پاکستان کی تاریخ میں اگر کسی ایک جج نے پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے تو اسکا نام افتخار چودھری ہے

0
40

دجال ۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان کی تاریخ میں اگر کسی ایک جج نے پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے تو اسکا نام افتخار چودھری ہے۔ مختلف پہلوؤں سے اسکا مختصر سا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔

دہشت گردی

جس وقت دہشت گرد پورے پاکستان میں خون کی ندیاں بہا رہے تھے اس وقت انکا پاکستان میں سب سے بڑا وکیل پاکستان کا سب سے بڑا جج افتخار چودھری خود تھا۔ موصوف نے دہشت گردوں کے حق میں سب سے زیادہ سوموٹوز لیے۔ جس کے بعد ٹی ٹی پی اور بی ایل اے نے افتخار چودھری کو پاکستان میں اپنی پسندیدہ ترین شخصت قرار دے دیا۔

لال مسجد سے گرفتار ہزاروں طلباء پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے پرعزم تھے ۔ حکومت کا منصوبہ تھا کہ ان طلباء کی دوبارہ ذہنی تربیت کر کے انکو قومی دھارے میں لایا جائے۔ افتخار چودھیری نے ان سب کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم جاری کیا ۔اس سلسلے میں اس نے حکومت وقت کی سفارشات اور سیکیورٹی اداروں کی تمام رپوٹوں کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا۔ نتیجے میں دہشت گردوں کو غصے سے بھری ہوئی ایک نئی فوج مل گئی جنہوں نے فوری طور پر پاکستان کے خلاف ایک بڑی اور خونریز جنگ چھیڑ دی۔

جیسے ہی دہشت گردوں نے پاکستان کے خلاف باقاعدہ جنگ شروع کی افتخار چودھری گرفتار شدہ دہشت گردوں کو سزاوؤں سے بچانے کے لیے دیوار بن کر کھڑے ہوگئے۔ اس نے اپنے دور میں کسی ایک دہشت گرد کو سزا نہیں ہونے دی اور ہزاروں کیسزز میں انکو بری کیا۔ حالت یہ تھی کہ دہشت گرد عدالتوں کے اندر کھڑے ہوکر دہشت گردی کا اعتراف کرتے تھے، بلوچستان کے دہشت گرد پارلیمنٹ کے سامنے کھڑے ہو کر بلا خوف و خطر پاکستان توڑنے کے نعرے لگاتے تھے اوراختر مینگل جیسے غداروں کو اس کے حکم پر وی آئی پی پروٹوکول دیا جاتا تھا۔

البتہ دہشت گردوں کے خلاف لڑنے والی پاک فوج کے خلاف اس نے مسلسل سوموٹوز لے کر ان کا جینا حرام کر دیا تھا۔ کوئی ایسا دن نہیں گزرتا تھا جب پاک فوج کے کسی افسر کی سپریم کورٹ میں حاضری نہیں لگتی تھی۔

افتخار چودھری کے دور میں دہشت گرد خود فرمائش کرتے تھے کہ انہیں عدالت کے حوالے کیا جائے۔

اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد اس نے دہشت گردوں کو سزائیں سنانے والی فوجی عدالتوں کے خلاف وکلاء تحریک کو دوبارہ منظم کرنے کی کوشش کی۔ بات نہ بنی تو اس وقت کے چیف جسٹس اور آج کے نگران وزیراعظم ناصر الملک کی عدالت میں عاصمہ جہانگیر کے ساتھ ملکر دہشت گردوں کی سزاوؤں کو کلعدم قرار دے دیا۔

افتخار چودھری نے جو اکلوتی موت کی سزائیں سنائی تھیں وہ کراچی رینجرز کے جوانوں کو سنائی تھیں!

اگر یہ کہا جائے کہ دہشت گردی کی وجہ سے مرنے والے ہزاروں پاکستانیوں کا خون اسکی پلید اور موٹی گردن پر ہے تو غلط نہ ہوگا۔

آصف زرداری اور نواز شریف نامی عذاب

پچھلے دس سالوں میں زرداری اور نواز شریف کے ہاتھوں پاکستان کی جو بھی تباہی ہوئی ہے اس میں افتخار چودھری کا کردار اہم ترین ہے۔

اس شخص نے وکلاء نامی مافیا کو منظم کیا اور ان کے ساتھ ملکر پرویز مشرف کی حکومت ختم کر کے آصف زرداری ۤاور نواز شریف کو دوبارہ پاکستان پر مسلط ہونے کا موقع فراہم کیا۔

اسی نے این آر او کو کلعدم قرار دیا لیکن حیران کن طور پر اسی این آر او کے تحت آصف زرداری کے صدر بننے کو درست قرار دیا۔

اسی نے زرداری کے خلاف نواز شریف کے اشارے پر سوئس اکاؤنٹ کا کیس چلا کر اس کو اٹھارویں ترمیم پر مجبور کیا جس میں نہ صرف صوبائی خود مختاری کی شکل میں پاکستان کی مرکزیت کو کمزور کرنے کا فیصلہ ہوا بلکہ نواز شریف کے تیسرے بار وزیراعظم بننے کی قانون سازی بھی کی گئی۔

لیکن جیسے ہی حسب منشاء ترمیم ہوئی افتخار چودھری نے کیس لٹکا دیا اور محض خط لکھنے کے لیے سوئس حکومت کی دو سال کی مہلت ختم کروا دی۔ یوں زرداری کو صاف بچا لیا۔

افتخار چودھری نے ہی نواز شریف کے خلاف اصغر خان کیس نہیں چلنے دیا۔

جب نواز شریف کو عمران خان سے خطرہ محسوس ہوا تو افتخار چودھری نے الیکشن کمیشن کا سارا کام اپنے کنٹرول میں لے لیا اور پاکستان کے 18 کروڑ عوام کی امنگوں کو اپنے پاؤن تلے روند دیا۔ دھاندلی کے مناظر ٹی وی پر براہ راست دکھائے گئے لیکن اس کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔

آصف زرداری اور نواز شریف نے اقتدار ملتے ہی بھوکے درندوں کی طرح پاکستان کو بھنبھوڑنا شروع کر دیا۔ دونوں نے ملکر پاکستان کا بیرونی قرضہ 34 ارب ڈالر سے 90 ارب ڈالر اور روپے کی قدر 60 سے 120 پر پہنچا دی اور یوں پاکستان کی معاشی کمر توڑ کر رکھ دی۔

اداروں کی تباہی، کرپشن، لوڈ شیڈنگ اور ناقابل برداشت مہنگائی اس کے علاوہ ہیں۔

یہ سارے عذاب اس شخص کی مرہون منت ہیں۔

ہاں یاد آیا جب توہین عدالت کیس میں برطانوی حکومت الطاف حسین کو پاکستان بھیجنے پر آمادہ ہوچکی تھی اور وہ شدید مشکل میں تھا تب اسی افتخار چودھری نے اس کو معاف کر کے اس کی تمام مشکلیں آسان کر دی تھیں۔

میڈیا کی غداری اور ملک دشمنی

پرویز مشرف حامد میر اور جیو چینل کو بند کروانے لگا تھا تب سول سوسائٹی نامی مخلوق اور افتخار چودھری کی عدالت آڑے آئی۔

جیو میں کچھ پاکستان دشمن پروگراموں کے خلاف افتخار چودھری کی عدالت میں شکایت کی گئی کہ ” ان پروگراموں کی فنڈنگ انڈیا کر رہا ہے “

موصوف نے کیس سنا۔ جب تمام ثبوت فراہم کر دئیے گئے اور فنڈنگ ثابت ہوگئی تو اس دلال نما جج نے اس فنڈنگ کو درست قرار دے دیا۔ جس کے بعد پورے پاکستان کے میڈیا چینلز میں غیر ملکیوں کے ہاتھوں بکنے کی دوڑ لگ گئی۔

کسی نے سوال نہیں کیا کہ اگر فنڈنگ جائز تھی تو کیس کیوں سنا؟

اس کے نتیجے میں ان تمام اخبارات اور میڈیا چینلز نے اسلام، پاکستان، نظریہ پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں پر خوفناک حملے کیے۔

یہ حملے تاحال جاری ہیں جسکا کریڈٹ اس منحوس شخص کو جاتا ہے۔

فحاشی

پاکستانی میڈیا میں جب پہلی بار فحاشی و بے حیائی حدیں عبور کرنے لگیں تو سپریم کورٹ میں افتخار چودھری کی عدالت سے رجوع کیا گیا۔

اس مردود شخص نے درخواست یہ اعتراض لگا کر مسترد کر دی کہ ” فحاشی کی کوئی واضح تعریف موجود نہیں لہذا درخواست ناقابل سماعت ہے اور آئندہ بھی ایسی کوئی درخواست قابل سماعت نہیں ہوگی۔”

موصوف کے اس فیصلے کے بعد میڈیا بلکل ہی آزاد ہوگیا اور انکی ہمت یہانتک بڑھ گئی کہ پاکستانی کی تاریخ میں پہلی بار پاکستانی چیلیز پر اخلاق سوز غیر ملکی ڈرامے اور مادر زاد ننگے پروگرام پیش کیے گئے۔

اس مکار شخص کو علم تھا کہ فحاشی کی تعریف چند جملوں میں کرنا ممکن ہی نہیں۔ آپ جو بھی تعریف وضح کریں ان الفاظ سے باہر ایسی حرکتیں کی جاسکتی ہیں جو فحش ہونگی۔ یوں اس نے فحاشی و بے حیائی کا لائسنس جاری کر دیا۔

کرپشن

افتخار چودھری نے این آر او کلعدم قرار دینے کے باؤجود آصف زرداری کی صدارت کو درست قرار دیا اور بطور صدر ان کو ہر قسم کے کیسز سے استثنی دیا۔

آصف زرداری کے سوئس اکاؤنٹس میں موجود کئی ملین ڈالرز کی رقم بچانےکے لیے سوئس حکومت کو خط لکھنے والا معاملہ 2 سال تک لٹکائے رکھا یوں ان کی دی گئی مہلت ختم ہوگئی۔

اس نے اپنے دس سالہ دور میں کرپشن پر کسی ایک شخص کو سزا نہیں ہونے دی۔ حتی کہ توقیر صادق جیسے لوگوں نے اربوں روپوں کی کرپشن کا اعتراف عدالت کے سامنے کیا لیکن کسی کو سزا نہیں دی گئی۔ نہ ہی مال مسروقہ واپس لیا گیا۔

اس کے اپنے بیٹے کے اکاؤنٹ میں 90 کروڑ کی رقم سامنے آئی۔ یہ خود ہی اس کی انکوائری کرنے بیٹھ گئے اور خود ہی اس کو کلئر قرار دے دیا۔ یوں آج تک واضح نہیں ہوسکا کہ وہ 90 کروڑ کہاں سے آئے تھے اور کہاں چلے گئے۔

اس کے دور میں سیاست دانوں کو پہلی بار کرپشن پر عدالتی تحفظ ملنے لگا۔

سود

پاکستان میں سود کے خلاف وفاقی شریعت کورٹ نے فیصلہ دیا۔ اس مردود شخص نے اپنے دس سالہ دور میں اس فیصلے کے خلاف سٹے دئیے رکھا تاکہ پاکستان میں سود کا کام جاری و ساری رہے۔

افتخار چودھری پاکستانی عدلیہ کی تاریخ کا سب سے غلیظ، مکروہ، گھناؤنا اور بدبودار کردار ہے۔ اس کے ہاتھوں پاکستان کو پہنچنے والے نقصانات کا احاطہ کرنا ایک مضمون میں ممکن نہیں۔

اس وقت یہ غلیظ کردار پاکستان کی ساری بدمعاشیہ کے خلاف امید کی واحد کرن عمران خان کو بجھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

امت کا دجال پتہ نہیں کون ہوگا لیکن پاکستان کا دجال افتخاد چودھری ہے۔

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here