پاکستان میں ایک نیا اسراٸیل تیار ھے

0
1326

آپ کے علم میں ہے کہ چناب نگر (سابقہ ربوہ) جس جگہ آباد ہے اس جگہ کا پرانا نام “چک ڈھگیاں” تھا، تقسیم ہند کے وقت اس وقت کا قادیانی خلیفہ جب اس “قادیان” سے سکھوں کے ڈر سے بھاگ کر پاکستان آگیا جسے یہ “قاديان دار الأمان” کہتے تھے تو سر ظفر الله خان کی کوششوں سے اس جگہ قادیانی جماعت کے لئے بنیادی طور پر مبلغ بارہ ہزار روپے کے عوض 1034 ایکڑ زمین کی لیز مورخہ 11 جون 1948 کو پاس کی گئی

اس وقت اس جگہ کا نام “ربوہ” رکھا گیا، یہاں باقاعدہ قادیانی آباد کاری کا افتتاح مورخہ 20 ستمبر 1948 کو ہوا، اس موقع پر پانچ بکرے بھی ذبح کیے گئے، اور پھر ہر کونے کھدرے سے قادیانیوں کو لاکر یہاں آباد کیا گیا اور کسی بھی مسلمان کے لیے یہاں زمین حاصل کرکے گھر بنانا ممنوع قرار دیا گیا، یوں یہاں ریاست کے اندر ایک ریاست بنائی گئی.

اس وقت چناب نگر شہر کا آباد رقبہ تقريباً 24 مربع کلومیٹر ہے. کیا آپ جانتے ہیں کہ اس زمین کی لیز سنہ 2047ء میں ختم ہو جائے گی؟ جی ہاں قادیانیوں کے نام دی گئی لیز 99 سال کے لئے تھی، اور قادیانی جانتے ہیں کہ مسلمانان پاکستان اس لیز کی تجدید کبھی نہیں ہونے دیں گے۔

قادیانیوں کو بھی اس بات کا احساس ہے کہ کیا ہوگا. اس لیے قادیانیوں نے اس خطرے کو بھانپتے ہوۓ چناب نگر سے سرگودھا کی طرف کی زمینیں منہ مانگی قیمت پر خریدنی شروع کردی ہیں کہ اگر چناب نگر کی زمین کی لیز منسوخ ہو تو ہمارے پاس اپنی ذاتی ملکیتی زمین اس کے متبادل کے طور پر موجود ہو۔

اس مقصد کے لیے سب سے پہلے چناب نگر کے ساتھ “احمد نگر” نام کی ایک بستی پہلے ہی بسائی جاچکی ہے (جہاں مرزا مسرور کا فارم ہاؤس بھی ہے) اور اطلاعات کے مطابق وہاں سے آگے بھی چار پانچ گنا زیادہ قیمت پر دھڑا دھڑ زمینیں خریدی جا رہی ہیں اور ہمارے “نام کے مسلمان” پیسوں کے لالچ میں قادیانیوں کو اپنی زمینیں فروخت کر رہے ہیں، بالكل ایسے جیسے فلسطین میں یہودیوں نے منہ مانگے دام دے کر مقامی مسلمانوں سے زمینیں خریدیں اور اب وہاں اسرائیل قائم ہے۔

اطلاعات کے مطابق قادیانی سرگودھا کی حدود تک پہنچ چکے ہیں..میرے خیال میں قادیانیوں نے اپنے “نئے شہر” کا نام “احمد نگر” رکھنے کا سوچا ہوا ہے اسی لیے یہ بستی سب سے پہلے قائم کی گئی ہے. ہمیں مملکت خدا داد پاکستان میں ایک اور اسرائیل بننے سے روکنا ہوگا، اس کے لیے لوگوں کو بتانا ہوگا کہ تھوڑے سے دنیاوی فائدے کے لیے اپنی آخرت کو برباد نہ کریں، اپنی زمینیں انہیں نہ بیچیں ـ

اسرائیل کی مثال آپ کے سامنے ہے کہ چھوٹا سا حجم رکھنے والا ملک کتنا طاقتور ہو چکا ہے، یہودی فلسطین کے چھوٹے سے رقبے پر قدم جمانے کے بعد آج فلسطین کے بڑے حصے پر قابض ہو چکے ہیں، اور جب چاہتے ہیں وہاں کے بقیہ مسلمانوں کو بمباری سے مار رہے ہیں۔ فلسطینیوں کی نسل کشی کے پیچھے ان کا مقصد یہ ہے کہ وہاں کہ تمام مسلمان ختم ہوجائیں اور ساری زمین یہودیوں کو مل جائے۔

میری خیال میں یہی فرمولا پاکستان کے لئے اپنایا گیا ہے، قادیانیوں کو پاکستان میں زمین خریدنے کے لیے پاکستان مخالف ممالک بھاری معاوضہ دے رہے ہیں، کیونکہ پاکستان کو سرحدوں پر اٹیک کرکے نہیں توڑا جا سکتا، لہذا مسلمانوں کی تاریخ دیکھتے ہوئے انہیں اندر سے توڑنے کا فارمولا اپنایا جاتا ہے۔ کیونکہ کہ مسلمانوں کو جب بھی شکست ہوئی تو انکے اندر چھپے غداروں کی وجہ سے ہوئی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here