نوجوت سنگھ سدھو کو چھیڑنا خالصتان نامی بارود کے لیے چنگاری ثابت ہوگا

0
506
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب سے نوجوت سنگھ سدو نے پاکستان کا دورہ کیا ہے وہ انڈین میڈیا اور سوشل میڈیا کے مسلسل نشانے پر ہیں۔ انڈیا سے اندرون خانہ ایسی اطلاعات آرہی ہیں مودی سرکار خود بنا سامنے آئے آر ایس ایس کی مدد سے نوجوت سنگھ سدھو کے خلاف کاروائی کروانا چاہ رہی ہے جس میں پنجاب میں مظاہرے کئے جائیں گئے اور نوجوت سنگھ سدھو کا گھیراؤ بھی کیے جانے کا خدشہ ہے۔

نوجوت سنگھ سدھو کا گناہ یہ ہے کہ وہ تمام تر مخالفت مول لیتے ہوئے پاکستان آئے اور عمران خان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی۔ اور نہ صرف شرکت کی بلکہ تقریب کے دوران نوجوت سنگھ سدھو صدر آزاد کشمیر کے ساتھ بیٹھے اور سب سے بڑھ کر پاک فوج کے سپاہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ سے پرجوش معانقہ بھی کیا اور تقریب کے بعد وزیراعظم پاکستان عمران خان سے خصوصی ملاقات کی اور ان کو چادر بھی پہنائی۔ اس دوران سدھو نہایت پرجوش اور خوش نظر آئے۔

جس کے بعد سے انڈین میڈیا پر آگ لگی ہوئی ہے اور تقریباً ہر انڈین نیوز چینل پر نوجوت سنگھ سدھو کے خلاف پراپیگینڈا کیا جا رہا ہے۔ بھارتی نیوز ایجنسی اے این آئی نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک خبر شائع کی جس میں بتایا گیا کہ نوجوت سنگھ سدھو عمران خان کی حلف برداری کی تقریب کے دوران آزاد کشمیر کے صدر مسعود خان کے ساتھ بیٹھے ہیں۔

اے این آئی کی ایڈیٹر نیوز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ ’سدھو صاحب آپ پر لعنت ہو، آپ جان بوجھ کر آزاد کشمیر کے صدر کے ساتھ بیٹھے ہیں، کس منہ سے اپنے ملک کے لوگوں کو جواب دوگے‘۔ کچھ میڈیا چینلز نے یہ تک کہا کہ لیکن انہوں نے کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی، آج جب پورا بھارت واجپائی کی موت کا غم منارہا ہے تو سدھو پاکستانی وزیرِاعظم کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کرنے کے لیے واہگہ بارڈر سے بولی وڈ اسٹائل میں گئے۔

بھارتی سوشل میڈیا بھی پیچھے نہیں اور بھارتی سوشل میڈیا صارفین نے بھی اپنی تمام توپوں کا رخ سدھو کی جانب کردیا. سادہ دل اور خوش مزاج نوجوت سدھو وضاحت کر چکا ہے کہ پاکستان کے سپاہ سالار سے میں نے گورو ناننک صاحب کی 550 ویں برسی کے لیے راستہ کھولنے کی فرمائش کی جو انہوں مان لی ہے۔

لیکن سدھو کے اس دورے پر سب سے زیادہ خوش دنیا بھر میں موجود انتہائی طاقتور سکھ کمیونٹی ہے۔ جس نے اسے بھرپور انداز میں سراہا ہے کہ پاکستانی آرمی چیف نے ہمارے گھرو کے بارے میں بڑی بات کی وہ راستہ کھولیں گئے۔ یہ سکھ کمیونٹی اس وقت بھی دنیا بھر میں انڈیا سے اپنی الگ خالصتان ریاست کے لیے کام کر رہی ہے۔

خالصتان تحریک سکھوں کی انڈیا سے آزادی کی تحریک ہے۔ تھوڑا سا اس تحریک اور اس کے پس منظر کو بھی جان لیں۔ 1953ء مشہور سکھ لیڈر ماسٹر تار سنگھ نے کہا ۔۔ ” انگریزوں کے جانے کے بعد بھی ہم غلام ہی ہیں۔ پہلے ہمارے آقا گورے تھے اب کالے ہیں ” ۔ 1980ء تک سکھوں کی آواز دبانے کے کم از کم 400 سکھوں کو قتل کیا جا چکا تھا ۔

1984ء کا سال سکھوں پر قیامت بن کر گزرا ۔ انتہاپسند ہندو لیڈر اندرا گاندھی کے حکم پر سکھوں کے مقدس ترین مقام ہری سنگھ گوردوارا ( گولڈن ٹیمپل ) پر ہزاروں بھارتی فوجیوں نے پوری قوت سے حملہ کر دیا ۔ اس حملے میں ٹینکوں اور توپوں کا بھرپور استعمال کیا گیا ۔ اس وقت وہاں 100 سے 150 کے قریب مزاحمت کار موجود تھے ۔

لیکن اس آپریشن میں وہاں موجود ہزاروں کی تعداد میں آئے بے گناہ سکھ زائرین کو نہایت بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔ صدیوں پرانے اور تاریخی گولڈن ٹیمپل کو تباہ کر دیا گیا اور سکھوں کی مذہبی مقدس ترین عمارت “اکل تخت” کو ملیامیٹ کر دیا گیا۔ یہ ایک ایسا نقصان ہے جسکا ازالہ ممکن ہی نہیں ۔ یہ زخم ہر سکھ کے دل پر لگا ۔ نتیجے میں اندرا گاندھی کو اس کے دو سکھ باڈی گارڈز نے قتل کر دیا۔

اندرا گاندھی کا قتل سکھوں کے لیے ایک اور قیامت لے کر آیا ۔ پورے ملک میں سکھ کش فسادات پھوٹ پڑے اور ہندوؤں نے ہزاروں سکھوں کا قتل عام کردیا۔ اس ظلم کو ہندو حکومت کی مکمل سرکاری سرپرستی حاصل رہی۔ حالت یہ ہوگئی کہ انڈیا میں جگہ جگہ نالیاں اور گٹر بند ہوگئے جب کھولے گئے تو وہ سکھوں کی لاشوں سے اٹے پڑے تھے ۔

سکھ بنیادی طور پر ایک بہادر قوم ہے ۔ اس ظلم عظیم کے بعد وہ دبنے کے بجائے ہندو کے سامنے تن کر کھڑی ہوگئی اور اپنی الگ ریاست بنانے کی کوششیں تیز کر دیں ۔ یہاں تک کہ ریاست خالصتان کا جھنڈا، کرنسی ، نقشہ اور مہریں وغیرہ تک تیار ہوگئیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت کے صدر پاکستان جنرل ضیاءالحق نے بھی سکھوں کی مدد کی تھی۔ حالات انڈین حکومت کے ہاتھوں سے نکل چکے تھے اور وہ ایک اور آپریشن کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے ۔

تب جنرل ضیاء کو ایک پلین کریش میں شہید کر دیا گیا ۔ بے نظیر کی حکومت نے تاریخی ظلم اور غداری کرتے ہوئے اعتزاز احسن کے ہاتھوں سکھ تحریک کے لیڈروں کی فہرست انڈیا کو دے دی ۔ جس کے بعد ایک بار پھر اس تحریک کو کچل دیا گیا۔

سکھوں کو ماردیا گیا ۔ تاہم ان کے نظریے کو نہیں مارا جا سکا ۔ جس کی وجہ سے بلاآخر ایک عشرے بعد اس تحریک نے ایک نیا جنم لیا اور آہستہ آہستہ دوبارہ اپنی پرانی طاقت حاصل کر لی ۔

کچھ عرصہ پہلے مقبوضہ کشمیر میں ” بن کے رہے گا خالصتان کے” نعرے لگنے شروع ہوئے۔ کل گوردارسپور میں سکھ تحریک کے حامیوں کے حملے نے انکی بھر پور قوت اور موجودگی کا اعلان کر دیا ہے ۔ خالصتان تحریک ایک بار پھر پوری طرح متحرک اور منظم ہوچکی ہے اور وہ آزادی سے کم کسی چیز پر آمادہ نہیں۔

3 کروڑ سکھوں کی آواز کو دبایا نہیں جا سکےگا ۔۔ انڈیا کو ایک بار پھر دو قومی نظریے کا سامنا ہے لیکن اس بار سکھوں کی جانب سے ۔ بلاشبہ ۔۔ ” سکھ اور ہندو دو الگ الگ قومیں ہیں یہ اکھٹی نہیں رہ سکتیں.

تحریک خالصتان کے علمبردار سکھوں نے واضح کیا ہےکہ اگر سدھو کو کوئی نقصان پہنچایا گیا تو وہ اس کو ہرگز برداشت نہیں کرینگے۔


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here