مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ جو بھی پی آئی اے خریدے گا اسے اسٹیل مل مفت دے دی جائے گی۔

0
121
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قومی ادارہ محض ایک روپے ٹوکن منی پر ۔۔۔۔۔۔

مشیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ جو بھی پی آئی اے خریدے گا اسے اسٹیل مل مفت دے دی جائے گی۔

یعنی قومی اداروں پر سیل۔ ادارے نہ ہوئے باٹا کے جوتے ہوگئے!

۔ 2006ء میں یعنی جمہوریت کی آمد سے صرف دو سال پہلے مفت دی جانے والی سٹیل مل سالانہ 1 ارب روپے منافع کما رہی تھی۔

نجکاری یا پرائیویٹائزیشن نامی تباہ کن عمل میں تین مختلف جمہوری ادوار میں اب تک 160 سے زائد قومی ادارے کوڑیوں کے مول بیچے جا چکے ہیں۔ اور بیچنے کے اس عمل میں 3000 ارب روپے سے زائد کی کرپشن کی گئی ہے۔

ڈی جی خان سیمنٹ ، ملت ٹریکٹرز اور ایم سی بی سمیت کئی بڑے قومی ادارے میاں نواز شریف اور میاں منشاء کی ملی بھگت کا شکار ہو چکے ہیں اب اگلا شکار پی آئی اے اور سٹیل مل ہیں۔

ایم سی بی کی بولی نواز شریف کے دور حکومت میں لگی اور عبدالقادر توکل نے سب سے زیادہ بولی لگائی لیکن نواز شریف نے اسکو نظر انداز کر کے بینک 60 ارب روپے سستا میاں منشاء کو بیچ دیا۔ آج بینکنگ سے وابستہ لوگ کہتے ہیں کہ میاں منشاء نواز شریف کا فرنٹ مین تھا ایم سی بی بینک دراصل خود نواز شریف نے ہی خریدا تھا ۔ اور آج بھی وہی اسکے اصل مالک ہے۔

۔ 1988 میں نواز شریف نے پنجاب کا وزیر اعلی بننے کے بعد پنجاب کی پانچ بڑی شوگر ملوں کو بیچ دیا اور ان میں سے دو شوگر ملوں پسرور اور یونائیٹڈ شوگر مل کو صرف ایک روپے ٹوکن منی پر بیچا گیا۔

میاں نواز شریف کے پہلے دور حکومت میں میاں منشاء سچن گروپ، توکلز اور 120 ارب روپے سے زائد کے قومی ادارے ایم سی بی، پانچ سیمنٹ پلانٹ، نیشنل فائبر، بلوچستان ویلز، اور نیا دور موٹر کوڑیوں کے مول لے اڑے۔
بیبو گروپ والے نیشنل گروپ پر براجمان ہوئے۔
اور ایک نامعلوم بندہ سکندرجتوئی میٹرو پولیٹن سٹیل کی بولی لگانے میں کامیاب ہوا جس کا آج پتہ ہی نہیں کہ کہاں گیا۔

نواز شریف نے قرضے اتارنے کے نام پر 1991 میں قومی ادارے بیچے تو قرضہ 23 ارب ڈالر تھا۔ لیکن نواز شریف کی جانب سے دو ادوار میں 66 سے زائد اہم ادارے بیچنے کے باوجود آج قرضہ 84 ارب ڈالر ہوچکا ہے ۔

قومی اداروں کو تباہ کر کے خود ہی کوڑیوں کے مول لینے کا فارمولہ بڑا آسان ہے۔ بے روزگاری دور کرنے کے نام پر کسی بھی ادارے میں اس کی استطاعت سے تین چار گنا زیادہ اور نالائق لوگ گھسیڑ دو۔

جب ادارہ خسارے میں جاکر مقروض ہوجائے تو اسکو سفید ہاتھی قرار دے کر مفت میں خرید لو۔

نواز شریف میاں منشاء کے ساتھ ملکر اب تک پاکستان کے درجنوں اداروں کو اسی طرح برباد کر کے خرید چکا ہے۔

کیا آپ کو حیرت نہیں ہوتی کہ عین اس وقت جب پی آئی اے دن بدن تباہ ہورہی ہے ن لیگ کی ائیر بلو منافع کے نت نئے ریکارڈز بنا رہی ہے۔

عین اس وقت جب نواز شریف کی دنیا بھر میں پھیلی سٹیل ملیں اربوں روپے کما رہی ہیں پاکستان کی سرکاری سٹیل مل بے پناہ خسارے میں چلی جاتی ہے اور بلاآخر بند کر دی جاتی ہے۔

کیوں ؟؟؟؟؟؟؟

تحریر شاہدخان


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here