وزارت داخلہ اور وزارت دفاع کے ماتحت اداروں کا فرق

کیونکہ جنسی زیادتی کے شکار کا اولین سامنا پولیس سے ہوتا ہے جو ایسے متاثرہ انسان کی بات تب تک سننے کے روادار نہیں ہوتے جب تک متعلقہ تھانیدار کی جیب نہ گرم کی جائے۔ دوم آجکل کی جدید ٹیکنالوجی جیسے موبائل اور کمپیوٹر کے ذریعے جنسی طور پر حراساں کیئے جانے کے کیس ایف آئی اے دیکھتی ہے لیکن انکی توجہ بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔

0
409

وزارت داخلہ اور وزارت دفاع کے ماتحت اداروں کا فرق

انبکس میں ایک سوال کیا گیا کہ ہماری ایجنسی آئی ایس آئی ملک کے دشمنوں کو تو مارتی ہے لیکن جو جانور نما انسان ملک کے اندر عزتوں کو روندتے ہیں انہیں کیوں کھلا چھوڑتے ہیں؟

اس سوال کا عمومی جواب تو یہ ہے کہ اندرون ملک شہری جرائم کی روک تھام کے لیئے محکمہ دفاع اور افواج پاکستان یا انکے ذیلی اداروں مطلب آئی ایس آئی یا ایم آئی کے پاس اختیارات نہیں تا آنکہ پارلیمنٹ سے متفقہ قرارداد پاس کروا کر اختیارات تفویض کیئے جائیں کسی طرح کی خاص صورتحال میں تب بات اور ہوجاتی ہے۔

جیسے آپ نے دیکھا کہ آپریشن راہ راست, راہ نجات, ضرب عضب اور اب آپریشن ردالفساد منظم انٹیلی جینسیو اور فوجی معلومات کی روشنی میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کنڈکٹ کیا۔

اسی طرح پولیس, ایف آئی اے, ایلیٹ فورس, کرائم برانچ اور دیگر داخلہ امور کی ذمہ دار ایجنسیاں اور ادارے وہ کام کرنے کا اختیار نہیں رکھتے جو افواج اور اسکے ذیلی اداروں کے پاس ہیں۔ جیسے سرحدوں کی حفاظت, بیرون ملک انٹیلی جنس کاروائیاں اور جاسوسی وغیرہ وغیرہ۔

جو سوال کیا گیا اس کا حتمی اور عقلی و آئینی جواب یہ ہے کہ وزارت داخلہ کے ماتحت ادارے اور ایجنسیاں ملک میں کسی بھی کونے میں ہونے والے کسی بھی فوجداری اور غیر فوجداری اور نیم فوجداری جرائم کی روک تھام کے لیئے ذمہ دار اور اہل ہیں۔

اگر پولیس, ایف آئی اے, کرائم برانچ, سی آئی ڈی, ایلیٹ فورس, ایف سی اور آئی بی ملکر بھی جنسی و اخلاقی جرائم کی روک تھام میں ناکام ہوچکے ہیں تو اس کی ذمہ دار آئی ایس آئی کیسے ہوگئی یا ہوسکتی ہے؟

یا تو سوال کرنے والا لاعلم ہے علم شہریت اور آئین پاکستان سے یا پھر جان بوجھ کر بغض کا شکار ہوکر ایسے بچگانا سوال کرکے عوام کو ابہام کا شکار کررہا ہے۔

ملک میں جنسی جرائم کو پروان چڑھانے میں بنیادی کردار اور اہم وجہ دو داخلی اداروں کی اولین غیر ذمہ داری ہے جو ایسے ہوئے جرائم پر کوئی ایکشن نہیں لیتے بلکہ متاثرہ انسان کا جینا حرام کردیتے ہیں۔

ایک پولیس کا محکمہ اور دوم ایف آئی اے۔

کیونکہ جنسی زیادتی کے شکار کا اولین سامنا پولیس سے ہوتا ہے جو ایسے متاثرہ انسان کی بات تب تک سننے کے روادار نہیں ہوتے جب تک متعلقہ تھانیدار کی جیب نہ گرم کی جائے۔

دوم آجکل کی جدید ٹیکنالوجی جیسے موبائل اور کمپیوٹر کے ذریعے جنسی طور پر حراساں کیئے جانے کے کیس ایف آئی اے دیکھتی ہے لیکن انکی توجہ بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔

وزارت داخلہ اور وزارت دفاع کے ماتحت اداروں میں ہم دونوں کو الگ الگ دیکھتے ہیں نا کہ ہم یہ پوچھتے پھریں کہ پولیس اندرون ملک جرائم نہیں کنٹرول کرسکی تو انہیں بارڈر پر کیوں نہیں بھیج دیتے اور آئی بی کو بھارت سمیت دیگر ممالک کی جاسوسی کا کام کیوں نہیں دیتے۔

اسی طرح آئی ایس آئی اور افواج پاکستان کا دائرہ کار بیرونی خطرات سے نمٹنے تک ہے لیکن اگر ملک کے اندر بیرونی خطرات سے ماحول خراب ہوگا تو یہ ادارے حکومت پاکستان کی صوابدیدی اختیارات کے سہارے یہاں کام کریں گے۔

ایسا نہیں ہے کہ ان عظیم اداروں کا اپنا کاؤنٹر ڈیسک نہیں اندرون ملک دشمنوں کی خیر خبر کا لیکن وہ ڈیسک ایسے شہری جرائم کو نہیں دیکھتے بلکہ ایسے عناصر کی سرکوبی میں ملوث ہوتے ہیں جنہوں نے کبھی ملک کو نقصان پہنچایا ہو یا عنقریب پہنچاسکتے ہوں۔

امید ہے کہ سوال کنندہ کی تشفی کے لیئے یہ جواب کافی ہوگا کیونکہ اس سے سادہ جواب نہیں تھا میرے پاس کہ اس سے آگے بہت ہی ایڈوانس اور ٹیکنیکل معلومات شروع ہوجاتی ہیں جو عام قاری کی سمجھ سے باہر ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here