مجھـــے اس ســـے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میں انڈیا ســـے ٹکراتا ہوں ، یا اسرائیل ســـے یا پھر بدمعاشوں کـــے باپ امریکـــہ ســـے۔ یا پھر ان کـــے دم چھلے خارجیوں ســـے۔

0
90

جب میں گھر ســـے نکلا تو ماں کی آنکھوں کی چمک آنسووں میں چھپ گئی، ، بہن کی اپنـــے بھائی ســـے محبت ہچکیوں میں بدل گئی، بھائی کـــے کاندھے انجانـــے بوجھ میں دب گئـــے، بیوی کی سانسیں سسکیوں میں سمٹ گئیں اور بچـــے؟
بچوں کا کیا بتاوں، جب میں نکلا وہ تو سو رہـــے تھـــے۔ کیونکہ انکا جاگنا میرے قدموں پر انجانـــے شکنجے ســـے کم نہ تھا۔بس ان کو بوسہ دیا اور میں نکل آیا۔اس اسلام کـــے قلعہ کی دیوار کی اینٹ بننـــے کـــے لئـــے، 20 کڑوڑ مسلمانوں کـــے مستقبل اور امن کی بقاء کـــے لئـــے۔ دشمنوں کـــے سامنـــے سینہ تانـــے، آنکھوں میں آنکھیں ڈالـــے ان کـــے منصوبوں کو خاک کرنـــے کـــے لئـــے

مجھـــے اس ســـے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میں انڈیا ســـے ٹکراتا ہوں ، یا اسرائیل ســـے یا پھر بدمعاشوں کـــے باپ امریکـــہ ســـے۔ یا پھر ان کـــے دم چھلے خارجیوں ســـے۔

جو بھی اس لا الـــہ الا اللہ کی دھرتی کی جانب میلی نظر اور گھٹیا عزائم لـــے کر آئـــے گا تو وہ اپنے گھر والوں کو پھر روتا ہوا پائـــے گا۔ یہ میرا حتمی فیصلہ ہے اور اس پر میر خون ہی مہر کرے گا۔ انشـــاء اللہ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here