سرے محل کی کہانی حجاب رندھاوا کی زبانی

0
34

پاکستان ایک ترقی پزیر ملک جو کہ بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے
اس ملک کے دیہی علاقوں میں غربت کی شرح 54.6 فیصد ہے
پاکستان کے قبائلی علاقہ جات یا فاٹا میں 73 فیصد
اور بلوچستان میں 71 فیصد افراد غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں
خیبر پختونخواہ میں 49 فیصد، گلگت بلتستان اور سندھ میں 43 فیصد
پنجاب میں 31 فیصد اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 25 فیصد افراد غربت کا شکار ہیں۔
لاہور، اسلام آباد اور کراچی میں 10 فیصد سے کم افراد غربت کا شکار ہیں اور اس کے برعکس بلوچستان کے قلعہ عبداللہ، ہرنائی اور برکھان میں 90 فیصد آبادی غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں

لیکن اسی پاکستان میں ایسے جادوگر بھی موجود ہیں جو کہ
ککھ پتی تھے لیکن اقتدار میں آتے ہی ارب پتی ہو گئے
ان میں دو اشخاص قابل زکر ہے ایک تو جناب نواز شریف اور ایک مسٹر زرداری
اج میں مسٹر زرداری کی صرف ایک جائیداد کا زکر کروں گی یعنی زرداری کی دیگ میں سے صرف ایک چاول اپ کو دکھاؤں گی باقی دیگ کیسی ہو گی اس کا اندازہ اپ کو بخوبی ہو جائے گا
اب یہاں ایک پوائنٹ ذہن نشین کر کے چلیے گا کہ

۔ 1990 کے انتخابات میں بےنظیر بھٹو اور آصف زرداری نے 4 لاکھ 2 ہزار ڈالر کے اثاثے ظاہر کیے اور یہ ایک حکومت نبھٹانے کے بعد کے اثاثے تھے
دوسری دور حکومت میں بےنظیر بھٹو کے پاس وزارت اعظمی کے علاوہ وزارت خزانہ کا قلمدان بھی تھا جس کی وجہ سے انھیں کسی معاملے میں کوئی روک ٹوک کرنے والا نہیں تھا جبکہ ان کا شریک سفر جمہوریت کے محفوظ گھوڑے پر سوار ہو کر پاکستان کے خزانے پہ اژدھا بن گیا کیونکہ جمہوریت ہی وہ شیلٹر ہے جو ہر قذاق کو لوٹتے وقت بھرپور تحفظ اور پروٹوکول دیتی ہے کہنے کو تو آصف زرداری کسی بھی مالی اختیار سے محروم تھے اور اپنی اہلیہ کو جواب دہ تھے

لیکن واقفان حال کہتے ہیں کہ بےنظیر جان بوجھ کر زرداری کی ملکی خزانے پر عیاشیوں اور ہر سودے میں 10 پرسنٹ کھانے پہ آنکھیں چراتی تھی وہ آصف زرداری کے سامنے بے بس نا تھیں بلکہ خود ایسی سرگرمیوں میں ملوث تھیں جس سے لامحدود پیسہ کمایا جا سکے

آصف زرداری جب وزیر سرمایہ کاری بنے تو
تب بھی وہ بے نظیر کی نظروں کے سامنے سودے طے کرتے اور کہیں جواب دہ نہیں تھے
اس عیاش جوڑے نے اسلام آباد کی ایک پہاڑی پر 110 ایکڑ پر محیط 5 کروڑ ڈالر مالیتی نئے عالیشان وزیراعظم ہاوس منتقل ہوتے ہی قریبی پہاڑی سے جنگلات کاٹ کر 15 ایکڑ زمین کو ہموار کرنے کا حکم دیا
تاکہ وہاں پولو کا میدان، ورزش کرنے کا ٹریک، 40 گھوڑوں کا اصطبل، سائیسوں کے لیے رہائشی کوارٹر اور تماشیوں کے لیے پارکنگ ایریا بنایا جا سکے جب اس منصوبے کے لیے پارکوں اور دیگر تفریحات کے بجٹ کی مد میں سنئر حکومتی افسر محمد مہدی نے 13 لاکھ ڈالر کی خطیر رقم دینے سے انکار کیا تو آصف زرداری نے یہ کہتے ہوئے کہ مجھے اپنے احکامات پر کسی اتھارٹی کی طرف سے انکار پسند نہیں محمد مہدی کو برطرف کر دیا

آصف زرداری اپنے سکول کے زمانے کے دوست کو حکومت میں لے کر آئے اور اس کی مدد سے سرکاری پروگراموں میں سے رقم خرد برد کرنے کے مواقع تلاش کرنے لگے
آصف زرداری نے اپنی کاروباری سرگرمیوں کے زریعے دفاعی معاہدوں، توانائی کے منصوبوں، نشریاتی لائسنسوں کے اجراء چاول کی برامدی اجارہ داری کی اجازت دینے پی ائی اے کے طیاروں کی خریداری، ٹیکسٹائل کے برآمدی کوٹہ، تیل اور گیس کے پرمٹ، شوگر ملوں کی منظوری اور سرکاری زمین کی فروخت جیسے معاملات سے غیرملکی سودوں کی نسبت کہیں ذیادہ رقوم ہڑپ کی
اپنے پہلے دور حکومت میں بے نظیر بھٹو نے اپنے سسر حاکم علی زرداری کو حکومتی سودوں کی نگرانی کرنے والے کمیشن کا سربراہ بنایا حاکم علی زرداری نے اسی عہدے پر رہتے ہوئے صرف ایک سال میں لندن کے ایک بینک میں خفیہ طور پر 40 ملین پاؤنڈ جمع کرائے برطانوی حکومت کو شبہ تھا کہ یہ رقم منشیات کے دھندے سے کمائی گئ ہے لیکن تحقیقات کے بعد معلوم ہوا کہ مسٹر حاکم علی زرداری نے یہ رقم حکومتی سودوں میں کمیشن سے کمائی ہے

اس پریمی جوڑے نے سینکڑوں سودوں میں اپنے کردار کے متعلق دستاویزی ریکارڈ کی تیاری یا ان میں اپنا نام آنے سے روکنے کے لیے خاصی محنت کی
سندھ میں کروڑوں کے کمرشل پلاٹس پر ہاتھ صاف کرنے کے بعد پاکستان اسٹیل ملز میں عثمان فاروقی کی مدد سے جعلی سودوں کی آڑ میں اربوں روپے دبئی کے بنک میں منتقل کیے

اسی طرح ایک غیرشفاف سودے نے زرداری کو مزید ترقی سے سرفراز کیا جب مملکت کے تحت چلنے والی رائس ایکسپورٹ کارپوریشن آف جنرل نے 5 لاکھ ٹن چاول جو اس وقت کل ملکی پیداوار کا نصف تھا کراچی سے تعلق رکھنے والے تاجر ریاض لالہ جی کے زریعے فروخت کرنے کا پروگرام بنایا جسے اس سے پہلے اسی کارپوریشن کی جانب سے بلیک لسٹ قرار دیا گیا آر ای سی پی نے نا تو ٹینڈر طلب کیا اور نا ہی عوام کو ہوا لگنے دی اور زرداری کے فرنٹ مین تاجر ریاض کو 5 لاکھ ٹن چاول 218 امریکی ڈالر کے عوض فروخت کر دیے جس کو عالمی منڈی میں دُگنے ریٹ پر زرداری اینڈ کمپنی نے سیل کر کے اربوں کمائے
لیکن تمام کرپشن کے ریکارڈ اس وقت ٹوٹ گئے اور سرے محل کی تیاری اس وقت انجام پائی جب بے نظیر حکومت نے ایک فرانسیسی کمپنی سے 950 ملین ڈالر کے عوض تین آگوسٹانائن بی آبدوزوں کا سودا کیا. عوام اور اپوزیشن کے پرزور مطالبے پر بھی بے نظیر حکومت نے اسے پارلیمنٹ میں بحث کے لیے پیش نا کیا ان تین آبدوزوں کے لیے پاکستان جو کہ دنیا بھر میں غریب ممالک کی فہرست میں 128 نمبر پر تھا اس نے اس فرانسیسی کمپنی کے ساتھ چھ 6 ارب روپے کا معاہدہ کر لیا

سمجھوتے پر دستخط کرنے کی جلدی میں بے نظیر بھٹو نے ممتاز ماہرین اقتصادیات کی اس تجویز کو بھی پس پشت ڈال دیا کہ اس رقم سے ایک لاکھ بیس ہزار اساتذہ کو روزگار 40 لاکھ بچوں کو تعلیم اور ہزار بستروں والے سو ہسپتال بن سکتے ہیں اس معاہدے کے بعد پاکستان کے حکمران جوڑے کی جانب سے فرانس میں جائیداد کی خریداری کی خبریں عالمی میڈیا کا حصہ بنی
سوئٹزرلینڈ کی کمپنیوں ایس جی ایس اور کوٹیکنا سے 350 کروڑ ڈالر کے معاہدے کے بعد
بے نظیر بھٹو اور زرداری کے اثاثے 98 ارب تک پہنچ گئے اب زرا پھر سے 1990 کے انتخابی گوشواروں میں اس پریمی جوڑے کے اثاثے یاد کیجیے
پاکستان کے خزانے کے اژدھے نے کچھ ہی عرصے میں سینما کی ٹکٹس سے 98 ارب تک کا سفر طے کر لیا اور گوروں کی زمین پر اپنا جھنڈا گاڑنے جا پہنچا

اکتوبر 1995 ء میں آصف زرداری نے وسیع و عریض راک ووڈ جائیداد کے نئے مالک کی حثیت سے انگلینڈ کے نسبتاً خاموش گاؤں بروک میں قدم رکھا تو سب سے پہلے گاؤں کے دی ڈاگ اینڈ فیزنیٹ نامی پب کی یاترا کی اور جاتے ہی اس کے مالک سے اس کی خریداری کی بات کی بحوالہ سنڈے ٹائمز اکتوبر 1995

آصف زرداری اس وقت شاہانہ موڈ میں تھے ابھی ان کے وکلاء ان کی سرے کاؤنٹی کے نواح میں واقع اس 1355 ایکڑ پر پھیلی 40 لاکھ ڈالر مالیتی جائیداد کی خریداری کے کاغذات مکمل کر رہے تھے کہ انھوں نے 1930 ء میں بنے ہوئے راک ووڈ میں پسند آ جانے والے عظیم الشان محل کی تزئین نو کا حکم دے دیا اس محل کی تزین نو پر 15 لاکھ ڈالر کے اخراجات ہوئے علاوہ ازیں انھوں نے گھوڑوں کی افزائش اور دیکھ بھال کے لیے ماہر برطانوی کو ہدایات دی تاکہ وہاں اعلی نسل کے گھوڑوں کی افزائش اور پولو کے شوق کی تسکین ہو سکے آصف زرداری کو یہ پب اتنا پسند آیا کہ جب گاؤں کے لوگوں نے بتایا کہ یہ پب قابل فروخت نہیں تو انھوں نے راک ووڈ کے تہہ خانوں میں اس طرح کا بار بنانے کا حکم دیا.
دنیا بھر سے اس بار کے لیے اعلی قسم کی پرانی شراب منگوائی گئ

(یاد رہے کہ جو زرداری جیل میں گزارے گئے ماہ و سال گنواتا ہے وہاں بھی اس کو شراب اور اداکارہ نور کی شکل میں شباب میسر رہا جس کی عمر اس وقت 18 برس تھی)
9 خواب گاہوں پر مشتمل 30 ووڈن کمروں والے راک ووڈ محل میں ایک ان ڈور سوئمنگ پول اور 15 ایکڑ باغات ہیں جبکہ ہانگ کانگ کے ایک انتہائی دولت مند تاجر سے خریدداری کے بعد آصف علی زرداری نے یہاں ہیلی کاپٹر کے لیے پیڈ بنانے کا حکم دیا
اس محل کی چھت بم پروف ہے
برطانوی تفتیش کاروں کے مطابق بھٹو خاندان کی تقریباً ایک درجن غیرملکی جائیدادوں کی طرح نئے مالکان کی شناخت خفیہ رکھنے کے لیے نہایت محتاط اقدامات کئے گئے

اسٹیٹ کی اندازاً قیمت یا ’گائیڈ پرائس‘ ایک کروڑ پاؤنڈ ہے
راک ووڈ جائیداد کے ریکارڈ کی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ تین حصوں کے اس محل جو کہ ملحقہ باغات اور 104 ایکڑ پر بنے ہوئے فارمز کے علاوہ 220 ایکڑ پر پھیلی چراگاہ پر مشتمل ہے یہ محل آئرش سمندر میں ٹیکس سے مستثنیٰ
ایک برطانوی جزیرے “آئل آف مین” کی تین غیرملکی کمپنیوں کے زریعے خریدہ گیا اس تمام خریداری میں ایک نسبتاً غیر معروف برطانوی وکیل رچرڈ ہاورڈ نے اہم کردار ادا کیا اس کا برطانیہ میں بھٹو خاندان اور ان کے قریبی لوگوں کے کاروباری مفادات سے گہرا تعلق رہا ہے

جب برطانوی اخبار “دی سنڈے ایکسپریس “نے یہ رپورٹ شائع کی کہ جون 1996 میں بے نظیر اور زرداری نے یہ جائیداد خریدی
تو اس پریمی جوڑے نے اپنے بیانات میں راک ووڈ سے لاعلمی کا اظہار کر دیا جبکہ بے نظیر بھٹو نے بیان دیا کہ وہ کبھی سرے گئے ہی نہیں زرداری نے اپنے بیان میں ظالمانہ سماجی ناہمواری کی رنگ امیزی کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات میں جبکہ بیشتر پاکستانیوں کو چھت نصیب نہیں وہ انگلینڈ میں محل خریدنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے
آصف زرداری کی طرف سے راک ووڈ جائیداد کی دستاویزات پر سے اپنی ملکیت کی شناخت کے متعلق محتاط رہنے کے پیش نظر محل کی تزئین آرآئش کے لیے کیے گئے اقدامات تحقیق کی دعوت دیتے ہیں

لاہور میں نادر ونایاب فرنیچر تیار کرنے میں فرنیچر تیار کرنے میں شہرت کی حامل ایک خاتون سروش یعقوب نے تحقیقاتی اداروں کو بتایا کہ اس نے راک ووڈ کے لیے فرنیچر کے 83 آئٹم تیار کئے جنہیں مئی 1996ء میں گیارہ بڑے کریٹس میں بند کر کے بزریعہ بحری جہاز لندن میں پاکستانی سفارتی مشن کو بھجوا دیا گیا سورش یعقوب نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ فرنیچر آصف علی زرداری کی ہدایت پر میں نے بنوایا اور اس نے مجھے رازداری کی ہدایت کی اپریل 1996ء میں بے نظیر کی کراچی رہائش گاہ بلاول ہاؤس سے آٹھ کریٹ راک ووڈ بھجوائے گئے جن میں نادر اسلحہ، تلواریں، قالین، اور پینٹنگز شانل تھیں سعوش یعقوب کے مطابق لندن سے آنے والے سو ماہرین نے اسے بتایا کہ زرداری نے راک ووڈ کی آرائش کے لیے 10 لاکھ پاؤنڈ کا بجٹ مختص کیا جن میں اٹلی سے کرسٹل کی ڈائننگ ٹیبل کی خریداری بھی شامل ہے
ایک برطانوی رپورٹر جس نے 1996 میں راک ووڈ کے اندرونی حصے کا دورہ کیا اس نے وہاں بے نظیر زرداری اور تینوں بچوں کے ایک ساتھ فوٹو البم لگے دیکھے

جبکہ بے نظیر نے سنڈے ایکسپریس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا میں اس محل کے بارے میں نہیں جانتی شائد یہ کسی اور عورت کے لیے زرداری نے خریدا ہو دراصل یہ بیان تحقیقاتی اداروں کو چکما دینے کے لیے تھا اگر سرے محل زرداری نے کسی اور کے لیے خریدا تھا تو محترمہ آپ کی تصاویر وہاں اس کا دل جلانے کے لیے لگائی تھیں
تاہم 2004ء میں جب جنرل مشرف کے قوانین کے تحت آصف علی زرداری پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ سرے محل کی ملکیت کو قبول کریں تو انہوں نے ایک برطانوی جوڑے Giles & varessa swarbreck کو سرے محل کے کاغذات منتقل کر دیئے ،
جنہوں نے ایک اخبار کو بتایا کہ سرے محل میں اب بھی بھٹو خاندان کا پسندیدہ فرنیچر موجود ہے ۔ مذکورہ جوڑے نے یہ بھی بتایا کہ آصف علی زرداری کے دوست ہونے کے ناطے انہوں نے آصف زرداری کو سرے محل اسکینڈل سے نکالنے کیلئے ان کی مدد کی اور پراپرٹی کی دیکھ بھال کیلئے کاغذات تیار کروائے
جس کے بعد اس سرے محل کے بظاہر مالک ہم قرار پائے لیکن آصف علی زرداری لاہور کے شاہی قلعے سے 10 گنا بڑے اس محل کو کسی صورت بھی اپنے سے الگ نہیں ہونے دیتے
وہ جب بھی لندن آتے ہیں محل کے 9 ہول گالف گراؤنڈ میں ضرور کھیلتے ہیں، وہ پاکستان سے اپنے ساتھ خاص نسل کے پرندے ، جانور، گھوڑے، قالین اور نادر رائفلیں لے کر آتے ہیں۔ انہوں نے ایک انڈر گراؤنڈ بیسمنٹ تیار کروائی ہے جہاں انہوں نے حنوط شدہ ٹائیگرز اور دوسرے حنوط شدہ پرندے اور جانور بھی محفوظ کئے ہیں۔ آصف علی زرداری یہاں آکر ایک ” انگلش Aristo crat“ کی زندگی گزارنے کے خواہش مند ہیں۔ وہاں کے مقامی رپوٹر کے مطابق
بینظیر بھٹو کا 9ملین ڈالر کا سرے محل ایک ایسا خفیہ مقام ہے جہاں کوئی بھی جوڑا ایک رات کے 450 ڈالر دے کر جنسی تقریبات منعقد کر سکتا ہے۔ یہاں عریاں جوڑے ٹینس بھی کھیل سکتے ہیں اور ایک قید خانہ بھی یہاں موجود ہے۔
۔4 سال پہلے زرداری نے سرے محل میں دلچسپی ختم ہونے پر اس کو دوسری پارٹی کے زریعے نیلامی کے لیے پیش بھی کیا لیکن کچھ پیش رفت نہیں ہوئی
زرداری کے اسی طرز پر دبئی اور سوئٹزرلینڈ اور فرانس میں بھی محلات ہیں
پیپلز پارٹی کی اربوں روپے کی کرپشن کے سامنے سرے محل کی حیثیت نمک کے برابر بھی نہ تھی۔ لیکن سرے محل اسکینڈل پیپلز پارٹی کے ”گوڈوں گِٹوں “ میں بیٹھ گیا۔ شہید ہونے سے پہلے تک بھی بےنظیر بھٹو سرے محل، کوٹیکنا کیس اور سوئس کیس کے Baggageکو اپنے سے الگ نہ کرسکیں زرداری کو 22 ہزار دستاویزتی ثبوت ہونے کے باوجود
پولو گراؤنڈ کرپشن ریفرنس، اے آر وائی گولڈ اور ارسس ٹریکٹر میں احتساب عدالت نے بری کر دیا ریاست کرپشن کی وجہ سے خالی خزانے کے ساتھ زبوں حالی کا شکار ہے جبکہ احتساب اور عدلیہ میں عدل کے خلا سے آج زردار اور نواز آزاد ہیں۔

تحریر و تحقیق حجاب رندھاوا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here