اعلانیہ دہشت گردی ۔۔۔۔۔۔۔ !

امریکی ڈیفنس سیکٹری جیمز میٹس نے اپنے دورہ انڈیا میں کھل کا کہا کہ ” انڈیا کو ٹی ٹی پی ( آج کی جماعت لا احرار اور داعش ) کے ساتھ تعلقات ختم کرنے چاہئیں”۔۔۔ 

جواباً انڈیا نے ٹی ٹی پی ( جماعت الاحرار اور داعش کی پاکستان و افغانستان شاخ ) کو اپنا اہم ترین اثاثہ قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ ” اس معاملے میں امریکہ ہم پر دباؤ نہیں ڈال سکتا کیونکہ امریکہ کو چین کے خلاف ہماری ضرورت ہے” ۔۔۔

لیکن اس پر سب سے زبردست تبصرہ ہندوستان ٹائمز کے مایاناز مصنف بھرت کرناد نے کیا ہے ۔۔۔ موصوف لکھتے ہیں ۔۔
ٹی ٹی پی کی بدولت انڈیا نہ صرف افغانستان میں اپنا اثر رسوخ برقرار رکھنے میں کامیاب ہے بلکہ افغان طالبان کے کچھ حصوں تک بھی رسائی حاصل کر چکا ہے جس کی وجہ سے افغانستان میں قیام امن کی ہر وہ کوشش ناکام بنا سکتا ہے جس میں بھارت شامل نہ ہو ” ۔۔۔۔
( پاکستان کی چین کے ساتھ ملکر افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان امن کے لیے کی جانے والی ان کوششوں کو یاد کیجے جس کو ہر بار کابل میں کسی بڑے بم حملے کی مدد سے ناکام بنا دیا جاتا ہے )

اسے کہتے ہیں دہشت گردی کا اعتراف کرنا ۔۔۔۔۔۔۔ !

اب بہت سوں کو یقین آگیا ہوگا کل بھوشن کے اعترافات پر۔ احسان اللہ احسان اور لطف اللہ محسود کے انکشافات پر۔ اجیت ڈاؤل نے اپنی تقریر میں اسی دہشت گردی کا اعلان کیا تھا۔

50 ہزار پاکستانیوں کا قتل
لاکھوں قبائل بے گھر
سکول کے بچوں کا قتل عام
پاکستان کو 100 ارب ڈالر کا نقصان

یہ ہیں ان سب کے اصل ذمہ دار۔

یہی ہیں جن کو جماعت اسلامی کے امیر منور حسن اور جے یو آئی کے امیر فضل الرحمن شہید کہتے رہے۔
ان کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھتے رہے۔
اور ان سے لڑنے والی پاک فوج کے شہداء کو مردار کہتے رہے۔

ان کی منافقت سے شیطان بھی پناہ مانگتا ہوگا یہ آج بھی 50 ہزار پاکستانیوں کا قاتل مشرف کو قرار دیتے ہیں لیکن جنہوں نے قتل کیا ان کو معصوم قرار دیتے ہیں۔ آج بھی فضل الرحمن قبائل کو دہشت گردوں سے بچانے کے لیے کیے جانے والے آپریشن کو قبائل کے خلاف آپریشن قرار دیتا ہے۔

امریکہ کے سیکٹری دفاع کے بیان اور اس پر انڈیا کے ان اعترافات پر بات کرنے کے لیے ہمارا وزیر خارجہ کہاں ہے؟ جو کل تک ” اپنا گھر صاف کرنے ” کی بکواس کر رہا تھا؟؟؟؟

وہ دیسی لبرل کہاں ہیں جو اس خطے میں ہر برائی کی ذمہ داری پاک فوج اور پاکستان پر ڈالتے ہیں؟؟

وہ افغانی کہاں ہیں جو کابل میں ہونے والے ہر دھماکے کے بعد پاکستان کو گالیاں دینے لگتے ہیں؟؟

دہشت گردی کے اس اعلانیہ اعتراف کے بعد انڈیا کے یہ نام لیوا کیا اب کچھ شرم کر لیں گے؟؟؟

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here