پاک فوج کی فاٹا آمد سے پہلے ہی فاٹا کے اکثر حصوں پر دہشت گردوں کا قبضہ ہوچکا تھا۔

0
166
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زما لویہ گناہ دا دا چہ پختون یم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟

پاک فوج کی فاٹا آمد سے پہلے ہی فاٹا کے اکثر حصوں پر دہشت گردوں کا قبضہ ہوچکا تھا۔

دہشت گردوں کی اکثریت بشمول تمام بڑے کمانڈروں کے پشتون تھی اور تنظیم کا حصہ بننا اس وقت طاقت و دہشت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔

دہشت گردوں کو وزیرستان میں پناہ فراہم کرنے والے پشتون تھے۔

وزیرستان میں ہی دنیا کا اکلوتا بازار بنا تھا جہاں دہشت گردی میں استمعال ہونے والی چیزیں بکتی تھیں بمع خود کش جیکٹوں کے۔ تمام دکاندار پشتون اور مقامی تھے۔

اس کے بعد ان دہشت گردوں نے فاٹا اور کے پی کے سمیت پورے پاکستان میں حملے کیے اور بلاتفریق ہر زبان، رنگ و مسلک کے لوگوں کو بموں سے اڑایا بشمول پشتونوں کے۔

ان حملوں میں مرنے والوں کی تعداد پچاس ہزار تک پہنچ گئی۔

دہشت گردوں کو تمام سپلائز اور مدد افغانستان سے ملتی رہی۔

دہشت گردوں کے ساتھ حکومت کے کئی ناکام معاہدوں کے بعد بالآخر پاک فوج نے فاٹا میں آپریشنز کا آغاز کیا۔ مقامی آبادی کو بچانے کے لیے ہر علاقے کو آپریشن سے پہلے خالی کرایا۔

اس کے بعد پاک فوج نے تین بڑے آپریشنز کیے اور اپنےکم از کم چودہ سو جوانوں کی قربانی دے کر پشتونوں کو دہشت گردی کے اس ناسور سے نجات دلائی۔

جس کے بعد بتدریج مقامی آبادی کو واپس بسایا گیا۔ نہ صرف یہ بلکہ کسی بھی حکومتی تعاؤن کے بغیر سڑکوں، سکولوں اور مارکیٹوں کی تعمیر نو بھی کی۔
سلیم صافی جیسا فوج مخالف صحافی لکھنے پر مجبور ہوا کہ حقیقی تبدیلی وزیرستان میں آئی ہے۔

70 سال بعد پہلی بار پاک فوج کی کوششوں سے فاٹا اصلاحات نامی بل تیار کیا گیا جس کے تحت ایف سی آر سمیت ہماری کئی درینہ آرزوئیں پوری ہونی ہیں۔

کیا یہ سب سچ نہیں ہے ؟؟؟

اگر یہ سب سچ ہے تو شرم آنی چاہئے ہمیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیسے پشتون ہیں ہم؟؟

پشتون تو احسان فراموش نہیں ہوتا۔

جنہوں نے ہمیں بچانے کے لیے اپنی جانیں قربان کر دیں انہی کو اپنا دشمن قرار دے رہے ہیں؟

جن پچاس ہزار لوگوں کا خون درحقیقت خود ہمارے اپنے ہاتھوں سے ٹپک رہا ہے وہ ان کے سر تھوپ دیا جنہوں نے یہ سب روکنے کی جنگ لڑی؟؟

ہمارا سیکولر ” قوم پرست مشر ” ہمیں بتا رہا ہے کہ پاکستان تمھارا دشمن اور وہ افغانستان تمھارا خیر خواہ ہے جہاں سے یہ دہشت آکر تمھیں مار رہے ہیں اور ہم اس پر ایمان لے آئے۔

ہمارا ملا ” قوم پرست مشر ” ہمیں مارنے والے کو شہید اور ہمیں بچانے والے کو مردار قرار دیتا ہے اور فاٹا اصلاحات کے راستے کا پتھر بن گیا۔ لیکن ہم اس پر بھی ایمان لے آئے۔

ہم نے خود ہی مارا اور خود ہی اس پر یقین کر لیا کہ کسی اور نے مارا ہے۔
اور اس جھوٹ کو سچ مان کر اب گانے بھی گا رہے ہیں کہ ۔۔ ” زما لویہ گناہ داد چہ پختون یم ” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پختون نہ ڑند اور دے عقلہ خلاص زکہ مے دا حال دے!

ہم اپنے اس جھوٹ میں اتنا آگے چلے گئے ہیں کہ وہ پچاس ہزار لوگ جو ہم نے مارے، ان پر شرمندہ ہونے کے بجائے دنیا پر اسکا احسان کر رہے ہیں؟؟ اور ان کو جواز بنا رہے ہیں اپنے مظلوم ہونے کا؟؟

تم کرو، کرتے رہو، تمھیں اللہ ہی ہدایت دے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن میں نہیں کرونگا۔

میں پشتون ہوں اور میں اپنے دوست اور دشمن سے واقف ہوں۔

پاک فوج زندہ باد، پاکستان زندہ باد

تحریر شاہدخان پٹھان


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here