نظریہ الحاد کا دیوالیہ پن  حصہ اؤل 

0
264

نظریہ الحاد کا دیوالیہ پن  حصہ اؤل 

سائنس ، منطق اور فلسفے نے نظریہ الحاد کو دیوالیہ کر دیا ہے اور وہ خود اپنے ہی قائم کیے گئے اصولوں کے تحت خود کو رد رہا ہے ۔
وہ زندگی اور کائنات سے متعلق اہم ترین سوالات کے جوابات دینے میں ناکام ہے ۔ ان سوالات کے جوابات دینے کے لیے اسکو عالمی طور پر تسلیم شدہ اصولوں، سچائیوں اورعلمی طریقہ کار سے انحراف کرنا ہوگا لیکن ایسا کرنے سے سارا علم ہی باطل ہو جائیگا اور کوئی چیز ثابت اور متعئن نہیں کی جا سکے گی ۔

 ہر وجود یا واقعے کا کوئی نہ کوئی سبب ہوتا ہے 
الحاد کا یہ اہم ترین اصول کائنات کے وجود کے معاملے میں خود الحاد کی بنیادیں ہلا دیتا ہے ۔ دو ممکنات ہیں ۔ یا کائنات لامتناہی وقت سے ہے یا ایک خاص وقت وجود میں آئی ۔ کوئی تیسری صورت ممکن نہیں ۔
اگر لامتناہی وقت سے ہے تو سائنس کے قانون کے مطابق اسکو لامتناہی وقت پہلے ہی اپنی ساری توانائی استعمال کر کے ٹھنڈا ہو جانا چاہئے تھا۔

نظریہ الحاد کا دیوالیہ پن حصہ دوم

اگر یہ کہا جائے کہ مادے اور توانائی سے بنی یہ کائنات کسی اور شکل میں لامتناہی وقت سے موجود تھی اور پھر تبدیل ہو کر موجودہ شکل اختیار کی تب اسی اصول کے مطابق لامتناہی وقت سے ہی اس تبدیلی کا سبب یا محرک موجود تھا اور یہ تبدیلی لامتناہی وقت پہلے آجانی چاہئے تھی ۔ کائنات کو پھر بھی لامتناہی وقت پہلے ٹھنڈا ہو جانا چاہئے تھا۔
سبب والے اصول کے مطابق کائنات کی موجودہ شکل ناممکن ہے ۔
ہمیں ماننا پڑے گا کہ کائنات کا کسی بھی شکل میں کوئی وجود نہیں تھا ۔ تب یہ کیسے وجود میں آئی ؟؟ الحاد اس کا جواب دینے سے قاصر ہے ۔
دوسری صورت یہی ہو سکتی ہے کہ ہم تسلیم کر لیں کہ کائنات ایک خاص وقت میں عدم سے وجود میں آئی ۔ بگ بینگ تھیوری بھی اسی طرف اشارہ کرتی ہے 
کائنات کے وجود میں آنے کا سبب یا محرک لازمً بیرونی تھا جو اسکو عدم سے وجود میں لایا یا دوسرے لفظوں میں اسکو ” پیدا ” کیا۔

اندرونی ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ ایک چیز موجود ہی نہیں تھی تو اسکا اندرونی سبب کہاں سے آگیا جو اسکو پیدا کرسکے ۔۔۔
اب ذرا یہ نقطہ زیادہ غور سے سمجھنے کا ہے کہ وہ بیرونی محرک یا سبب شعور سے عاری ہرگز نہیں ہو سکتا ۔ اگر ہم اسکو شعور سے عاری تسلیم کریں جس نے خودکار انداز میں کام کیا تو ہمیں یہاں بھی لامتناہی وقت والے مسلئے کا سامنا کرنا ہوگا ۔ کیونکہ شعوری سے عاری محرک وقت کا انتخاب نہیں کر سکتا ۔ تب کائنات کو لامتناہی وقت پہلے ہی وجود میں آجانا چاہئے تھا ۔
نیز شعور سے عاری محرک یا سبب نے عدم سے کائنات کو وجود کیسے دیا ؟؟؟اس سوال کے جواب میں الحاد بےبس اور لاچار نظر آتی ہے ۔ یہ بات کہ وقت کا آغاز کائنات کے وجود میں آنے کے بعد ہوا درست نہیں ۔ محرک یا سبب کا وجود وقت کے بغیر کیسے ممکن تھا ؟؟

یقیناً وہ بیرونی محرک یا سبب عظیم شعور اور عظیم طاقت کا مالک ہے جس نے کائنات کی پیدائش کے لیے وقت کا انتخاب کیا اور معجزانہ انداز میں کائنات کو پیدا کیا۔
اس آخری بات کو تسلیم کرنے کے بعد ہمیں خوبخود ایک اور اہم ترین سوال کا جواب بھی مل جاتا ہے کہ ۔۔۔ ” اگر کائنات ایک دھماکے سے وجود میں آئی تو اس کے ایک معمولی ایٹم سے لے کر عظیم الشان کہکشاوؤں تک میں ایک غیر معمولی نظم اور اصول کیوں کارفرما نظر اتے ہیں۔ ۔”
اس حیران کن نظم کو الحاد نہایت ڈھٹائی سے ” اتفاق ” قرار دیتی ہے 

کائنات کو تخلیق کرنے والے اس محرک کو ہم خدا کہتے ہیں ۔ خدا کے وجود سے انکار ہمیں ایک ایسی جگہ کھڑا کرتی ہے جہاں ہمیں ہر راستہ بند ملتا ہے ۔
یہاں سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ اگر ہر شے کا خالق خدا ہے تو خدا کا خالق کون ہے؟؟؟ پھر اس کا خالق کون ہے اور پھر اسکا خالق کون ؟؟ یوں یہ لامتناہی خداوؤں کا ایک سلسلہ بن جاتا ہے ۔
لیکن لامتناہی خداوؤں کے وجود کا تصور ہی اسکو باطل ثابت کرنے کے لیے کافی ہے ۔ ہمیں لازمً ایک ایسے خالق کا وجود تسلیم کرنا پڑے گا جسکا خالق کوئی نہ ہو ۔ یعنی اسکو کسی نے پیدا نہ کیا ہو ۔

خالق لامتناہی نہیں تو کتنے ہیں؟؟ اس سوال کا جواب قرآن ایک مثال کے ذریعے دیتا ہے کہ اگر خدا ایک سے زیادہ ہوتے تو ان میں اختلاف ہوتا۔

نظریہ الحاد کا دیوالیہ پن آخری حصہ

یہ نہایت سادہ لیکن بہت ہی اہم نقطہ ہے ۔ اگر خالق ایک سے زائد ہیں تب ان میں اختلاف لازم ہے ۔ اگر الحاد کہے کہ کبھی کوئی اختلاف ہو ہی نہیں سکتا تب وہ ایک ہی وجود تسلیم کیا جائیگا ۔ لیکن اگر اختلاف کو تسلیم کرتے ہیں تو ۔۔۔۔۔ کونسا خدا غالب آئیگا کونسا مغلوب ہوگا نیز اس اختلاف کے بعد مخلوق کا وجود حتی کہ خود خالق کا وجود کیسے باقی رہ سکے گا ؟؟؟
ایسے ایسے سوال اٹھتے ہیں جو کائنات جیسی عظیم الشان تخلیق کرنے والے خالق کے ہرگز شایان شان نہیں ۔
تب ہمارے پاس یہی چارہ رہ جاتا ہے کہ ہم صرف ایک خدا کے وجود کو تسلیم کرلیں جو ہر شے کا خالق ہے اور جس کو کسی نے پیدا نہیں کیا نہ ہی کوئی اسکا ہمسر ہے ۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here