Home Pakistan Muslim League (N) مریم نواز مشہور گستاخانہ پیج ” بھینسا” سے مواد شیر کرتی رہی...

مریم نواز مشہور گستاخانہ پیج ” بھینسا” سے مواد شیر کرتی رہی ہیں۔

0
326
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اللہ اور رسولﷺ کے خلاف جنگ کی کہانی ۔۔۔۔۔۔

تصویر میں موجود بندہ نواز شریف کا مشہور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہے۔ اس کے گستاخانہ کرتوت کے گواہ ہزاروں لوگ ہیں۔ ن لیگ کو شکایت کی گئی جہاں سرزنش کے بجائے اس مردود کی مزید حوصلہ افزائی کی گئی۔

قرآن میں اللہ فرماتے ہیں کہ سود کا کام کرنے والے اللہ اور اس کے رسولﷺ کے خلاف حالت جنگ میں ہیں۔ نواز شریف نے اس آیت کی آفاقی سچائی ثابت کر دی۔

پاکستان میں وفاقی شریعت کورٹ نے سود کو ختم کرنے کا حکم جاری کیا تو یہ نواز شریف ہی تھا جس نے اس حکم کے خلاف سپریم کورٹ سے سٹے لے لیا۔
کچھ عرصہ پہلے نواز شریف کے پالتو صدر ممنون حسین نے علماء سے سود کو جائز قرار دینے کی فرمائش کی۔ دہی بھلے بنانے والے ممنون حسین سے ایسی فرمائش کی کوئی تک نہیں بنتی سوائے اس کے کہ یہ نواز شریف کے حکم پر کی گئی ہو۔

یوں اس ایک شخص کی بدولت پورے پاکستان میں سود کا کام جاری و ساری ہے۔ قرآن کی آیت کی رو سے نواز شریف اس وقت اللہ اور اس کے رسولﷺ کے خلاف حالت جنگ میں ہیں۔

آئیے اس جنگ کی کچھ جھلکیاں دیکھتے ہیں۔

حیران کن طور پر سوشل میڈیا پر موجود تمام گستاخان رسولﷺ بشمول وقاص گورایہ اور سلمان حیدر وغیرہ اور گستاخانہ پیجز بھینسا و موچی وغیرہ پوری طاقت سے نواز شریف کو سپورٹ کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر مریم نواز کے حوالے سے یہ خبر گردش کرتی رہی ہے کہ وہ گستاخانہ پیجز کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔ مشہور اینکر عامر لیاقت نے اپنے پروگرام میں انکشاف کیا تھا کہ مریم نواز مشہور گستاخانہ پیج ” بھینسا” سے مواد شیر کرتی رہی ہیں۔

نواز شریف پر یہ بھی الزام لگایا جاتا ہے کہ جن دنوں وقاص گوریا، سلمان حیدر اور عاصم سعید نامی گستاخان رسولﷺ کو مبینہ طور پر کسی وفاقی ایجنسی نے پکڑ لیا تھا تو نواز شریف کے براہ راست حکم پر ان کو چھوڑا گیا۔ نہ صرف یہ بلکہ سلمان حیدر نامی ملعون کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ اس کو پولیس کی ایک اعلی شخصیت خود ائرپورٹ تک چھوڑنے گئی تھی۔ اسی طرح راؤلا کوٹ سے تعلق رکھنے والے رفعت عزیز نامی گستاخ کو بھی ن لیگ اور اور اسکی اتحادی اے این پی کی بااثر شخصیات نے چھڑایا اور پاکستان سے باہر بھیجا۔

جیو چینل اور اس کے مشہور اینکر شاہزیب خانزادہ بھینسا پیج سے ہونے والی بکواس کو زور و شور سے آزادی اظہار قرار دیتے رہے۔ آپ جانتے ہی ہونگے کہ جیو چینل نواز شریف کا سب سے بڑا سپورٹر ہے۔

نواز شریف پاکستان کے واحد حکمران ہیں جن کے دور میں سندھ میں قبول اسلام پر پابندی کا بل منظور کیا گیا اور یہ پابندی لگوانے میں سب سے اہم کردار ن لیگ کے ایم این اے ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی نے ادا کیا۔

نواز حکومت نے پاکستانی عدالتوں سے سزائے موت پانے والی آسیہ ملعونہ سمیت کم از کم 40 گستاخان رسول کی سزاوؤں پر عمل درآمد روک رکھا ہے۔
لیکن دوسری طرف مبینہ گستاخ رسولﷺ سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کا تیز رفتار ٹرائل کر کے اس کو فوری طور پر پھانسی پر لٹکا دیا۔ جب علماء کا ایک وفد ممنون حسین کے پاس ممتاز قادری کی پھانسی رکوانے پہنچا تو اس نے کہا کہ ” میرے پاس پھانسیوں کی درجنوں اپیلیں زیرالتواء ہیں لیکن میں کیا کروں مجھے وزیراعظم ھاؤس سے روز کالز آتی ہیں کہ ممتاز قادری کی اپیل جلد مسترد کروں”

نواز شریف کی موجودہ حکومت میں جس تیزی سے اور جتنی بڑی تعداد میں نصاب سے اسلامی مضامین ہٹائے جا رہے ہیں انکی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ یہ بھی خبر آئی ہے کہ آپﷺ کا نام ہٹا کر آپﷺ کی احادیث کو اقوال قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی طرح کئی کتابوں سے سیرت النبیﷺ کے مضامین ہٹانے کی خبریں روز آرہی ہیں۔

۔ 2011 میں اس بدبخت نے کہا تھا کہ ” ہم بھی اسی رب کو پوجتے ہیں جن کو بھارتی پوجتے ہیں ” 

ملالہ اور شرمین عبید چنائے کی پزیرائی دیکھ کر اس نے اپنی بیٹی مریم نواز امریکہ میں متعارف کروائی اور اعلان کیا کہ ” ہم لبرل پاکستان بنائینگے “

نواز شریف نے انتخابی فارمز میں چار مختلف جگہوں پر ایسی تبدیلیاں کیں جس کے بعد قادیانی بھی بطور مسلمان ووٹ دینے اور انتخابی عمل میں شریک ہونے کے قابل ہوگئے۔ اس پر پورے ملک میں ہنگامے ہوئے جس کے آفٹر شاکس آج بھی جوتوں کی شکل میں نظر آرہے ہیں۔

نواز شریف نے میڈیا چیرمین ابصار عالم نامی شخص کو مقرر کیا جو پاکستان میں ہم جنس پرستی کو فروغ دینے والی ایک این جی او چلاتا رہا ہے۔ اس تقرری کے بعد پاکستان میڈیا نے پہلی بار مادزاد ننگے پروگرام پیش کیے۔ تمام تر پاکستانی ڈراموں کو عشق و محبت جیسے بے ہودہ موضوعات تک محدود کر دیا گیا۔

لبرلز کو اہم ترین جگہوں پر تعئنات کیا جارہا ہے۔ عاصمہ جہانگیر اور نجم سیٹھی وغیرہ اسکی چند مثالیں ہیں۔

اس کے باؤجود مردار خور گدھوں سے مشابہ مولانا فضل الرحمن، مولانا ساجد میر اور پیر حمید الدین سیالوی جیسے اسلام کے نام نہاد علمبردار بدستور نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں۔
تاہم کل سہیل وڑائچ نے بی بی سی کو ایک انٹرویو دیا جس کا لب لباب یہ تھا کہ علماء تو قابو آگئے لیکن مدارس کے طلباء کو کنٹرول کرنے میں مشکل پیش آرہی ہے جو کسی بھی وقت کسی نئے ممتاز قادری کو جنم دے سکتی ہے۔

نواز شریف کو یاد رکھنا چاہئے کہ وہ اللہ اور رسولﷺ کے خلاف کبھی یہ جنگ جیت نہیں پائیگا۔ یہ جوتے یقیناً اس کو اللہ کی طرف سے پڑ رہے ہیں۔ نواز شریف کے حامی اور اتحادی بھی ہوش کے ناخن لیں کہ وہ کس کے ساتھ کھڑے ہیں اور کس کے خلاف !

تحریر شاہدخان


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

NO COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here