پاکستان کے قومی اداروں کی کارکردگی جمہوری ادوار کی نسبت فوجی ادوار میں بہت بہتر رہی

0
95

پاکستان میں جمہوریت اور آمریت کا ذرا سرسری سا موازنہ کرتے ہیں !
پاکستان پر اس وقت کل قرضہ 71 بلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے ۔
اس میں سے صرف 3 بلین ڈالر فوجی ادوار کا ہے باقی 68 بلین ڈالر “جمہوری” قرضہ ہے ۔
ڈالر کی قیمت 98 روپے ہے ۔
اس میں سے کل ملا کر صرف 20 روپے تینوں فوجی ادوار میں بڑھی ۔
باقی 68 روپے قیمت جمہوریت کا تحفہ ہے ۔
پاکستان کے قومی اداروں کی کارکردگی جمہوری ادوار کی نسبت فوجی ادوار میں بہت بہتر رہی ۔ اسکی لمبی چوڑی تفصیل ہے ۔ صرف ایک دو مثالیں دینا کافی ہوگا ۔ کیا کوئی یقین کر سکتا ہے کہ پی آئی اے ایوب خان کے دور میں دنیا کی نمبر ایک ائر لائن تھی !
اسی طرح آج کل جس سٹیل مل کو بیل آؤٹ پیکج دیا جا رہا ہے یہ سٹیل مل صرف چند سال پہلے پرویز مشرف کے دور میں ایک بلین روپے کما کر دے رہی تھی ۔
ایک حیرت انگیز سچائی یہ بھی ہے کہ جمہوری ادوار میں پاکستان کے قومی اداروں میں سے کوئی ایک بھی سٹیبل نہ رہ سکتا ترقی کرنا تو دور کی بات ہے ۔ اسکو چیک کیا جا سکتا ہے ۔
پاکستان کی افغان پالیسی اور جنگجوؤں کو سپورٹ کرنا بھی جمہوریت کا ہی تحفہ ہے ۔
سب سے پہلے بھٹو نے خود گل بدین حکمت یار ، یونس خالص، احمد شاہ مسعود وغیرہ کو پاکستان بلوا کر چراٹ میں ٹریننگ دلوا کر افغانستان بھیجا تھا بغاوت کرنے ۔
ضیاء نے بعد میں بھٹو کے ان تیار کردہ مجاہدین کو صرف روس کے خلاف استعمال کیا تھا پاکستان کو بچانے کے لیے ۔
اسی طرح طالبان بھی 92/93 میں بنے اور 99 تک پروان چڑھے جو کہ ایک جمہوری دور تھا۔
پاکستان کے اندر پانچوں بڑے فوجی آپریشن جمہوری دور میں ہوئے ۔ بلوچستان میں پہلا ، بڑا اور واحد آپریشن بھٹؤ اور نواب اکبر بگٹی نے مل کر مری قبائل کے خلاف کروایا تھا ۔
کراچی میں ایم کیو ایم کے خلاف پیپلز پارٹی کے حکم پر ۔
سوات او وزیرستان میں پیپلز پارٹی کے حکم پر ۔
اور تازہ ” ضرب عضب ” آپریشن نواز شریف کے حکم پر
( جمہوریت کے یہ سارے چیمپئنز اس بات سے انکار نہیں کرینگے کہ یہ انکی مرضی سے نہیں ہوئے تھے )
پاکستان سے بنگلہ دیش نے الگ ہونے کا اعلان جمہوری دور میں کیا جب بھٹو مجیب کا مینڈیٹ تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہو رہا تھا ۔
پاکستان کے سارے بڑے ڈیم ، نہریں ، بیراج اور غازی بھروتہ پراجیکٹ وغیرہ جن پر اس وقت کل پاکستان کی زراعت کا انحصار ہے اور جو آج بھی پاکستان کو سستی بجلی مہیا کر کے چلا رہے ہیں سب فوجی ادوار میں بنے ۔
پاکستان کے لیے ریڑھ کی ہڈی جسی حیثیت رکھنے والے کالاباغ ڈیم کو جمہوریوں نے متنازع بنایا اور بالاآخر پابندی لگوائی ۔
بقول ڈاکٹر عبد القدیر اور چند اور بڑے سائنسدانوں کے بھٹو کے دور میں ایٹمی پروگرام صرف کاغذوں اور پلاننگ تک محدود تھا اسکو حقیقت کا رنگ اور اسکی تکمیل جنرل ضیاء نے کی جس نے اپنی غیر معمولی سفارتی صلاحیتوں کی بدولت یو این او سے سرٹیفیکٹ لے رکھا تھا کہ “پاکستان ایتمی پروگرام پر کام نہیں کر رہا ” ۔ جبکہ بچہ بچہ یہ بات جانتا تھا ۔ اسی کے دور میں پاکستان ایٹم بم استعمال کرنے کے قابل ہو گیا تھا ۔
پاکستان کی ائر فورس کو جدید ترین طیارے ٖایف 16 اوربعد میں جے ایف تھنڈر فوجی ادوار میں ملے اور پاکستان کا ایٹمی آبدوز پروگرام فوجی کے دور میں شروع اور مکمل ہوا ۔ پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی مشرف کے دور میں ڈیویلپ ہوئی جب پاکستان روزانہ ایک میزائل کا تجربہ کرتا تھا اور تو اور بری فوج کے لیے الخالد ٹینک بھی آمریت کا ہی تحفہ ہے ۔
انڈیا کے خلاف 65 کی جنگ میں ( اگر ویکیپڈیا کی جانب دارانہ آرٹیکلز جن کو ایڈٹ نہیں کیا جا سکتا اور پاکستان میں بیٹھے انڈین دانشوروں کو نظر انداز کر دیں ) فتح حاصل کی گئ ۔ روس کو مکمل شکست دی گئی ۔ کمشیر کی جنگی آزادی اور خالصتان تحریک بھی فوجی ادوار میں پروان چڑھی جنہوں نے تقریباً انڈیا کو توڑ دیا تھا ۔
خالصتان تحریک کو پیپلز پارٹی نے خفیہ اطلاعات دے کر تباہ کیا اور کشمیر مجاہدین کے بارے میں نواز شریف نے اطلاعات فراہم کیں اور انکی قربانیوں پر پانی پھیر دیا ۔
اسی طرح پرویز مشرف کے بارے میں بہت سے امریکن کہتے ہیں کہ امریکہ کی دو سو سالہ تاریخ میں اگر کسی ایک شخص نے امریکہ کی بنیادیں ہلائیں ہیں تو وہ پرویز مشرف ہی ہیں ۔ جنہوں نے امریکہ کے ساتھ دوغلی پالیسی چلائی اور افغانستان میں مجاہدین سے خفیہ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے امریکہ کو دلدل میں گھسیڑ دیا ۔ یہانتک کہ امریکہ کے لیے سب سے وانٹڈ بندہ بھی انہی کے پاس سے برآمد ہوا ۔
پاکستان میں تقریباً ساری اسلامی قانون سازی ایک فوج ہی کے دور میں ہوئی جمہوری ملا اس سلسلے میں آج تک کچھ نہ کر سکے سوائے فساد برپا کرنے کے ۔
یہ ایک نہایت مختصر جائزہ ہے ۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کو جمہوریت نے روندا یا پاک فوج نے ۔
بس فرق صرف یہ ہے کہ جمہوریوں کے پاس بولنے والے لوگ ہوتے ہیں جو عوام کے سامنے مسلسل اور تھکے بغیر صرف یہ دہراتے رہتے ہیں کہ ” یہ سب آمریت کا کیا دھرا ہے” جس کو بالاآخر عوام کے دماغ قبول کر لیتے ہیں ۔
تحریر شاہد خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here