ملا کے پاس جانا شروع کریں تو وہ ہمیں بتاتا ہے کہ ” صرف تم ہی مسلمان ہو

0
238

قرآن، ملا اور ففتھ جنریشن وار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” بے شک جن لوگوں نے اپنے دین میں فرقے بنائے اور گروہوں میں بٹ گئے آپ (ﷺ) کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے ان کا معاملہ اللہ کے سپر د ہے پھر وہ ان کو بتا دے کہ وہ کیا کرتے رہے ۔” ( الانعام :159)

فرقے بنانے والے کون ہیں؟ عوام یا علماء؟

یقیناً اللہ علماء سے مخاطب ہیں جو تمام فرقوں کے موجد ہیں۔

————–

“بے شک جو لوگ ان کھلی کھلی باتوں اور ہدایت کو جسے ہم نے نازل کر دیا ہے اس کے بعد بھی چھپاتے ہیں کہ ہم نے ان کو لوگوں کے لیے کتاب میں بیان کر دیا، یہی لوگ ہیں کہ ان پر اللہ لعنت کرتا ہے اور لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں” ( البقرہ 159)

اللہ کا نازل کردہ چھپانے کے اہل کون ہیں عوام یا علماء؟

بے شک اللہ علماء سے ہی مخاطب ہیں جو اپنے حاصل کردہ علم کے اس حصے کو چھپاتے ہیں جو ان کے مسلکی نظریات کے خلاف ہو۔ غلط اور گمراہ کن تاویل کرنا بھی چھپانا ہی ہے۔

—————-

” یہ فرقہ فرقہ نہیں ہوئے لیکن اس کے بعد کہ ان کے پاس ( ان کے رب کی طرف سے)علم آچکا تھا، آپس میں بغض و عناد کے سبب ، اور اگر (اے نبی ﷺ) آپ کے رب کی(فیصلے کی) بات مقررہ وقت تک کے لئے پہلے طے نہ ہوچکی ہوتی تو یقیناً ان کا فیصلہ ہو چکا ہوتا ۔” ( الشوریٰ :14)

کون ہیں جنہوں نے علم حاصل کر لینے کے بعد فرقے بنا لیے اور ایک دوسرے کے خلاف ان کے دلوں میں بغض و عناد بڑھتا ہی چلا جاتا ہے عوام یا علماء؟؟

—————–

زبرستی دین کے وارث بننے والے کیا واقعی قرآن پڑھتے بھی ہیں؟

کتنے علماء ہیں جو ان آیات کی زد میں نہیں آتے؟

انکا دین سے کوئی تعلق نہیں، ان پر اللہ اور ہر لعنت کرنے والی کی لعنت ہے اور اگر قیامت کا وعدہ نہ ہوتا تو اللہ دنیا میں ہی ان کو ذلیل و رسواء کر دیتا۔

ہمارے والدین ہمیں بچپن میں سکھاتے ہیں کہ ” تم مسلمان ہو”

لیکن ملا کے پاس جانا شروع کریں تو وہ ہمیں بتاتا ہے کہ ” صرف تم ہی مسلمان ہو” ۔۔۔۔۔۔ 

کیا یہ کبھی باز نہیں آئنگے؟

حال یہ ہے کہ ہم فرقہ پرستی کا رونا رو رہے تھے اور یہ بدبخت علماء قوم پرستی میں بھی کود پڑے۔ اسکی بھی تاویلیں کرنے لگے ہیں۔

*****************************

اب قرآن کے کچھ اور احکام مسلمانوں کو آپس میں لڑانے والے مسلمانوں کی خدمت میں۔

” اس (اللہ تعالیٰ ) نے تمہارا نام مسلم رکھا ہے ، اس سے پہلے اورا س ( قرآن) میں بھی ۔” (الحج :78)

یہ ان کے نام جو خود کو مسلمان سے زیادہ سندھی، پنجابی، بلوچی، پشتون، دیوبندی، بریلوی اور اہلحدیث قرار دینے پر بضد ہیں۔

————————

” اور نہ ہو جانا ان لوگوں کی طرح جنہوں نے روشن دلیلیں آجانے کے بعد بھی اختلاف کیا اور فرقہ فرقہ ہو گئے ، اور ان کےلئے بڑا عذاب تیارہے۔” (آل ِ عمران :105)

یہ آیات ہی وہ روشن دلیل ہیں۔ سو اب کرو اختلاف اور جھگڑا اور پھر یہ دعوی بھی کرو کہ تم حق پر ہو۔

————————

” اللہ کی طرف رجوع کرتے رہو اور اسی سے ڈرو اور صلوٰۃ قائم کرو اور مشرکوں میں سے نہ ہو جانا۔ ان لوگوں میں سے جنہوں نے اپنے دین میں فرقے بنالئے اور گروہوں میں بٹ گئے ، ہر گروہ اسی چیز میں مگن ہے جو اس کے پاس ہے۔” ( الروم :31-32)

بےشک ہر فرقہ اسی میں مگن ہے جو اس کے پاس ہے۔حتی کہ دوسرے کی حق بات بھی قبول کرنا گوارا نہیں!

———————-

” اے ایمان والو اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے ، اور نہ تمہیں موت نہ آئے مگر یہ کہ تم مسلم ہو ۔اور تم سب اللہ کی رسی (کتاب اللہ ) کو مضبوطی سے تھا م لو اور فرقہ فرقہ نہ ہوجاؤ ۔” (آل ِ عمران : 102-103)

یہ ہے قرآن کا ففتھ جنریشن وار کا جواب۔

ان آیات سے پھر جاؤ یا ان کی اپنی مرضی کی تاویل کر کے اللہ کا حکم بگاڑ لو۔ پھر اپنا حشر دیکھ لینا۔ تم میں سے کوئی اللہ کو ہرا نہیں سکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !

تحریر شاہدخان

نوٹ ۔۔۔۔ فضل الرحمن کی تصویر علامتی ہے۔ ان آیات کی زد میں آنے والے علماء کی اکثریت ہے!

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here