وہ کون تھا کیا نام تھا کہاں سے تھا سکون کی نیند سوتے پاکستانی یہ کبھی نہیں جان سکیں گے وہ ایک گمنام سپاہی تھا

0
1184

ایک گمنام کی ٹریننگ کے خاتمے پہ جب وہ پہلی دفعہ اہم مشن پر روانہ ہو رہا تھا تو اس بوڑھے صوبیدار میجر نے جو اس کا انسٹریکٹر بھی تھا اسے کہا تھا

بیٹا اصل میں ایک ہی بات یاد رکھنا چاہئے,, وہ کیا سر ؟ .. نجانے اس نے کیوں خلاف اصول اس سے یہ سوال کیا
دیکھو بچے ! یہ جو جسم ہے نا …. یہ کچھ بھی نہیں , کچھ حیثیت نہیں اس کی .. زندہ رہنے والی چیز تو صرف روح ہے بچے ! اگر زندگی میں کبھی دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو تو جسم کو کبھی بھی اولیت نا دینا .. اس پر لگے داغ اور اذیت کے تمام نشانات کبھی نا کبھی اپنی موت آپ مر جاتے ہیں ..

لیکن روح کا معاملہ بلکل الگ ہے .. بلکل جدا .. اسے کبھی داغدار نا ہونے دینا ورنہ ساری زندگی جہنم کا ایندھن بنے رہو گے کیونکہ .. تمہرا ضمیر خوش قسمتی سے زندہ ہے بچے یہ جو گردن کے اوپر کدو رکھا ہے نا.. جو کچھ ہے بس اسی میں ہے اور اسی سے ہے .. وہاں تمہارے لئے کوئی مجلس عاملہ نہیں ہوگی جس کے ساتھ مشورہ کرکے تم کسی نتیجے پر پہنچ سکو .. بس تم ہو گے اور اللہ کی ذات .. کسی بھی نتیجے یا فیصلے پر فورا پہنچنا ہوگا اور یہ تب ہی ممکن ہے جب تمہارے اعصاب گبھرا کر جواب نا دے جائیں اپنی ذات پر اعتماد اور اللہ پر بھروسہ ہی تمہارے بہترین ہتھیار ہیں پتر جہاں تم جا رہے ہو منافقت اس معاشرے کی بنیاد ہوگی

لیکن تم مصلح بن کر نہیں بلکہ اپنی قوم و ملک کی سکون کی نینند کے لئے ان کے راز چرانے جارھے ھو جزبات کو کبھی خود پہ غالب نہ آنے دینا جس معاشرے میں جا رہے ہو اس کا ایک مکمل اور مربوط حصہ بن کر رہنا اگر کبھی تم نے اس سے ہٹ کر کچھ سوچنے یا کرنے کی ٹھانی تو بڑی بے رحمی سے مار دئے جاؤ گے امرتسر کے انٹروگیشن سنٹر میں لیٹا ایک خاکی بدن اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا یہ کون تھا کہاں سے آیا تھا کوئی نہیں جانتا تھا

بھارتی انٹیلیجنس اور ڈی ایم آئی کو اس نے تین سال تک چکرائے رکھا بھارتی کاؤنٹر اینٹلیجنس والے اس پچیس چھبیس سال کے نوجوان کے کارنامے اور ہمت دیکھ کر حیران تھے پچھلے چار مہینوں سے شدید تشدد اور ٹارچر کے باوجود نا تو اس کی زبان کھلی اور نا وہ کچھ اس سے اگلوا سکے

ٹپ ٹپ ٹپ بارش کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی انٹروگیشن سنٹر کی ایک کوٹھڑی میں وطن کا سپوت دم توڑ رہا تھا جو اپنے استاد کی نصیحت نہیں بھولا جس نے اپنی روح کو داغدار نہیں ہونے دیا

وہ کون تھا کیا نام تھا کہاں سے تھا سکون کی نیند سوتے پاکستانی یہ کبھی نہیں جان سکیں گے وہ ایک گمنام سپاہی تھا ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here