پولیس نے چند دنوں میں دو پنجابی، ایک مہاجر اور ایک پشتون کو قتل کیا۔

0
210

پولیس اور بدمعاشیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پولیس نے چند دنوں میں دو پنجابی، ایک مہاجر اور ایک پشتون کو قتل کیا۔

پنجابی قصور میں مارے جو زینب کے لیے انصاف مانگ رہے تھے اور پشتون اور مہاجر کراچی میں۔

اس سے پہلے پولیس لاہور میں بدمعاشیہ کے حکم پر 14 پنجابیوں کو مار چکی ہے جن میں زیادہ تر خواتین تھیں۔ چند ایک حاملہ بھی تھیں۔

اسلام آباد میں ڈی چوک پر بھی پولیس قتل عام کر چکی ہے اور وہاں 15 پنجابیوں کو قتل کیا گیا۔

یہ سب بے قصور تھے
سب پاکستان سے محبت کرنے والے تھے
اور سب خوبصورت تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اہم بات یہ ہے کہ جس بدمعاشیہ کے حکم پر پولیس نے یہ قتل عام کیا اسی بدمعاشیہ کی سوشل میڈیا کراچی میں پٹھان نوجوان کے قتل پر پاکستان کے خلاف نفرت انگیز مواد پوسٹ کرنے لگی ہے۔

آپ لوگوں کو کیا لگتا ہے اگر پاکستان دشمن پاکستان کو لسانی اور مسلکی بنیادوں پر تقسیم کرینگے تو پاکستان میں انکی مددگار بدمعاشیہ انکا ہاتھ نہیں بٹائی گی؟؟

اور بدمعاشیہ کا اہم ترین ٹول پولیس ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پولیس کو بطور ٹول استعمال کرنے کی ایک مثال زینب والا معاملہ بھی ہے جس میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق ۔۔۔

پولیس اور مقامی ن لیگی بدمعاشیہ قصور کے بچوں کے خلاف اس گھناؤنے کھیل میں پارٹنر ہیں۔

پولیس کے 12 ایس ایچ اوز اور 2 ڈی ایس پیز کروڑ پتی ہو چکے ہیں۔

300 بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو پکڑا گیا تھا بچوں نے شناخت بھی کر لیا تھا لیکن سب کے سب کو سیاسی بدمعاشیہ اور پولیس نے ملی بھگت سے چھوڑ دیا۔

زینب کی آیف آئی آر کاٹنے کے لیے رشوت اور لاش حوالے کرنے کے لیے بھی رشوت طلب کی گئی۔

اب بقول قصور کے لوگوں کے جو شخص آواز اٹھاتا ہے پولیس اسکی ویڈیو بنا کر ان بدمعاشوں کے حوالے کر دیتی ہے جس کے بعد وہ گھروں میں آکر دھمکیاں دیتے ہیں۔

یہ سب کچھ پولیس ” پنجابیوں ” کے ساتھ کر رہی ہے۔

اس لیے ۔۔۔۔۔۔

اس کو پنجابی، پشتون، سندھی یا بلوچی کی لڑائی مت بناؤ۔ بدمعاشیہ اور اس کی لے پالک پولیس یہ ظلم سب پر برابر کر رہی ہے اور اسکا مقابلہ سب نے ملکر کرنا ہے۔ اس میں پاکستان کا کوئی قصور نہیں ۔۔۔۔۔۔۔

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here