیک منصوبہ شروع ہوچکا ہے چین نے پاکستان کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت پاکستانی سمندری حدود میں آنے اور جانے والے جہازوں کی حفاظت کے لئے کچھ اقدامات کیے ہیں وہ اپنے بحری بیڑے کو بھی اس علاقے میں لے آیا ہے مگر پاک ایران گیس پائپ لائن انتہائی دفاعی اہمیت کا منصوبہ بھی تھا کیونکہ یہ گیس پائپ لائن زیر زمین پاکستانی سسٹم سے جڑ جاتی جس پر کسی دہشتگردی یا ہوائی حملے کی صورت میں کوئی خاص اثر نہ پڑتا مبینہ طور پر اس منصوبے کا افتتاح آصف علی زرداری نے اپنی حکومت کے ختم ہونے سے چند ماہ پہلے کیا اور سنا ہے کہ اس میں خاصی چمک بھی موجود تھی۔ آنے والے حکمرانوں کے لئے کوئی چمک نہیں بچی لہٰذا انھوں نے اس منصوبے کو کھٹائی میں ڈال دیا۔
گہری اور قومی سوچ رکھنے والے دور اندیش حکمران ہمیشہ سب سے پہلے ملک میں تیل،گیس اور بجلی کے معاملات کو مضبوط ،مستحکم اور عوام کی دسترس میں رکھنے کے منصوبے بناتے ہیں۔ میاں نواز شریف نے لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے جو دعوے کیئے تھے وہ یقیناً جھوٹ پر مبنی تھے لہٰذا پایہ تکمیل کو نہ پہنچنا تھا نہ پہنچے۔ اسلام آباد میں آج بھی آٹھ آٹھ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے لاہور می‌ ہر گھنٹے بعد ایک گھنٹہ لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے مگر اس طرف توجہ دینے والا کوئی نہیں ‏ن لیگ حکومت نے چھوٹے صوبوں میں بجلی کی زیادہ لوڈشیڈنگ کرکے پنجاب میں اس کا دورانیہ کم رکھا اور پنجاب کے چھوٹے شہروں اور دیہات میں نسبتا زیادہ لوڈ شیڈنگ کرکے لاہور میں لوڈ شیڈنگ نہ ہونے کے برابر کردی تھی ۔ اب نگران حکومت نے بجلی مساوی تقسیم کی تو سب اصلیت کھل گئی۔

ملکی صنعتوں میں بھی آٹھ سے بارہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے جہاں ایک طرف مزدور بے روزگار ہو رہا ہے دوسری طرف ایکسپورٹ کرنے کےلئے مال بھی تیار نہیں ہوسکتا جس کی وجہ سے پاکستان کو اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے کاش جانے والے حکمران محض نعرے مارنے اور حکومت کی پر تعیش گاڑیاں لینے کی بجائے عوام کی فلاح و بہبود کا سوچتے ہوئے ملک میں ہر پندرہ بیس منٹ کے فاصلے پر چھوٹا بڑا ڈیم بنانے کی سعی کرتے تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتے۔ حکمران جھوٹے دعوے کر کے چلے گئے اور لوگ اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں

تحریر :حجاب رندھاوا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here