پاکستان کے اصل دشمن

0
147

پاکستان کے اصل دشمن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !

کچھ عرصہ پہلے میڈیا پر خبریں گردش کرتی رہیں کہ نواز شریف نے انڈیا کو مرید کے پر حملہ کرنے کی دعوت دی ہے تاکہ پاک فوج پر دباؤ بڑھایا جا سکے اور حافظ سعید صاحب کو خدا نخواستہ قتل کیا جا سکے۔

جس کے بعد ناصر جنجوعہ کو نواز شریف سے ایک طویل ملاقات کرنی پڑی اور مبینہ طور پر شریف خاندان کی سعودی عرب طلبی ہوئی۔

حامد میر، محمد مالک، شاہد مسعود نے اشارے کنائیوں میں جبکہ فیصل محمد نے کھل کر یہ خوفناک انکشاف کیا تھا۔

مطلب ن لیگ کے رانا افضل نے امریکہ کے ذریعے جو پاکستان کو تورا بورا بنانے کی بات کی تھی وہ غلطی نہیں تھی۔

دشمنوں کو پاکستان پر حملے کی دعوت دینا شائد تمام جمہوری حکمرانوں کی مشترکہ صفت ہے۔

نجم سیٹھی کے مطابق 65ء میں انڈیا کا پاکستان پر حملہ درحقیقت بھٹو کا پلان تھا۔ ان کے مطابق ” طارق علی نے اس وقت بھٹو سے 65 کی جنگ کے بارے میں پوچھا جب وہ ایوب خان کو چھوڑ چکے تھے کہ یہ جنگ آپ نے کیوں کی تھی؟ اور آپ نے کی تھی یا انڈیا نے ؟ ۔۔۔۔ بھٹو نے جواب دیا کہ ہم نے کی تھی۔ مجھے یقین تھا کہ اگر ہارتے ہیں تو ایوب خان گر جائیگا، ایوب خان گرے گا تو میرا راستہ کھل جائیگا۔ جیت گئے تو ہم ہیرو بن جائنگے کیونکہ میں ہی وزیر خارجہ تھا۔ دونوں صورتوں میں میری جیت تھی”۔۔

محض اپنا راستہ صاف کرنے کے لیے ذولفقار علی بھٹو نے پورے پاکستان کو داؤ پر لگا دیا تھا۔ اگر پاک فوج اپنی جانوں پر نہ کھیلتی تو شائد ہم لاہور ہار جاتے۔

۔ 1990ء میں بے نظیر بھٹو نے انڈیا میں موجود امریکی سفیر کے نام خط لکھا جس میں اس نے امریکہ سے اپیل کی کہ “پاکستان کو دی جانے والی معاشی اور دفاعی امداد بند کی جائے اور ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف پاکستان کو قرضہ دینا بند کرے۔ پاکستان کے ساتھ ہر قسم کی تجارت بند کر دی جائے تاکہ پاکستان میں عام شخص کی زندگی معطل ہو جائے”
” پاکستان کو ایف 16 طیارے اور ان کے پرزوں کی فراہمی روک دی جائے تاکہ پاک فوج کا دماغ ٹھکانے آسکے “
“آپ انڈین وزیراعظم پر دباؤ ڈالیں کہ وہ پاکستان پر حملہ کر کے پاکستانی فوج کو مصروف کر دے تاکہ میرے لیے آسانی ہو سکے”

اپنا راستہ صاف کرنے کے لیے انڈیا کو پاکستان پر حملہ کرنے کی دعوت۔ جو کام باپ نے کیا وہی بیٹی نے بھی کیا۔ اور بعد میں وہی کام داماد نے بھی کیا۔

مئی 2011ء میں بھٹو کے داماد اور اس وقت کے صدر پاکستان آصف علی زرداری کی جانب سے امریکن ایڈمرل مائکل مولن کے نام ایک خط لکھا گیا جو میمو گیٹ سکینڈل کے نام سے مشہور ہے۔ اس خط میں آصف زرداری نے امریکہ سے پاک فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف مدد طلب کی تھی چاہے جنگ کر کے ہو یا کسی اور طرح سے اور بدلے میں پاکستان میں کہیں بھی حملوں سمیت کئی طرح کی آفرز کی گئیں۔

یہ معاملہ بعد میں افتخار چودھری نے دبا دیا۔

پشتونوں کے حقوق کے نام پر چلائی جانے والی سرخوں کی تازہ تحریک کو بائیں بازو کی تمام سیاسی جماعتوں کی سپورٹ حاصل ہے بشمول ن لیگ۔
اس تحریک کے راہنما کھل کر امریکہ، انڈیا، اقوام متحدہ حتی کہ اسرائیل کو بھی پاکستان کے خلاف کاروائی کرنے کی دعوت دے رہے ہیں۔

الطاف بھائی بھی انڈیا اور اسرائیل کو پاکستان پر حملہ کرنے کی دعوت دے چکے ہیں۔

اور ہاں یاد آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 71ء میں انڈیا کا بنگلہ دیش پر حملہ شیخ مجیب کی ہی دعوت کا نتیجہ تھا۔

سنا ہے نواز شریف مخدوش حالات کی صورت میں دوبارہ انڈیا کے ذریعے ریلیف حاصل کرنے کا پلان بنائے بیٹھا ہے۔ یہ ریلیف کس شکل میں ہوگی آپ کو کیا لگتا ہے؟

منتخب جمہوری حکمرانوں سے بڑھ کر پاکستان کا کوئی دشمن نہیں!

تحریر شاہد خان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here