عمران خان اور سیتا وائٹ کی کہانی

0
244

اپریل 1996 میں عمران خان نے اپنی سیاسی جماعت، پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھی جس کے چند ماہ بعد بینظیر حکومت توڑ دی گئی اور نئے انتخابات اناؤنس ہوگئے۔

عمران خان نے الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کیا اور نوازشریف اور بینظیر کو کرپٹ قرار دیتے ہوئے ان کا مقابلہ کرنے کا عزم کیا۔

دسمبر1996 کے آخری ہفتے میں الیکشن کمیشن نے تمام امیدواروں کے کاغذات نامزدگی فائنل کرکے انہیں انتخابی نشانات الاٹ کردیئے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب مغربی ممالک میں کرسمس اور نیو ائیر کے سلسلے میں دو ہفتے کی چھٹیاں ہوتی ہیں۔

چھ جنوری انیس سو ستانوے کو پیر کا دن تھا اور چھٹیاں ختم ہونے کے بعد پہلا ورکنگ ڈے بھی۔ اسی دن سیتا وائٹ نے امریکہ میں لاس اینجلس کی عدالت میں عمران خان کے خلاف مقدمہ دائر کیا جس میں الزام لگایا کہ وہ اس کی چار سالہ بیٹی کا باپ ہے۔ اس مقدمے کی ٹائمنگ کا اندازہ خود ہی لگا لیں کہ جونہی پاکستان میں کاغذات نامزدگی فائنل ہوئے، اس کے فوری بعد امریکی عدالت میں مقدمہ درج کردیا گیا۔

عمران خان تو سال میں کئی ہفتے لندن گزارتا تھا، اس کا سسرال بھی وہیں تھا، سیتا وائٹ بھی بنیادی طور پر برطانوی شہری ہی تھی، پھر یہ مقدمہ امریکہ میں کیوں دائر کیا گیا؟ اگر تو مقصد اپنی بیٹی کو حق دلانا تھا تو بہتر آپشن لندن کی عدالت تھی جہاں عمران خان کو پکڑنا بہت آسان ہوتا۔

سیتا وائٹ کی ہسٹری بہت دلچسپ ہے۔ وہ مصری ارب پتہ دودی الفائد کے ساتھ بھی دیکھی جاچکی تھی جس کا افئیر لیڈی ڈیانا کے ساتھ چلا اور جو ۳۱ اگست 1997 کو لیڈی ڈیانا کے ساتھ کار ایکسیڈینٹ میں مارا گیا۔

سیتا وائٹ کی ذاتی زندگی ہمیشہ سے مشکلات کا شکار رہی۔ اس کے ارب پتی باپ نے اسے لندن اور امریکہ میں گھر لے کر دے دیئے اور اس کے مرنے کے بعد ماہانہ خرچہ تقریباً ۱۱ ہزار ڈالر کے قریب مل جاتا لیکن یہ اس کیلئے ناکافی رہتا۔ سیتا وائٹ نے اپنے سوتیلے بھائی پر مقدمہ بھی کیا جس میں اس سے ماہانہ خرچہ بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران سیتا وائٹ کئی شادیاں کرکے طلاق لے چکی تھی۔ ایک شادی تو عمران خان پر مقدمہ دائر کرنے سے چند ماہ قبل کی اور دوسری شادی اپنی موت سے ۲ سال قبل ۲۰۰۲ میں کی۔

اپنی موت سے قبل آخری چند سال سیتا وائٹ نے بہت مشکل سے گزارے۔ اس کا گھر سیلاب کی وجہ سے تباہ ہو گیا اور اس کے پاس مرمت کے پیسے تک نہ تھے۔ ڈرگز اور ادھار کی وجہ سے وہ پائی پائی کی محتاج ہوگئی۔ پھر اس کے سوتیلے بھائی نے اسے مقدمہ واپس لینے کی شرط پر چند ایک ملین ڈالرز کی رقم ادا کرنے کی حامی بھر لی اور بدلے میں اس کا ماہانہ خرچہ بند کردیا گیا۔ سیتا وائٹ کو یکمشت رقم بہتر آپشن لگی اور اس نے قبول کرلی۔

دوہزارتین میں سیتا وائٹ کے ساتھ امریکہ میں اس کی سوتیلی ماں نے وقت گزارنا شروع کردیا، حالانکہ اس سے قبل سیتا وائٹ کے تعلقات اس سے زیادہ خوشگوار نہیں رہے تھے۔ اس دوران سیتا وائٹ کی مشکلات بڑھتی گئیں، اس کی آخری شادی بھی ختم ہوگئی، اس کے پاس جمع پونجی بھی تیزی سے ختم ہونے لگی۔ پھر ایک دن سیتا وائٹ نے اپنے وکیل کے پاس جا کر اپنی وصیت میں کچھ ترمیم کروائی۔ اس کی والدہ جاننا چاہ رہی تھی کہ اس وصیت میں کیا لکھا ہے لیکن سیتا وائٹ نے کسی کو بھِی اس بارے میں بھنک نہ پڑنے دی۔

اگلے سال یوگا کلاس لینے سے قبل سیتا وائٹ اچانک فرش پر گری اور دوبارہ اٹھ نہ سکی۔ ڈاکٹرز نے اسے ہارٹ اٹیک کہا لیکن کچھ دوستوں کا خیال تھا کہ اسے قتل کیا گیا کیونکہ اس کی ماں کا کردار مشکوک تھا۔ موت کے بعد اس کی بیٹی سیتا وائٹ کو اس کی سوتیلی نانی نے تحویل میں لے لیا لیکن جب سیتا وائٹ کی وصیت کھولی گئی تو اس میں لکھا تھا کہ اسے لگ رہا ہے کہ جلد ہی اسے اس دنیا سے جانا پڑے گا، اور اس کے بعد اس کی بیٹی کی زندگی تباہ ہوسکتی ہے۔ وہ اپنی بیٹی کی بہتر زندگی کیلئے صرف ایک شخص پر بھروسا کرسکتی ہے اور وہ ہے ۔ ۔ ۔ ۔ جمائما خان۔ جی ہاں، عمران خان کی سابقہ بیوی۔ سیتا وائٹ نے اپنے اکاؤنٹ میں گیارہ لاکھ ڈالرز اپنی بیٹی کیلئے بچا کر رکھے تھے، وہ بھی جمائما خان کو دینے کی تلقین کرگئی۔

وصیت سامنے آنے کے بعد جمائما خان کو جب پتہ چلا تو اس نے عمران خان سے بات کی۔ عمران خان سیتا وائٹ کے حالات زندگی سے واقف رہا تھا اور وہ اس کی بیٹی کے لئے فکرمند بھی تھا۔ اس نے جمائما سے کہا کہ وہ اس وصیت کو قبول کرتے ہوئے سیتا وائٹ کی ذمے داری اٹھا لے۔ جمائما فطرتاً ایک رحمدل عورت ہے، اس نے ٹیریان کو اپنی سرپرستی میں لے لیا اور ایسے پالا کہ جیسے اس کی سگی بیٹی ہو۔

اب آجائیں لاس اینجلس کی عدالت کے ۱۹۹۷ کے فیصلے پر۔

جب سیتا وائٹ نے عمران خان پر مقدمہ کیا اور اسے امریکہ آنے کیلئے نوٹس بھجوایا تو عمران خان وہاں جانے کیلئے تیار ہوگیا۔ لیکن چونکہ یہ الیکشن کا وقت تھا، اس لئے اس نے مہلت مانگ لی۔ اس دوران نوازشریف نے عمران خان کے خلاف غلیظ پراپیگنڈہ شروع کروا دیا۔ مارچ ۱۹۹۷ میں عمران خان کو اپنے ایک مشترکہ دوست کے ذریعے پیغام ملا کہ اگر وہ امریکہ میں یہ مقدمہ لڑنے گیا تو وہاں اس پر حملہ کروا کر قتل کردیا جائے گا۔ خبر پکی تھی، عمران خان نے امریکہ جانے سے انکار کردیا لیکن اس نے جوابی سٹیٹمنٹ میں کہا کہ اگر سیتا وائٹ پاکستان آ کر مقدمہ درج کرنا چاہے تو وہ نہ صرف پیروی بھی کرے گا بلکہ بلڈ ٹیسٹ کے ذریعے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کو بھی تیار ہوگا۔

سیتا وائٹ نے یہ پیشکش مسترد کردی، حالانکہ اگر وہ سچی ہوتی تو اس سے اچھا موقع اور کیا ہوتا کہ وہ پاکستان آکر مقدمہ کرتی اور عمران خان کو بچی کا باپ ثابت کردیتی۔

اس کے چار ماہ بعد اگست 1997 میں دودی الفائد کو پیرس میں قتل کروا دیا گیا جس سے عمران خان کے شک کو مزید تقویت مل گئی۔

بادی النظر میں ایسا محسوس ہوتا تھا اور آج بھی اس بات کا قوی امکان نظر آتا ہے کہ سیتا وائٹ کو عمران خان کے مخالفین نے استعمال کیا، ان کا مقصد اگر بچی کو حق دلانا ہوتا تو لندن میں مقدمہ درج کرواتے، یا پھر عمران خان کی پیشکش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان میں مقدمہ کرتے، لیکن انہوں نے امریکہ کو جان بوجھ کر منتخب کیا اور ساتھ عمران خان کو موت کی دھمکی بھی پہنچا دی۔ اب اگر وہ امریکہ نہ جاتا تو غیرحاضری کی بنا پر سیتا وائٹ کے حق میں فیصلہ ہوجاتا، جو کہ ایسا ہی ہوا۔ اگر چلا جاتا تو اسے مروا دیا جاتا اور الزام ایک نشئی اور بروکن عورت پر آتا۔

پچھلے ہفتے افتخار چوہدری نامی کرپٹ جج نے عمران خان کے خلاف ٹیریان وائٹ کا مقدمہ پاکستان میں درج کروانے کا اعلان کیا ہے۔ اس جاہل شخص کو اگر قانون کی الف ب کا بھی پتہ ہوتا تو یہ جان سکتا تھا کہ اس مقدمے میں کوئی جان نہیں، لیکن چونکہ اس کا مقصد بھی ٹیریان کو حق دلانے سے زیادہ عمران خان کو گندہ کرنا ہے، اس لئے یہ کانا دجال عین الیکشن کے وقت یہ شوشا سامنے لے کر آگیا ہے۔

جس طرح عمران خان کے مخالفین آج سے پہلے خوار ہوئے، اسی طرح یہ دجال بھی ذلیل و خوار ہوگا، آزمائش شرط ہے!!! بقلم خود باباکوڈا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here