عدالتوں سے انصاف سرزد نہ ہوسکا

0
20

اور عدالتوں سے انصاف سرزد نہ ہوسکا ۔۔۔۔۔۔۔ 

دو سال پہلے جن اندیشوں کا اظہار کیا تھا من و عن وہی ہو رہا ہے 

نواز شریف نااہل لیکن محفوظ اور آزاد
حسن نواز و حسین نواز اشتہاری لیکن برطانوی شہری ہونے کی بنا پر محفوظ
اور مریم نواز کے کاغذات نامزدگی پر لگائے گئے تمام اعتراضات مسترد اور موصوفہ لاہور سے انتخاب لڑ رہی ہیں۔

سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے ثابت شدہ جعلی کاغذاب اور میڈیا کے سامنے بولا گیا جھوٹ بھی مریم نواز کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔

نواز شریف کو درحقیقت کیا نقصان پہنچا؟
وہ آج بھی انہی فلیٹس میں اپنے پورے خاندان کے ساتھ عیدیں منا رہا ہے جن کی ملکیت سے یہ سارا خاندان انکاری رہا۔
اپنے پلان کے عین مطابق خود ریٹائرمنٹ لے کر اپنی بیٹی کو لے آیا ہے۔

چند دن پہلے الطاف لطفی صاحب نے بہت اچھا سوال اٹھایا کہ کیا عدالت نے لندن حکومت اور لندن اسپتال سے کلثوم نواز کی بیماری، ہسپتال میں داخلے اور موجودہ کنڈیشن سے متعلق رپورٹیں مانگی بھی ہیں یا محض مریم نواز کی ٹویٹس دیکھ کر ہی فیصلے کر رہی ہیں ؟؟؟

آہ ۔۔۔ عدالتی انصاف کے ڈنکے چار سو بج رہے ہیں لیکن انصاف ہوتا ہوا کہیں نظر نہیں آرہا۔

ان دس سالوں میں ۔۔۔۔

رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والی ایان علی رہا کر دی گئیں
سینکڑوں ارب کی کرپشن کا اعتراف کرنے والے ڈاکٹر عاصم کو رہا کر دیا گیا
عدالت میں منی لانڈرنگ کرنے کا اعترافی حلف نامہ جمع کرانے والا اسحاق ڈآر رہا کر دیا گیا
حدیبیہ پیپرز مل والا معاملہ دبا دیا گیا
ماڈل ٹاؤن میں عورتوں کے منہ پر گولیاں مارنے والوں کو نہیں پکڑا گیا
کوئٹہ میں پولیس والے کو اپنی گاڑی سے اڑا دینے والے مجید اچکزئی کو رہا کر دیا گیا
ممتاز قادری کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا لیکن آسیہ ملعونہ سمیت اب تک گرفتار شدہ چالیس کے قریب گستاخان رسول زندہ ہیں
سپریم کورٹ دہشت گردوں کو سزائیں دینے میں سب سے بڑی رکاؤٹ بنی رہی
دہشت گردوں کو سزائیں دینے کے بجائے ان کو مسنگ پرسنز کا خطاب دے کر ان کے لیے پاکستان اور دنیا بھر میں ہمدردیان سمیٹی گئیں اور الٹا ان سے جنگ کرنے والی پاک فوج کو بدنام کیا گیا
سکھر کے جج صاحبان نے آئی ایس آئی کے ہیڈ کواٹر پر حملے سے ایک دن پہلے بلاجواز تمام حفاظتی بیرئیر ہٹانے کا حکم دے دیا جس کے اگلے ہی دن وہاں حملہ ہوگیا جس میں آئی ایس آئی کے کئی اہلکار شہید ہوگئے
قصور میں سینکڑوں اور پاکستان بھر میں ہزاروں بچوں کے ساتھ منظم زیادتی کے واقعات والا معاملہ دبا دیا گیا
شاہد مسعود پر البتہ پابندی لگا دی گئی
خواجہ آصف ناہلی کے بعد دوبارہ اہل قرار پائے
سرعام پاکستان کو گالیاں دی جاتی ہیں اور آئے دن پاکستان توڑنے کے اعلانات کیے جاتے ہیں لیکن ان ججوں کے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگتی

نہ دہشت گردوں سزائیں دے سکے
نہ کسی غدار کو لٹکا سکے
نہ کسی کرپشن کرنے والے کو پکڑا
نہ ہی کوئی مال مسروقہ وصول کر سکے
سو سو سال بعد کیسوں کے فیصلے ہو رہے ہیں

ججوں، وکلاء اور ان کے معاؤنین پر مشتمل عدلیہ نامی لاکھوں لوگوں کا یہ بےہنگم وجود عوام کی گردنوں پر سوار خون چوسنے والی جھونک ہے جو کوئی کام نہیں کر رہی!

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here