پانامہ فیصلے کے ادبی پہلو – امجد خواجہ

'دی گاڈفادر' ایک مشہور زمانہ ناول ہے، جسے اطالوی امریکن ماریو پوزو نے 60ء کی دہائی میں لکھا تھا۔ اس ناول کی شہرت کو چار چاند لگائے 1972ء میں اسی نام سے جاری ہونے والی فلم نے، جسے تاریخ کی بہترین فلموں میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے، تاہم پاکستان میں اس ناول کو زیادہ شہرت اس وقت ملی جب عدالت ‏عظمیٰ نے 'پاناما اسکینڈل' کا فیصلے سنایا اور اس کا آغاز گاڈ فادر کے مشہور زمانہ جملے سے کیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے ایک مہم کے طور پر لے کر اسے حکمران خاندان کے خلاف استعمال کیا اور سابق وزیراعظم کو گاڈ فادر سے تشبیہ دی۔ عدلیہ نے اس ناول کا حوالہ کیوں دیا؟ اردو دان طبقےکو یہ جاننے کا شوق ہوا۔ ' پاکستانی ' اپنے ایسے ہی قارئین کے لیے 'دی گاڈفادر' کا اردو ترجمہ پیش کررہا ہے۔ اس سے جہاں اس تاریخی فیصلے کے پس منظر کے بارے میں علم ہوگا وہیں جدید ادب کے ایک شاہکار کا مطالعہ بھی ہوگا۔ ناول کا اُردو ترجمہ محمود احمد مودی نے کیا ہے، ان کے

0
249

– Next Part –      –  Previous Part

 

پانامہ فیصلے کے ادبی پہلو – امجد خواجہ

تین-دو یا پھر دو-تین کے حوالے سے تو اس تاریخی فیصلے کا جائزہ وہ لوگ لے رہے ہیں جنہیں منفی ایک یا پھر مثبت ایک کے جواب سے مطلب تھا، جو ہمارا مسئلہ نہیں۔ تاریخی ہونے کے سلسلے میں ہم وزیرِ خزانہ کی اِس بات سے متفق ہیں کہ ہر فیصلہ تاریخی ہوتا ہے بلکہ اِس میں یہ ا ضافہ کیے دیتے ہیں کہ اتنی ساری تاریخیں پڑنے کے بعد پھر ایک نئی تاریخ ملنے سے تو یہ زیادہ ہی تاریخی ہو چکا ہے۔ پھر اِن دِنوں لاہور میں تاریخی مقامات بمقابلہ اورنج ٹرین کے سلسلے میں ایک اور فیصلہ بھی محفوظ ہے جو کسی نہ کسی تاریخ کو سنا یا جائے گا اور یوں تاریخی ہی کہلائے گا۔

تاریخ کو پسِ منظر میں رکھتے ہوئے ہم حامد میر صاحب کے قلم کی کمان سے نکلے ہوئے اُس تیر کی سمت کا تعین کر رہے ہیں جس میں فیصلے کے ادبی رُخ کی نشاندہی کی گئی ہے۔ حامد میر صاحب کا اعتراض بجا ہے کہ فاضل جج صاحبان نے فیصلے میں ہالی وڈ کی فلم اور انگریزی ناول کا حوالہ دیا۔ ‘گاڈ فادر’ کا حوالہ انگریزی ادب کے قارئین اور فلم ناظرین کے لیے تو دلچسپی اور تجسس سے بھر پور تھا مگر عوام کی اکثریت کا اس سے کیا تعلق؟ اُن کا کہنا ہے کہ فیصلوں میں روسی اور اطالوی ادبیوں کا حوالہ دینا ہمارے اپنے اصحاب قلم کے ساتھ بڑی زیادتی ہے۔ دوستو وسکی اور بالزاک کا ادبی مرتبہ اپنی جگہ لیکن ہمارے منصفین کو چاہیے کہ وہ فیصلے کرتے ہوئے عبد اللہ حسین اور بانو قدسیہ کے کرِداروں کا حوالہ دیاکریں۔ مجرموں کے لیے انتظار حسین کی “بستی” سے کوئی کرِدار ڈھونڈیں اور ساتھ ہی اُنہوں نے خوش خبری سنائی کہ محترمہ بشریٰ رحمن چادر، چاردیواری اور چاندنی کے برعکس پاکستانی سیاست کی خواتین کے بارے میں کسی ناول کی تصنیف میں مصروف ہیں۔

ایک سابق فاضل جج کے فیصلے کے مطابق تو عدالت عظمٰی کو یہ فیصلہ تحریر کرنے کے لیے قومی زبان یعنی اردو کا انتخاب کرنے کا استحقاق بھی حاصل تھا مگر ہوسکتا ہے کہ پھر جرم و سزا کے لیے اردو ادب کے حوالے تلاش کرنا ایک جاں جو کھوں کا کام ہوتا۔ عبد اللہ حسین کے بیشتر کرِداروں کو کسی بھی فیصلے کے لیے منتخب کرنے سے پہلے اُن کو سنسر شپ کے ایسے کڑے پیمانے سے گزرنا پڑے گا کہ فیصلہ ہی مشکل ہوجائے گا۔ ‘اداس نسلیں’ اور ‘نادار لوگ’ کے بیشتر کرِدار ہمارے قارئین کو پسند نہیں آئیں گے اور اُن کی زبان ہضم کرنا تو زیادہ ہی مشکل کام ہے۔

‘راجہ گدِھ’ کے کرِداروں کو اگر کسی عدالتی فیصلے میں جگہ دے دی گئی تو شاید فیصلے کے ساتھ صرف بالغوں کے لیے بھی لکھنا پڑجائے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ بانو آپا نے اپنے کرِداروں کے ذریعے جو زبان لکھی ہے، وہ اپنی مشرقی طبعیت کے باعث اُس پہ کبھی گفتگو نہ کر پاتیں۔’راجہ گدِھ’ کے مرکزی کرِدار قیوم کا حوالہ تو اپنی حرکتوں کے حوالے سے قابلِ دست اندازی پولیس ہے اور گورنمنٹ کالج کے لیے بھی کوئی اچھی شہرت نہیں چھوڑتا۔

رہ گئے انتظار حسین تو وہ بیچارے اِس قدر منکسرالمزاج اور شریفُ النفس آدمی تھے کہ اپنے پسندیدہ ماضی بعید ازقسم کوفہ و بغداد کے طلسم ہوشربا سے باہرہی نہیں نکلے۔ “بستی” میں کہیں کہیں بغاوت اور انقلاب کا ذکر ملتا ہے مگر وہ بھی شریفانہ قسم کا۔ ہم حامد میر کے انتخاب کی داد نہ دینے پہ مجبور ہیں کہ اُنہوں نے بھلے مانس ادبیوں کا حوالہ دے ڈالا۔اگر وہ ابنِ صفی، عمران سیریز، سسپنس ڈائجسٹ، یا پھر ‘سب رنگ’ کا حوالہ دیتے تو شاید کچھ بات بن جاتی۔ ‘گاڈ فادر’ کامناسب متبادل ـــــ”داستان ایمان فروشوں” کی جیسا کوئی نام ہوسکتا تھا یا پھر احمد یار خان کی کہانیوں کا کوئی کرِدار۔ محمد خان ڈاکو بھی ایک افسانوی کرِدار بن سکتا تھا مگر ہمارے دیسی کرِدار بہرحال ابھی تک ادب اور اہلِ قلم کا حوالہ نہیں بن پائے۔ اردو اوراپنی علاقائی زبانوں سے ہماری محبت اپنی جگہ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ سرکاری زبان ہونے کے باعث انگریزی ہمارے مہذب اور با شعور ہونے کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ ہم انگریزی بولتے ہوئے شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے اور الفاظ کا انتخاب بھی سوچ سمجھ کر کرتے ہیں۔ اگر شام کو نشر ہونے والے تمام ٹاک شوز کو انگریزی میں نشر کرنے کا پابند کردیا جائے تو آپ کو شرکاء کے لہجے میں نرمی اور جذبات میں توازن نظر آئے گا۔ شرکاء کبھی بھی باہم دست و گریبان نہیں ہوں گے اور نہ ہی گالم گلوچ سننے کو ملے گی۔ اگرچہ ” صادق اور امین ” جیسے مقدس الفاظ کا حوالہ دے کر ہم کئی رہنماؤں پہ نکتہ چینی کرتے ہیں مگر جو اِس تنقید سے بچ نکلتے ہیں، اگر اُنہیں صادق اور امین بھی سمجھ لیا جائے تو یہ کتنی بڑی خوش فہمی ہوگی۔

اگر اِس تاریخی فیصلے کو سلیس اردو میں لکھا جائے تو اِس کا مستند ترجمہ وہی ہوگا جو حزبِ مخالف اور حزبِ اقتدار پچھلے کئی ماہ سے ایک دوسرے کے لیے کہتے آرہے ہیں۔

ہمیں چاہیے کہ بشریٰ رحمن کی نئی تنصیف آنے تک “گاڈ فادر” ہی پہ گزارا کریں اور انگریزی کا فائدہ اُٹھاتے رہیں جو ہمارے فاضل جج صاحبان کو اہلِ اقتدار و اختیار پہ علامتی تنقید کا حوصلہ دیتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here