ڈاکٹر شکیل آفریدی اور کرنل سعید اقبال حصہ دوم

0
345

ڈاکٹر شکیل آفریدی اور کرنل سعید اقبال ۔۔۔۔۔۔۔۔  حصہ دوم 

شکیل آفریدی کا امریکہ کو حوالے کیا جانا کتنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے ؟؟؟

کچھ عرصہ پہلے امریکہ کے خفیہ اداروں میں اس وقت کھلبلی مچ گئی جب انکا ایک ایجنٹ نہایت خفیہ اور اہم نوعیت کی دستاویزات کے ساتھ فرار ہوکر ماسکو پہنچ گیا جہاں اسکو فوری سیاسی پناہ مل گئی۔ وہاں اسنے ان دستاویزات کو ریلیز کرنا شروع کیا جس سے پوری دنیا خاص کر پاکستان میں کافی لوگ سناٹے میں آگئے۔

ان دستاویزات کے مطابق امریکہ جاسوسی کا ایک خفیہ نیٹ ورک چلاتا ہے جسکا بجٹ بھی خفیہ ہی رکھا جاتا ہے اور اس نیٹ ورک کا سب سے بڑا نشانہ پاکستان اور پاکستان کے جوہری ہتھیار ہیں ۔

ایڈورڈ سنوڈن نامی یہ ایجنٹ اپنے ساتھ جو ہزاروں دستاویزات لایا ہے انکے مطابق امریکہ کے اس جاسوسی نیٹ ورک کا بجٹ 53 بلین ڈالر ہے اور اس بجٹ کا آدھا حصہ صرف پاکستان کۓ خلاف استعمال کیا جاتا ہے اور بقیہ آدھا حصہ دنیا بھر کے دیگر ممالک کے خلاف۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی اور کرنل سعید اقبال حصہ اؤل

آپ کو یہاں ضمناً بتاتے چلیں کہ اس سال پاکستان کا کل بجٹ 48 بلین ڈالر رہا اور ہماری ساری آرمی اور اسکے نیوکلیر ہتھیاروں کا کل بجٹ صرف 9 بلین ڈالر۔

ان دستاویزات کے مطابق امریکہ نے اب تک پاکستان کے معاملے میں صرف یہ کامیابی حاصل کی ہے کہ وہ ہتھیاروں کے ٹھکانوں اور انکی تعداد وغیرہ کے بارے میں جان چکا ہے لیکن وہ یہ نہیں جان سکا ہے کہ ان کی نقل و حمل کیسے کی جاتی ہے۔

ان دستاویزات کے مطابق پاکستان میں خریدے گئے لوگوں کی وفاداری قابل بھروسہ نہیں اور اس سلسلے میں وہ ایسا میکنزم بنا رہے ہیں جن کے ذریعے وہ اپنے خریدے گئے لوگوں کی وفاداری جانچ سکیں گے

ان مخبروں کو بے پناہ دولت کے علاوہ امریکن شہریت کا لالچ دیا جاتا ہے۔

کچھ عرصہ پہلے میڈیا اور سوشل میڈیا پر یہ خبریں گردش کرتی رہی ہیں کہ امریکہ نے 4000 خصوصی کمانڈوز صرف پاکستان کے نیوکلئیر اثاثوں پر قبضہ کرنے کے لیے تیار کیے ہیں جن کو اس وقت حرکت میں لایا جائیگا جب پاک فوج اندرونی خانہ جنگیوں کی وجہ سے شکست کے دھانے پر ہو۔

پاکستان کے حساس ہتھیاروں کے خلاف کوئی بھی خفیہ کاروائی کرنے سے پہلے امریکہ کو یہاں قابل بھروسہ لوگوں کا ایک پورا نیٹ ورک درکار ہوگا جسکے لیے امریکہ ان کو ایک ایسی مثال ضرور پیش کرنا چاہے گا جو ان سب ایجنٹوں (غداروں) کی آنکھیں چندھیا دے اور وہ سب کچھ کر گزرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔

اسامہ بن لادن کی نشاندہی کرنے والا غدار شکیل آفریدی ایک ایسی ہی مثال بن سکتا ہے جس کو امریکہ ملالہ کی طرح آسمان پر چڑھانے کا پروگرام تیار کیے بیٹھا ہے اور اس کو امریکہ کا قومی ہیرو قرار دے رہا ہے۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی اور کرنل سعید اقبال حصہ اؤل

شکیل آفریدی منگل باغ اور ٹی ٹی پی کے علاوہ افغان مجاہدین کے بارے میں بھی بہت کچھ جانتا ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ شکیل آفریدی کے پاس افغان مجاہدین اور انکے ٹھکانوں اور رابطوں وغیرہ کے معاملے میں کتنے راز ہیں اگر اس کو امریکہ کے حوالے کیا گیا تو پاکستان موجود سینکڑوں دیگر ایجنٹوں (غداروں) کو جو پیغام ملے گا وہ تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

شکیل آفریدی کو ایسے تمام غداروں کے لیے نشان عبرت بنانا ضروری ہے۔

ملالہ سے متاثر پاکستان میں غداروں کی جو نئی کھیپ تیار ہوئی اس کو آج ہم بھگت رہے ہیں۔

مجھے ٹی ٹی پی اور القاعدہ کے رویے پر بھی حیرت ہے جو اسامہ بن لادن کو اپنا سب سے بڑا امیر یا ہیرو مانتی ہے لیکن اسامہ کے مبینہ قاتل اور مستند امریکی ایجنٹ کے خلاف کوئی کاروائی کرنا تو درکنار آج تک ایک بیان دینا بھی ضروری نہیں سمجھا بلکہ الٹا انسے رابطے میں رہے

یہاں میں پاکستان کے ان جانبازوں کو سلام پیش کرتا ہوں جو بے پناہ دولت کی لالچ اور موت کے خوف کے درمیان امت کی اس امانت کی حفاظت کر رہے ہیں

اللہ ان کو جزائے خیر دے۔

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here