پاکستان کا مطلب کیا؟

0
92
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کا مطلب کیا؟

یہ ایک حیران کن امر ہے کہ نظریہ پاکستان کے انکار نے بہت سوں کو بلاآخرکلمے کا منکر بنا دیا اور انکار کرنے والے علماء کی اکثریت کو منکروں اور مشرکین کے ساتھ لے جا کر کھڑا کر دیا۔

اپنے اخری ایام میں شدید علالت کے دوران علامہ اقبال نے ایک عجبب و غریب پیشن گوئی کی تھی جو اسی حوالے سے ہے۔ اس پیشن گوئی کے سیاق و سباق میں ہی آپ کو اس دعوے کے حق میں کچھ دلائل مل جائینگے۔

جب قائداعظم نے سیکولر سٹیٹ کے مقابلے میں اسلامی مملکت کا نظریہ پیش کیا تو اسکی سب سے زیادہ مخالفت اس وقت کے نیشنلسٹ علماء نے کی تھی اور علماء اس معاملے میں اتنا آگے چلے گئے کہ مولانا حسین احمد مدنی نے 1938ء کے جلسہ عام میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ” قومیتیں اوطان سے بنتی ہیں مذہب سے نہیں ” ۔۔۔
برصغیر کے سب سے بڑے دارالعلوم کے شیخ الحدیث کی طرف سے اس قسم کا بیان کسی زلزلے سے کم نہیں تھا۔

علامہ اقبال ان دنوں شدید علیل تھے۔ لیکن وہ بھی اس بیان پر تڑپ اٹھے اور انہوں نے نہایت دکھ کے عالم میں مولانا کے اس نعرے کے جواب میں فارسی کے چند اشعار پڑھے۔ یہ اشعار ہی وہ پیشن گوئی ہے جسکا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔

اشعار کا مفہوم یہ ہے۔
” اسلام کے پیرو امت محمدیہ کہلاتے ہیں۔ اگر قومیت کی اساس وطن یا نسل قرار پائے تو رسولﷺ سے نسبت ختم ہو جاتی ہے اور رسول ﷺ سے نسبت ختم ہوجائے تو اسلام باقی نہیں رہتا “

علامہ اقبال کی اس تنبیہ کے بعد نیشنلسٹ علماء اپنی غلطی کا اعتراف کرنے کے بجائے حسب عادت اس پر ڈٹ گئے۔ مولانا حسین احمد مدنی نے اپنے بیان کے دفاع میں ایک لمبا چوڑا بیان داغ دیا۔ جس کے جواب میں علامہ اقبال نے اپنا مشہور زمانہ مضمون ” معرکہ دین و وطن ” شائع کیا۔ جو اسلامی قومیت پر تمام اشکالات کا جواب ہے۔
مولانا مرحوم کے کچھ پیروکاروں نے کہا تھا کہ ” مولانا نے اقبال کے اس جواب کے بعد اپنے بیان سے رجوع کر لیا تھا ” لیکن وہ پیروکار یہ نہیں بتاتے کہ علامہ اقبال کی وفات کے 6 ماہ بعد مولانا حسین احمد مدنی نے ایک کتابچہ شائع کیا جس میں ایک بار پھر کہا کہ ” علامہ اقبال غلطی پر تھے “

نظریہ پاکستان کے خلاف ہندو لیڈر ( مشرکین ) اور ہمارے وہ علماء ایک ہی بولی بول رہے تھے۔ قائداعظم نے فرمایا ” جس دن برصغیر میں پہلا شخص مسلمان ہوا تھا اسی دن یہاں دو قوموں کا وجود عمل میں آگیا تھا ” ۔۔۔۔ تو جواباً جواہر لال نہرو نے کہا ” ایسے لوگ ابھی زندہ ہیں جو ہندو اور مسلمان کا ذکر اس طور کرتے ہیں گویا دو قوموں کا ذکر کر رہے ہوں۔ جدید دنیا میں اس دقیانوی خیال کی کوئی گنجائش نہیں “
یعنی ایک طرف حسین احمد مدنی سرے سے مسلم قومیت کا ہی انکار کر چکے تھے تو دوسری طرف جواہر لال نہرو مسلم قومیت کو دقیانوسی قرار دے رہے تھے۔

نظریہ پاکستان کی مخالفت نے علماء کو مشرکین کے ساتھ لے جاکر کھڑا کر دیا!

لیکن یہ تو علماء تھے۔ عام لوگ تو حد ہی عبور کر گئے تھے اور سرے سے اسلام کا ہی انکار کر بیٹھے۔ مثلاً
خان عبدالغفار خان عرف باچا خان نے ٹائمز آف انڈیا کے نمائندے مسٹر دلیپ کو انٹریو دیتے ہوئے کہا ” چند سال پہلے کا پاکستان اب مر چکا ہے۔ مغربی پاکستان میں چار قومیتوں کے درمیان رشتے کے لیے محض اسلام کافی نہیں رہے گا۔ اس کےلیے سیکولر بنیادوں پر رشتے کی تعمیر کرنی ہوگی۔ “
1969ء میں جب وہ کابل گئے تو انہوں نے وہاں کہا ” میں نے دو قومی نظریہ کبھی تسلیم نہیں کیا نہ ہی ایسا کبھی کرونگا۔ مذہب معیار کس طرح ہو سکتا ہے ؟ میں افغانستان کے باشندوں کو بھی کہتا رہا ہوں اور دوسروں کو بھی کہ اسلام دنیا میں انسان کے بعد آیا ہے “
سٹیٹمین 16 اکتوبر 1969ء بحوالہ پاکستان ٹائمز 19-3-1973ء
انہی کے صاحبزادے خان عبدلولی خان نے اعلان فرمایا ” دو قومی نظریہ ختم ہو چکا ہے۔ اسلام کی باتیں ڈیڑھ ہزار سال پرانی اور فرسودہ ہیں۔ 25 سال کے تجربے نے ثابت کر دیا کہ نظریہ پاکستان غلط تھا ” ۔۔۔
نوائے وقت 13 اکتوبر 1972ء

بلاشبہ نظریہ پاکستان کو شدید ضرب سقوط ڈھاکہ کی شکل میں لگی۔ جس پر اندرا گاندھی نے خوش ہوکر کہا تھا کہ ” مسلمانوں نے تحریک پاکستان کی بنیاد ایک باطل نظریہ پر رکھی تھی ثابت ہوا کہ ہمارا نظریہ درست تھا ” ۔۔۔
پھر فرمایا کہ ” آج ہم نے نظریہ پاکستان کو خلیج بنگال میں غرق کر دیا ہے ” ۔۔

نظریہ پاکستان کے خلاف لوگوں کی جو ذہن سازی کی گئی تھی اس کا اندازہ لگانے کے لیے میں اس دور کے کچھ طلباء کے افکار سے لگایا جا سکتا ہے۔ مثلاً ڈھاکہ یونیورسٹی کے ایم اے فائنل کے ایک طالب علم عزیز الرحمن کا ایک خط 7 مئی 1969ء کو ڈایانک پاکستان میں شائع ہوا جس میں اس نے نظریہ پاکستان پر تنقید کرتے ہوئے لکھا تھا کہ
” ہم خودی رام، سبھاش بھوس، بیجائے سنگھ جیسے اپنے قومی ہیروز کو فراموش کر بیٹھے اور انکی جگہ خالد، طارق، موسی اور علی جیسوں کو اپنا ہیرو سمجھنے لگے۔ ہم نے اپنے دیس کے بھگوان کو بھلا دیا اور اس کی جگہ ایک غیر ملکی خدا یعنی اللہ کو اپنا معبود تصور کر لیا۔ ہم اپنے بچوں کے نام اپنی زبان کے بجائے ایک اجنبی زبان میں رکھ کر خوشی محسوس کرنے لگے۔ ہم نوراللہ اور خلیل اللہ جیسے ناموں پر ریجھ گئے اور ناگنی کھاگنی جیسے سیدھے سادھے ناموں کو تیاگ دیا “

4 نومبر 1968ء کو روزنامہ حریت میں ایک سندھی طالبہ مس نسیم کا ایک خط چھپا جس میں اس نے کہا تھا کہ ” وہ اسلام اور پاکستان جو ہم سے ہمارا سندھ اور سندھی زبان چھین لے ایسے اسلام اور پاکستان کو ہم اپنا بدترین دشمن سمجھتے ہیں۔ یہ جھوٹ ہے کہ سندھ اسلام اور اسلامی فلسفہ کی وجہ سے عظیم ہے۔ سندھ موہینجو داڑو، کوٹ ڈی جان کے آثار قدیمہ لطیف، سچل، ایاز اور جی ایم سید جیسے داشوروں اور شاعروں کی وجہ سے عظیم ہے “

ایک اور لڑکی غزالہ بلوچ نے ڈیلی نیوز کراچی میں 19 اگست 1972ء کو لکھا ” اگر بہاری مسلمان ہندوستان کے ہندوؤں کے اندر جذب ہوجاتے تو آج بہار میں آرام اور چین کی زندگی گزار رہے ہوتے۔ ہندوؤں کے اندر جذب ہونے کے لیے انہیں صرف اتنا کرنا پڑتا کہ اسلام چھوڑ کر ہندو دھرم اختیار کر لیتے۔ اگر وہ ایسا کر لیتے تو دو قومی نظریے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا اور ہندوستان میں صرف ایک ہندو قوم ہوتی “

اسی طرح سقوط ڈھاکہ کے دلخراش سانحے کی خوشی میں شادیانے بجاتے ہوئے بنگلہ دیشں کے پہلے قائم مقام صدر نظراسلام نے اعلان فرمایا کہ ” یہ فتح ہے ایک صحیح نظریے کی ایک غلط نظریے پر۔ تقسیم ہند سے پہلے کچھ سر پھرے مسلمانوں نے دعوی کیا کہ قومیت کا دارومدار مذہب کا اشتراک ہے، وطن کا اشتراک نہیں اور حکومت کی بنیاد مذہب پر ہے۔ آج انکا نظریہ باطل ثابت ہوگیا “

یعنی ” نظریہ پاکستان کا انکار کرنے والے بالاآخر کلمے کا انکار کر بیٹھے”

ان نظریات اور خطرات کو بھانپ کرانکا تدراک کرنے کے بجائے ہمارے وقت کے دانشوروں نے ان کو کس طرح تقویت دی وہ ایک الگ المیہ ہے۔ مثلاً 1968ء میں کراچی کی عوامی انجمن کی طرف سے شائع شدہ ایک پمفلٹ سے ہوسکتا ہے جس پر جوش ملی آبادی اور فیض احمد فیض کے دستخط بھی ثبت تھے۔ ” ہمارے نزدیک جمہوری آزادی میں قوموں کی ترقی کا مسئلہ بھی شامل ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں جو مختلف قوموں کا وطن ہے وہ حالات پیدا کیے جائیں کہ سب قومیں انکی زبانیں اور تہذبیں کسی ایک قوم کے تسلط سے آزاد ہو کر خودمختارانہ ترقی کر سکیں۔ ہمارے نزدیک پاکستان کی تمام قومیں مساوی حقوق کی مالک ہیں “
ہمارے یہ دانشمند سیکولرز نسلی اور زبان کی بنیاد پر تقسیم کے معاملے میں مغرب کے سیکولرز سے بھی چار ہاتھ آگے بڑھ گئے تھے۔ کیونکہ ان سیکولر ممالک میں ایک چاردیوار کے اندر بسنے والے تمام افراد ایک قوم کہلاتے ہین۔ لیکن یہاں ہمارے ان مہان دانشوروں نے یہ تعلیم دینی شروع کی کہ پاکستان کے ہر صوبے میں بسنے والے الگ الگ قوم ہیں۔
یعنی انکا بھی نقطہ نظر یہی تھا کہ کلمے کی بنیاد پر یہ ایک قوم نہیں کہلائے جا سکتے۔ یہ صاحبان یہ تلخ حقیقت بھی بھلا بیٹھے کہ ایک ہی ریاست کو مختلف قومیتوں میں تقسیم کرنے کے بعد ان کو ان کے ” حقوق ” کے حوالے سے مطمئن کرنا محال ہو جاتا ہے جس کا نتیجہ بلاآخر ریاست کی تقسیم کی شکل میں نکلتا ہے۔
ایسے ہی دانشوری کے نتیجے میں پاکستان میں نسلی اور لسانی بنیادوں پر جداگانہ قومیت کا نظریہ زور پکڑتا گیا۔

یقیناً اوپر بیان کیے گئے کچھ یہ افکار آپ کو کچھ مانوس سے لگ رہے ہونگے کیونکہ آج ایک بار پھر اس قسم کی آوازیں سنائی دینے لگی ہیں۔
ایک بار پھر شدو ومد سے نظریہ پاکستان کا انکار کیا جا رہا ہے۔ اور حیران کن طور پر یہ انکار کرنے والے کے پی کے میں عوامی نیشنل پارٹی کی شکل میں سیکولرازم اور الحاد کی سب سے بڑی نمائندہ جماعت بن کر سامنے آرہی ہیں۔

سندھ میں نظریہ پاکستان کا انکار کرنے والے ایک بار پھر محمد بن قاسم کو لٹیرا اور راجہ داہر کو ہیرو قرار دینے لگے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار راجہ داہر کی برسی منائی گئی اور اسکی ٹی وی پر تشہیر کی گئی۔ ایک بار پھر کہا جا رہا ہے کہ ” اسلام بعد میں آیا اور سندھ ہمیشہ سے موجود تھا “

مسلم قوم پرستی چھوڑ کر لسانی اور نسلی بنیادوں پر قوم پرستی ایکبار پھر لوگوں کو لادینی کی طرف لے کر جا رہی ہے۔

مولانا فضل الرحمن اور اسفند یار ولی مشترکہ اعلامیہ جاری کررہے ہیں کہ وہ ” ایک دوسرے کے قدرتی اتحادی ہیں “۔ مسلم قومیت کے مخالف انڈن علماء کے فتوے آرہے ہیں کہ ” کشمیر میں جہاد حرام ہے” اور ” ہندوستان میں گائے ذبح کرنا درست نہیں “

نظریہ پاکستان کی مخالفت نے وقت کے علماء کو ایک بار پھر سیکولرز اور مشرکین کے ساتھ لے جاکر کھڑا کر رہی ہے۔

مولانا حسین احمد مدنی کے ساتھ ہونے علامہ اقبال کے جس مباحثے کا اوپر ذکر کیا ہے اس کے آخر میں اقبال نے فرمایا تھا کہ ” میں مسلمانوں کو اتنباہ کرتا ہوں کہ اس راہ کا آخری مرحلہ اول تو لادینی ہوگا اگر لادینی نہیں تو اسلام کو محض ایک اغلافی نظریہ سمجھ کر اس کے اجتماعی نظام سے بے پرواہی”

آہ ہم یہ ہوتے دیکھ چکے اور شائد ایک بار پھر دیکھ رہے ہیں !

حسین احمد مدنی، ابولکلام آزاد، جواہر لال نہرو اور گاندھی مذہب کو چھوڑ کر جس ” وطنیت ” کی بنیاد پر ہندو مسلم ایک قوم ہونے کا اعلان کر رہے تھے اسی وطنیت پر تنیقد کرتے ہوئے علامہ اقبال نے فرمایا تھا کہ

ان تازہ خداوؤں میں وطن سب سے بڑا ہے
جو پیرہن اسکا ہے وہ مذہب کا کفن ہے

وہ وطنیت ( وطن، نسل اور زبان کی بنیاد پر قومیت ) مذہب کو کفن پہنا رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان مخالفت علماء آج بڑی ڈھٹائی اور چالاکی سے علماء اقبال کے اسی شعر کو پاکستان کے خلاف دلیل کے طور پر استعال کرتے ہیں 🙂 ۔ جبکہ پاکستان وطنیت نہیں بلکہ مسلم قومیت ( کلمے ) کی بنیاد پر بنا ہے!

پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔۔۔۔ لاالہ الا اللہ۔

تحریر شاہدخان


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here