پاکستان کے خلاف عالمی کاروائی کا جواز

0
128

پاکستان کے خلاف عالمی کاروائی کا جواز ۔۔۔۔۔۔۔۔

عراق، شام اور لیبیا کے خلاف کاروائی کے لیے پہلے جواز گڑے گئے
پھرامریکی صدور نے دھکیاں دیں
پھر ان ریاستوں کے اندر بغاوتیں برپا کی گئیں
پھر ان ریاستوں کو کاروائی کر کے برباد کر دیا گیا

بلکل اسی طرز پر ۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان کے خلاف نہایت شدومد سے ایک عالمی جواز گڑا جا رہا ہے کہ پاکستان یا پاک فوج دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہی ہے
پاکستان کو ڈونلڈ ٹرمپ، نریندر مودی اور اشرف غنی جنگ کی دھمکیاں دے رہے ہیں
اور پاکستان میں ایسے گروہوں کو ابھارا جا رہا ہے جو پاکستان کے خلاف مدد کے لیے عالمی قوتوں کو پکار رہے ہیں۔

امریکہ افغانستان میں اپنی شکست کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیتے ہوئے دعوی کررہا ہے کہ پاک فوج افغان طالبان کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ افغانستان کا بھی یہی دعوی ہے۔ انڈیا چیخ رہا ہے کہ کشمیریوں کی مزاحمت کے پیچھے پاکستان ہے۔

لیکن زیادہ خطرناک پاکستان کے اندر کے وہ دشمن ہیں جو پاکستان کے خلاف اس عالمی جواز کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تین بار وزیراعظم رہنے والا نواز شریف کبھی ڈان لیکس اور کبھی انٹریوز کے ذریعے انڈیا میں ہونے والی دہشت گردی کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دے رہا ہے۔

پاکستانی وزیرخارجہ خواجہ آصف امریکہ میں بیٹھ کر فرماتا ہے کہ حافظ سعید پاکستان سے باہر دہشت گردی کرتا رہا ہے۔

محمود اچکزئی افغانستان میں دہشت گردی کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیتا ہے۔

قومی پرستی کے جھنڈے تلے اٹھنے والی منظور پشتین کی تحریک بھی ” دہشت گردی کے پیچھے وردی ” والے نعرے کی مدد سے اس “عالمی جواز” کو تقویت دے رہی ہے۔ وہ یہ نعرے صرف پاکستان میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں لگا رہےہیں اور زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ پاکستان کے خلاف عالمی قوتوں کو بھی پکار رہے ہیں۔ ساتھ ساتھ پشتونوں کو ریاست کے خلاف بغاوت کے لیے بھی اکسا رہے ہیں۔

یعنی شام، لیبیا اور عراق والا سٹیج بلکل تیار ہوچکا ہے۔

رکاؤٹ تین چیزیں ہیں۔
پاک فوج کی قوت و کیفیت، نیوکلئیر ہتھیار اور چین۔

پاکستان دشمنوں نے یہ کیلکولیٹ کرنا ہے کہ پاکستان کے خلاف کسی عالمی کاروائی کے نتائج کو کنٹرول کیا جا سکے گا یا نہیں؟

پاکستان کے پاس موجود ڈیڑھ سو کے قریب نیوکلئر ہتھیار اور ان کو لے جانے والا ڈیلوری سسٹم پوری دنیا کو تباہ کرنے کے لیے کافی ہے۔
جبکہ چین پاکستان کے خلاف کسی بھی کاروائی کو چین کے خلاف کاروائی قرار دے چکا ہے جس کا جواب چین پوری قوت سے دے گا۔

صرف اور صرف اسی خطرے نے ان کو روک رکھا ہے۔

اب ان کی زیادہ تر امیدیں زرداری و نواز شریف کے ہاتھوں پاکستان کی تباہ ہوتی ہوئی معیشت اور خود پاکستانی عوام سے وابستہ ہیں کہ وہ عراق، شام اور لیبیا کی طرح خود اپنی ہی ریاست کو شکست دینے میں ان کی مدد کریں۔

اس کے لیے پاکستان میں قوم پرستوں کو ابھارا جا رہا ہے خاص طور پر پشتون قوم پرستوں کو۔

اگر پاکستانی قوم پاکستان کے خلاف عالمی جواز کو مضبوط کرنے والی ان آوازوں کو شکست دینے میں کامیاب ہوگئی تو شائد ہم لیبیا، شام یا عراق بننے سے بچ جائیں۔

نوٹ ۔۔۔۔ کل میڈیا پر چند ملاؤوں نے حسب عاددت شر انگیزی کی اور سب اس کو لے کر بیٹھ گئے۔ اپنی ذاتوں کے اسیر اور عقل سے پیدل ان فتنہ پرور ملاؤوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو اور اپنی فکر کرو۔

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here