پاکستان نے پشتونوں کی بقا کے لیے اب تک تین بڑی جنگیں لڑی ہیں۔

0
112
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان نے پشتونوں کی بقا کے لیے اب تک تین بڑی جنگیں لڑی ہیں۔ جن میں پاکستان کو ہونے والا جانی اور مالی نقصان انڈیا کے خلاف لڑی جانے والی جنگوں سے کئی گنا زیادہ ہے۔

—————-

پہلی بڑی جنگ روس جیسی وقت کی سپر پاور کے خلاف لڑی۔
روس نے اعلان کیا تھا کہ وہ دریائے سندھ کو اپنا بارڈر بنائیگا۔ مطلب فاٹا، بلوچستان اور کے پی کے کا سارا علاقہ لے لے گا۔
روس کی افغانستان پر یلغار سرخوں کی دعوت کا نتیجہ تھا جس کی وجہ سے 60 لاکھ افغانی پشتونوں کو افغانستان چھوڑنا پڑا۔ ان میں سے کم از کم 30 لاکھ افغانی پشتونوں کو پاکستان نے پناہ دی۔
ساتھ ہی روس کو روکنے کے لیے پراکسی جنگ شروع کر دی۔
اس کے بعد کمزور پڑتے مجاہدین یا مجاہدین کے لبادے میں چھپی پاک فوج کو طاقت دینے کے لیے جنرل ضیاء الحق نے امریکہ کو چارلی ولسن کی مدد سے اس جنگ میں گھسیٹ لیا۔
اس کے بعد پاکستان نہ صرف جنگی اخراجات پورے کرنے کے قابل ہوا بلکہ امریکہ سے وہ ہتھیار بھی حاصل کیے جس نے روس کے خلاف فتح حاصل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
روس کے خلاف جنگ پشتونوں کی بقا کی جنگ تھی۔ نہ صرف افغانی پشتونوں کی بلکہ پاکستان میں بسنے والے پشتونوں کی بھی۔

—————–

روس کی شکست کے بعد افغانی آپس میں لڑ پڑے۔ اس لڑائی میں روسی کٹھ پتلی سرخے اور افغان فارسی بان یا پنشیری پشتونوں پر غالب آگئے اور کابل فتح کر لیا۔ البتہ افغانستان کے حالات اتنے خراب ہوگئے کہ آپ افغانستان میں سو قدم نہیں چل سکتے تھے جب تک آپ کو لوٹ یا مار نہ لیا جاتا۔

اس بدامنی کے خلاف ملا عمر نامی پشتون اٹھا تو پاکستان نے اسکی مدد کا فیصلہ کیا۔ جس کے بعد وہ بہت تیزی سے فارسی بانوں اور سرخوں پر غالب آگیا۔
افغانستان کو ایک لمبے عرصے بعد پہلی بار امن نصیب ہوا۔
دوسری طرف افغانستان کی پاکستان کے پشتونوں کے علاقوں میں 50 سال سے جاری ریشہ دوانیاں ختم ہوگئیں اور پہلی بار ان علاقوں میں آباد پشتونوں نے بھی سکھ کا سانس لیا۔

——————

تیسری بار امریکہ بدمست ہاتھی کی طرح آیا کہ یا راستہ دو یا جنگ کرو۔
چالیس دنیا کے طاقتور ترین ممالک، انڈیا اور اسرائیل کی حمایت یافتہ اس اتحاد کو پاکستان نے حکمت عملی کے تحت راستہ دینے کا فیصلہ کیا۔

تب افغانستان میں پاکستان مخالف افغانی پشتونوں نے فاٹا میں مقیم کچھ پاکستانی پشتونوں کو ورغلا کر پاکستان کے خلاف سب سے بڑی اور خونریز پراکسی جنگ کا آغاز کیا جسکا سب سے زیادہ نشانہ مقامی پشتون بنے۔
یعنی پشتونوں نے پشتونوں کے ساتھ ملکر پشتونوں کو مارا۔
ان کو افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت کے علاوہ امریکہ اور انڈیا کی بھی پشت پناہی حاصل تھی۔

پاکستان نے یہ جنگ دو محاذوں پر لڑی۔

فاٹا میں اور سوات میں بسنے والے پشتونوں کو بچانے کے لیے اپنی دو لاکھ فوجی بھیجے جنہون نے دس سال کی طویل ترین جنگ لڑ کر دہشت گردوں کے فتح کیے گئے پشتون علاقے واپس چھین لیے اور وہاں کا امن بحال کیا۔ اس جنگ میں پاکستان کے چار حاضر سروس جرنیلوں سمیت ہزاروں آفسروں اور سپاہیوں نے اپنی جانیں قربان کر دیں۔

دوسری جنگ امریکہ اور بی بی سی کے بقول پاکستان نے افغانستان میں لڑی۔
اور امریکہ اور اسکی کٹھ پتلی فارسی بان حکومت کو صرف کابل تک محدود کر کے رکھ دیا۔

امریکہ نامی دنیاوی سپر پاور اور اس کے چالیس اتحادیوں کے خلاف دنیا کی کم ترین بجٹ رکھنے والی پاک فوج نے یہ جنگ کیسے لڑی؟

اس کا اشارہ ڈونلڈ ٹرمپ کی مشہور زمانہ ٹویٹ میں ملتا ہے کہ پاکستان نے ہم سے 33 ارب ڈالر لے کر ہمیں مارا۔

گو کہ اصل رقم اس سے آدھی بھی نہیں اور پاکستان کے جنگی اخراجات کے مقابلے میں اب بھی بہت کم تھی تاہم پاکستان کو کسی حد تک ایک سہارا ملا رہا۔
یوں سمجھ لیجیے کہ اگر دونوں طرف جاری جنگ کا سالانہ خرچ دو ارب ڈالر تھا تو امریکہ سے ہمیں آدھا ارب ڈالر سالانہ مل رہا تھا۔

چونکہ رقم جنگی اخراجات سے بہت کم تھی اس لیے پاک فوج اس سارے عرصے میں نہ اپنی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کر سکی، نہ فوجیوں کی تنخواہ و مراعات میں کوئی غیر معمولی اضافہ ہوا اور نہ ہی پاکستان بڑے پیمانے پر کوئی جنگی جہاز یا سازوسامان خرید سکا۔

البتہ امریکی اور انڈین پراکسی کو پاکستان میں شکست دی اور افغانستان میں اپنی پراکسی کی مدد سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو شکست کے دھانے پر پہنچا دیا۔

——————

آج ایک بار پھر پشتونوں کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف ایک چوتھی جنگ کی تیاری کی جارہی ہے جس میں پھر سے کچھ پشتونوں کے یقین دلایا جا رہا ہے کہ ” دراصل سابقہ تینوں جنگیں پاکستان نے تم لوگوں کے خلاف لڑی تھیں جس کا مقصد ڈالر کمانا تھا اس لیے اب تم سب ملکر اسکا بدلہ لو” ۔۔۔۔

اس کے لیے پٹے ہوئے مہروں کو دوبارہ ترتیب دیا جا رہا ہے۔ خوارج اور ملحدوں کو ایک ہی صف میں کھڑا کیا جا رہا ہے، پشتونوں کو جنت دکھا کر پھر سے جہنم میں جھونکنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر باقاعدہ امریکہ، انڈیا اور اسرائیل کو پاکستان پر حملہ کرنے کی دعوتیں دی جا رہی ہے۔
افغانستان کی فارسی بان آرمی کو فاٹا اور کے پی کے فتح کرنے کے خواب دکھائے جا رہے ہیں جن کی ویڈیوز روز آرہی ہیں۔

شائد پاک فوج کو پشتونوں کی بقا کے لیے ایک چوتھی جنگ لڑنی پڑ جائے!

تحریر شاہدخان


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here