نظریہ الحاد کا دیوالیہ پن حصہ دوم

0
284
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نظریہ ارتقاء یا ایویلوشن نے الحاد کی کمر توڑ دی ہے ۔
بنیادی طور پر یہی وہ سائنسی نظریہ ہے جس پر الحاد سب سے زیادہ انحصار کرتا ہے لیکن ہوا یہ کہ اس نظریے کو ثابت کرنے کے لیے اس پر بہت زیادہ تحقیق کی گئی جس کے نتائج نے الحاد کو بلکل ہی بے آسرا کر دیا ہے ۔

زندگی یا جاندار کیسے وجود میں آئے ؟ صرف دو صورتیں ممکن ہیں ۔
پہلی ۔۔۔ ” جاندار خوبخود وجود میں آئے ۔”
دوسری ۔۔۔۔ ” انکو تخلیق کیا گیا ۔”

نظریہ الحاد کا دیوالیہ پن  حصہ اؤل 

کوئی تیسری صورت ممکن نہیں ۔ الحاد پہلی صورت کا قائل ہے اور اسی کو ثابت کرنے کے لیے نظریہ ارتقاء پیش کیا گیا ہے۔
اس نظریے کے مطابق زمین پر مناسب ترین ماحول بنا ( جو ابھی ثابت نہیں ہوا ) پھر مختلف کیمیکلز نے اتفاقً مناسب ترین مقدار میں ملکر ایمینو ایسڈز بنائے ۔ پھر اتفاقً یہ امینو ایسڈز ایسے تناسب سے ملے جن سے مختلف قسم کے پروٹینز بنے ۔ پھر ایک حیرت انگیز اتفاق کے تحت ان پروٹینز نے ایسے اعضاء بنائے جن سے خلیہ بن سکتا تھا اور محض تکے سے ان اعضاء نے ملکر ایک زندہ خلیہ بنا لیا۔ پھر اس خلیے نے بیرونی اثرات کے سبب اتفاق سے ہی پیچیدہ جانور بنالیے ۔
ان اتفاقات کے امکان پر ماہرین ایک مثال دیتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔

اگر کائنات میں موجود سارے ایٹم امینو ایسڈز میں تبدیل ہوجائیں اور انکو مطلوبہ ماحول اور اربوں سال کا وقت دیا جائے ۔ تب بھی وہ “محض اتفاق سے” کوئی ایک درمیانہ سائز کا فنکشنل پروٹین نہیں بنا سکتے ۔”۔۔۔
جبکہ ایک زندہ خلیہ ایسے بہت سے اعضاء پر مشتمل ہوتا ہے جو اس خلیے کو زندہ رکھنے کے لیے الگ الگ امور سرانجام دیتے ہیں اور وہ ہر عضو صرف اسی عضو کے لیے درکار مخصوص پروٹینز کے انتہائی درست تناسب سے ملکر بنتا ہے۔

” ایک برتن میں لوہے کے بہت سارے ٹکڑے ڈال کر انکو اربوں سال تک ہلایا جائے تو کیا ان سے اتفاقً ایک ناخن تراش بن سکتا ہے؟؟ ۔ “۔۔۔ اس اتفاق پر دنیا کا کوئی ایویلوشنسٹ یا ملحد یقین نہیں کرے گا لیکن ” خلیے ” کے معاملے میں درکار لامتناہی اور ناممکن اتفاقات پر وہ اندھا یقین رکھتے ہیں ۔

ایک خلیے نے ذاتی بقا کے بجائے اجتماعی بقا کیسے سیکھی تاکہ پیچیدہ جاندار جیسے پودے اور جانور بنائے جا سکیں ؟؟؟ جس کے تحت وہ نہ صرف اس جاندار کے اندر اپنی ایک مخصوص ذمہ داری سنبھالے گا بلکہ ایک پروگرام کے تحت مرے گا بھی ؟؟؟

جبکہ نظریہ ارتقاء یا ڈارون ازم کے مطابق ۔۔۔”جاندار زندہ رہنا چاہتے ہیں اور اپنی بقا کی جنگ لڑتے ہیں “۔۔۔
آخر شعور سے عاری ان بے عقل ذرات نے مستقبل کی یہ ساری منصوبہ بندی کی کیسے؟؟
الحاد اس پلاننگ کو ایک نامعلوم جبلت قرار دیتا ہے وہ اس کے لیے کسی ” خدائی راہنمائی ” یا پروگرام کا انکاری ہے۔ لیکن اس نامعلوم جبلت کی وضاحت خود الحاد کے پاس بھی نہیں۔

الحاد کا زیادہ زور اتفاقات پر ہے۔
ڈی این اے خلیے کے اندر پایا جانے والا ایک نہایت پیچیدہ کوڈ ہے جس میں اتنی معلومات ہوتی ہیں جو شائد انسائکلو پیڈیا یا ویکیپیڈیا میں ہوں۔

اگر یہ کہا جائے کہ ۔۔۔ ” بہت سے بندروں کو ٹائپ رائٹر کے سامنے بیٹھا دیا گیا جنہوں نے ٹائپ رائٹرز پر کئی ارب سال تک بے تکے انداز میں ہاتھ مارنے کے بعد اتفاقً شیکسپئر کی طرح کا کوئی ڈراما تخلیق کر لیا “۔۔۔ تو اس بات کو کوئی تسلیم نہیں کرے گا بمع نظریہ ارتقاء پر یقین رکھنے والوں کے ۔۔۔۔

لیکن وہ سب اس بات پر بضد ہیں کہ خلیے کے اندر پایا جانے والا کائنات کا سب سے پیچیدہ کوڈ محض اتفاقً لکھا گیا ہے ۔۔

نہ صرف یہ بلکہ اس نظریے کے مطابق ڈی این اے میں درج معلومات میں تابکاری جیسے بیرونی عوامل نے ایسی حادثاتی تبدیلیاں کیں جس سے نئے اور بہتر جانور وجود میں آئے ۔ اسی کو وہ میوٹیشن کہتے ہیں ۔
مثلاً ۔۔۔ بیروانی عوامل نے اتفاقً مچھلی کی ڈی این اے میں ایسی حادثاتی تبدیلیاں کیں کہ اس کو پانی میں رہنے کے لیے گلپہڑے ، پر اور چھلکے مل گئے ؟
برفانی علاقوں میں رہنے والے ریچھ کے ڈی این اے کو اتفاقً ایسے انداز میں متاثر کیا ہے کہ اس کو موٹی کھال اور بال مل گئے تاکہ وہ برف میں رہ سکے ۔۔۔؟
اونٹ کے ڈی این اے کو محض تکے سے ایسے متاثر کیا کہ اسکو پانی ذخیرہ کرنے کے لیے معدے میں ایک فالتو خانہ مل گیا اور نیچے سے نرم اور چوڑے پاؤں تاکہ صحرا میں گزارا کر سکے ۔۔۔؟

نظریہ ارتقاء یہاں بے بسی کی تصویر نظر آتا ہے اور اسکے پاس ان “اتفاقات” کے سوا کوئی چارہ کار باقی نہیں رہتا۔ یا وہ پھر کسی نامعلوم جبلت کی طرف جاتے ہین۔ جس کے تحت جانداروں نے اپنے اندر خود یہ تبدیلیاں پیدا کیں۔

مثلاً مچھر نے دوسرے جانداروں کا خون پینے کے لیے خود اپنے وجود کے اندر آرے اور پائپ کے علاوہ وہ میکنزم بھی نسب کیا جو ایسا کیمیکل بناتا ہے جس کو وہ دوسرے جاندار کے جسم میں ڈال کر اس کا خون جمنے نہیں دیتا۔
مچھر کو کیسے علم ہوا کہ خون جمتا ہے؟؟ اور مچھر کو ان کیمیکلز کا علم کیسے ہوا جو اس کو جمنے سے روک سکتا ہے ؟؟ مچھر نے وہ کیمیکل بنائے کیسے ؟؟
جبلت یا اتفاق ؟؟؟ 🙂

نظریہ الحاد کا دیوالیہ پن آخری حصہ

نظریہ ارتقاء پیش کرنے والے ڈارون نے اپنے نظریے کے لیے سب سے زیادہ امیدیں فوسل ریکارڈ سے باندھی تھیں اور درحقیقت یہی اس نظریے کا سب سے بڑا ثبوت ہونا چاہئے تھا ۔ لیکن فوسل ریکارڈ نے اس نظریے کے تابوت میں آخری کیل ٹونک دی ہے ۔
ارتقائی اصول کے مطابق درمیانی شکل کے جانداروں کی تعداد دیگر موجود جانداروں سے سینکڑوں گنا زیادہ ہونی چاہئے اور اس طرح لازمً ان کے فوسلز بھی اسی تناسب سے سینکڑوں گنا زیادہ ملنے چاہئیں تھے ۔۔۔۔۔
لیکن ایک حیرت ناک اور ناقابل یقین بات ہے کہ لاکھوں ملنے والے فوسلز میں سے اب تک کوئی ایک بھی اور میں دہرا رہا ہوں کہ کوئی ایک بھی ایسا فوسل نہیں ملا جس کو ناقابل تردید “مسنگ لنک”(درمیانی شکل کا گمشدہ جانور) کہا جا سکے ۔ جن فوسلز کو وقتاً فوقتاً مسنگ لنکس کہا جاتا رہا وہ ایک ایک کر کے یا فراڈ ثابت ہوئے یا وہ مسنگ لنکس تھے ہی نہیں ۔ ارتقاء اسکو بھی اتفاق ہی کہتا ہے 

دوسری بات بہت سے ایسے جانداروں کے فوسل ملے ہیں جو کروڑوں سال بعد بھی بغیر کسی تبدیلی کے آج تک زندہ ہیں ۔ان میں ارتقاء کا عمل کیوں نہیں ہوا اور وہ کروڑوں سال بعد بھی ویسے کے ویسے کیوں ہیں ؟ ارتقاء کے پاس اسکو بھی محض اتفاق کہنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں۔

تیسری اہم ترین بات کہ فوسلز ریکارڈ جانداروں کو مختلف ادوار میں تقسیم کرتا ہوا نظر آتا ہے لیکن حیرت انگیز انداز میں ہر دور کے جاندار اچانک ہی زمین پر نمودار ہوتے اور اچانک ہی غائب ہوتے نظر آتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے اس پر ارتقاء اور فوسلز دونوں خاموش ہیں ؟ شائد یہ بھی کوئی اتفاق ہی ہے ۔۔۔۔؟؟؟

چند بے شعور اور اندھے بہرے کیمکلز نے کیسے شعور ، عقل ، اخلاقیات حتی کہ خدا تک کا تصور پیدا کیا ؟

ارتقاء نامی نظریہ 100 سال بعد بھی اپنا “خود کا ارتقاء” نہیں کر سکا اور اب بھی وہیں کا وہیں کھڑا ہے ۔ وہ اب تک محض ایک نظریہ ہی ہے سائنسی اصول نہیں بن سکا ہے کیوں؟

اس نظریے پر ہونے والی محنت ، وقت اور سرمایہ حیاتیات کے دیگر ایسے شعبوں پر صرف کیا جا سکتا تھا جس سے نوع انسانی کو کوئی فائدہ پہنچتا

مچل رس نامی ایولوشنسٹ سائنسدان تسلیم کرتا ہے کہ ” نظریہ ارتقاء ” سائنس نہیں بلکہ مذہب ہے اور یہ بات اس نظریے کے شروع میں بھی سچ تھی اور اب بھی سچ ہے ۔” میرا سوال ہے کہ اگر آپ سائنس میں مذہب نہین پڑھا سکتے تو نظریہ ارتقاء کیوں پڑھایا جاتا ہے ؟

چونکہ نظریہ ارتقاء کو الحاد سائنسی نظریہ کہتا ہے نہ کہ عقیدہ یا ایمان تب سائنسی اصول کے مطابق اسکو ثابت یا رد کیا جا سکتا ہے اور اب تک کی تحقیق نے اسکو صرف رد کیا ہے ۔۔۔
اس لیے ہمارے پاس اور کوئی چارہ نہیں سوائے اسکے کہ ہم دوسرے آپشن کی طرف جائیں ۔ یعنی ہم یہ تسلیم کر لیں کہ جاندار خود نہیں بنے بلکہ انکو تخلیق کیا گیا ہے اور ظاہر ہے ۔۔۔۔ “تخلیق کے لیے خالق کا وجود لازم ہے ۔”

ایک عظیم خالق کا وجود تسلیم کرنے کے بعد ان لامتناہی ،محال، لایعنی اور احمقانہ ” اتفاقات” سے ہماری جان چھوٹ جاتی ہے ۔

جاری ہے ۔۔۔

تحریر شاہدخان


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here