قیام پاکستان سے قبل ان کے اتحادی گاندھی اور نہرو تھے۔

0
7

کانگریسی ملا ۔۔۔۔۔۔۔

قیام پاکستان سے قبل ان کے اتحادی گاندھی اور نہرو تھے۔

کانگریسی ملاؤؤں اور سرحدی گاندھیوں کا اتحاد قیام پاکستان کے وقت سے ہے اور دونوں ایک دوسرے کو اپنا قدرتی اتحادی قرار دیتے ہیں۔

سرحدی گاندھیوں کے کچھ ارشادات پیش خدمت ہیں۔

خان عبدالغفار خان عرف باچا خان نے ٹائمز آف انڈیا کے نمائندے مسٹر دلیپ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ” چند سال پہلے کا پاکستان اب مر چکا ہے۔ مغربی پاکستان میں چار قومیتوں کے درمیان رشتے کے لیے محض اسلام کافی نہیں رہے گا۔ اس کےلیے سیکولر بنیادوں پر رشتے کی تعمیر کرنی ہوگی۔ ” ( آج یہ مردود زندہ ہوتا تو دیکھ لیتا کہ 70 سال بعد بھی کلمے نے ان چار قومیتوں کو پوری طاقت سے جوڑ رکھا ہے اور پاکستان قائم و دائم ہے

۔ 1969ء میں جب وہ کابل گئے تو انہوں نے وہاں کہا ” میں نے دو قومی نظریہ کبھی تسلیم نہیں کیا نہ ہی ایسا کبھی کرونگا۔ مذہب معیار کس طرح ہو سکتا ہے؟ میں افغانستان کے باشندوں کو بھی کہتا رہا ہوں اور دوسروں کو بھی کہ اسلام دنیا میں انسان کے بعد آیا ہے “

۔سٹیٹمین 16 اکتوبر 1969ء بحوالہ پاکستان ٹائمز 19-3-1973ء

انہی کے صاحبزادے خان عبدلولی خان نے اعلان فرمایا ” دو قومی نظریہ ختم ہو چکا ہے۔ اسلام کی باتیں ڈیڑھ ہزار سال پرانی اور فرسودہ ہیں۔ 25 سال کے تجربے نے ثابت کر دیا کہ نظریہ پاکستان غلط تھا ” ۔۔۔

نوائے وقت 13 اکتوبر 1972ء

پاکستان میں الحاد کے تازہ حملے کی پشت پر زیادہ تر اے این پی کے لوگ ہیں۔ ہمارے کچھ ساتھیوں نے جب راؤلا کوٹ میں رفعت عزیز نامی گستاخ کو گھیرا تو اے این پی ہی اس کو چھڑانے پہنچی۔

اے این پی کے بعد ہمارے ان ہردلعزیز کانگریسی ملاؤوں کی سب سے پرانی اتحادی پیپلز پارٹی رہی ہے جو پاکستان کی سب سے بڑی سیکولر جماعت بھی ہے اور جس نے بھٹو کے دور میں عملاً پاکستان کو مارکسزم کی طرف دھکیلا۔ جس کا تازہ ترین کارنامہ سندھ میں قبول اسلام پر پابندی لگوانا ہے۔

ان کی آخری اتحادی ن لیگ رہی ہے جس نے لبرل پاکستان بنانے کا اعلان کیا تھا۔ ختم نبوت والے قانون میں ترمیم کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب سینٹ میں اس بل کی منظوری کی خلاف چیرمین رضا ربانی واک آؤٹ کر گئے تو ہمارے جے یو آئی کے ڈپٹی چیرمین مولانا عبدالغفور حیدری صاحب نے سیٹ سنبھالی اور ان کی قیادت میں مذکورہ مسودہ سینٹ سے منظور کیا گیا۔

اس وقت یہ کانگریسی ملا ایم ایم اے کی قیادت کر رہے ہیں اور ہمیں تلقین کر رہے ہیں کہ ان لوگوں کا ساتھ ہرگز نہ دیں جن کے ” عقائد ” پر ذرا بھی شک ہو ۔۔۔۔ 🙂

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here