زرداری کی آگسٹا آبدوزوں کی خریداری میں کی گئی کرپشن

0
483

1994 میں ملیحہ لودھی کا بھائی عامر لودھی بھٹو فیملی کے فرنٹ مین کے طور پر کام کرتا تھا اسی وجہ سے ملیحہ لودھی کو 1994 میں بے نظیر بھٹو نے امریکہ کے لیے پاکستان کا سفیر تعینات کیا.

جون 2010 میں عامر لودھی کے گھر فرنچ پولیس نے ریڈ کیا جس نے پاکستان کے ساتھ کیے گئے 6 ارب کے اگسٹا آبدوزوں کے کنٹریکٹ اور کمیشن کا ریکارڈ حاصل کیا، جس کا مطابق آصف علی زرداری نے اپنے فرنٹ مین کے زریعے Pasche bank اور The bank of Piguet et Cie Switzerland میں آفشور کمپنیز کے کاؤنٹس اوپن کر کے  آبدوزوں کے سودے کا کمیشن حاصل کیا گیا بعد میں اس رقم کو

The Banque française du Commerce extérieur

[French bank of Foreign Trade]

Account number 2700 0008358 or IV10000083580

میں ٹرانسفر کیا گیا عامر لودھی نے آبدوزوں کے سودے میں 6,934,296 یورو اکتوبر اور دسمبر 1994 میں حاصل کیے جو کہ مختلف بنکس میں مندرجہ زیل آفشور کمپنیز کے اکاونٹ میں ریسیو کیے

Marleton Business Inc

Marvil Associated Inc

Mariston Securities Inc

Penbury Finance

Oxton Trading

Crimities Holding &

Dustan Trading

پہلی پیمنٹ اکتوبر 1994 میں کی گئی جو کہ 5.5 ملین فرینکس تھی جس میں سے 70 پرسنٹ آصف علی زرداری اور 30 پرسنٹ عامر لودھی کو ملے، دوسری پیمنٹ دسمبر 1994 میں 59.48 ملین فرینکس کی تھی، جس میں سے 41.636 ملین فرینکس زرداری کو اور 17.844 ملین ملیحہ لودھی کے بھائی عامر لودھی کو ملے۔

سوفما ( SOFMA ) کے ڈائریکٹر ہینری گیوٹیٹ جو کہ DCN کے سب میرین ڈیزائنر اور بلڈرز کے پارٹنر بھی ہیں ان کے مطابق آصف علی زرداری نے کنٹریکٹ میں ٹوٹل کا 4% حاصل کیا جو کہ 33 ملین یورو بنتے ہیں، اس کیس کے پس منظر سے آپ واقف ہی ہونگے کے اس آگسٹا آبدوز کے معاملے میں فرانس کے وزیر اعظم ایڈورڈ بلادور سابق صدر فرانس نکولس سرکوزی اور پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کے اس سودے میں فرنٹ مین عامر لودھی ملوث تھے۔

فرانس میں 1994 میں بلادئیر حکومت تھی اور وہ وزیر اعظم تھے ۔ اس وقت فرانسیسی 1995ء کے صدارتی انتخابات سے پہلے پہلے متعدد کنٹریکٹ کو حاصل کرنے لئے دیوانے ہوچلے تھے، بلادیر کو شراک کے خلاف الیکشن مہم کے لیے کئی ملین یورو کی ضرورت تھی ، مسٹر سراکوزی اس وقت بلادئیر حکومت میں بجٹ وزیر تھے، فرانسیسی سوچ رہے تھے کہ ایسا کیا کیا جائے کہ اتنی رقم مل جائے۔

چھوٹے سمندری جنگی جہازوں کی تیاری کے لئے فرانس کی ایک سرکاری کمپنی ہے جس کا نام ”ڈائرکشنل کنسٹکرشن نیول انٹر نیشنل ،(DCNI)“ ہے چونکہ یہ ایک سرکاری جہاز سازی کی کمپنی تھی لہذا یہ کمپنی براہ راست کسی کو کمیشن نہیں دے سکتی تھی، چنانچہ تائیوان کو فروخت کرنے کے لئے ایک اس کمپنی کی جانب سے ایک بیچ کا آدمی تلاش کیا گیا ، اور اس بیچ کے آدمی کا نام زید ٹیکی ڈین تھا جو فرانسیسی لبنانی تھا۔

اس کنٹریکٹ کا تخمینہ تقریباً 840 ملین یورو تھا۔یہ کام اس وقت کے فرانس میں وزیر دفاع فراکوائس نے انجام دیا، اس سودے میں کہیں بھی پہلے پاکستان کا نام نہیں تھا چونکہ یہ لبنانی عالمی کمیشن خوروں کے گروہ کو جانتا تھا اسی بیچ کے لبنانی بندے نے زرداری سے رابطہ کیا اور بھاری کمیشن کے عوض فرانس سے 3 آگسٹا آبدوزوں کی خریداری کی بات کی. جو لوگ کہتے ہیں کہ زرداری کی کرپشن میں بے نظیر شامل نہیں تھی یہ کیس ان کے لیے مثال ہے۔

بے نظیر حکومت جب چھ ارب روپے سے آگسٹا آبدوزوں کا سودہ کرنے جا رہی تھی تب پاک بحریہ کے چیف نے ان کیمرہ بریفنگ میں سینیٹ کو بتایا کہ حکومت فرانس سے آبدوزیں خریدنا چاہتی ہے جبکہ یہ ٹیکنالوجی پاکستان کے پاس پہلے ہی سے ہے لیکن ان کی ایک نا چلی اور بے نظیر حکومت نے یہ سودا طے کر دیا اس میں بحریہ کے ایڈ مرل منصورالحق کا نام بھی اتا ہے جنھیں کرپشن کی بنا پر ان کے عہدے سے 1997 میں رئٹائرڈ کر دیا گیا جس کے بعد وہ امریکہ چلے گئے لیکن جنرل مشرف کے دور میں احتساب عمل کے تحت انھیں 2001 میں گرفتار کر کے پاکستان لایا گیا 2004 میں انھیں عدالت سے سات سال قید ہوئی ان پر حکومت کو ایک ارب پچاسی کروڑ روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام تھا ۔ جس میں سے انھوں نے 45 کروڑ 75 لاکھ ادا کر دئیے۔

لیکن چونکہ آصف علی زرداری نے تمام کک بیکس اپنے فرنٹ مین کے زریعے بنائی گئی آفشور کمپنیز کے اکاؤنٹس کے زریعے حاصل کیے تھے اور ان آفشور کمپنیز تک پاکستان پہنچ نا پایا دوسرا وہ پاکستان کے لیڈر بھی تھے لہذا وہ ہر طرح محفوظ رہے، فرانس میں عامر لودھی کے گھر چھاپے کے دوران فرانس کے اداروں کو آصف علی زرداری کے خلاف تمام ثبوت مل گئے اس کیس میں۔

کرپشن کا الزام ثابت ہونے پر فرانس کے سابق صدر نکولا سرکوزی سمیت 6 افراد کو حراست میں لے لیا گیا، اس کیس کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا، 2002 میں شیرٹن ہوٹل کے سامنے کراچی میں ڈائیرکٹوریٹ آف نیول کنسٹرکشن (DCNکے 23ملازمین کی بس میں دھماکا ہوا جس میں 15 افراد ہلاک ہوئے انمیں 11 فرانسیسی بھی شامل تھے جو پاکستان میں آبدوزوں کی تیاری میں مصرف تھے۔

پاکستان نے القاعدہ کے مبینہ ملوث ہونے کا امکان ظاہر کرتے ہوئے فوری تحقیقات کااعلان کیا ۔ سات سال تک اس واقعے کو القاعد اور عسکریت پسندوں سے جوڑا گیا۔ تاہم 2009 میں تحقيقاتی جج تريويديس نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا کہ کراچی ميں سن 2002ء ميں 11فرانسيسيوں کے قتل کی وجہ يہی آگسٹا ابدوز اسکينڈل تھا۔ 

2009 میں ہی فرانس کے دو ججوں نے کیس کا یہ پہلو بے نقاب کیا کہ کراچی میں فرانسیسی انجینئرز کی ہلاکت کی اصل وجہ یہ تھی کہ پاکستان میں کچھ عناصر نے کمیشن کی رقم نہ ملنے پر انتقامی کارروائی کی تھی کیونکہ 1995 میں صدر شیراک کے منصب صدارت پر آتے ہی انہوں نے کمیشن کی ادائیگی روک دی تھی. فرانس کے مجسٹریٹ نے عدالت میں واضع طور پر کہا کہ پاکستان میں 11 فرانسیسیوں کی موت کے پیچھے وہ لوگ ہیں جو کہ آگسٹا آبدوز میں کمیشن لے رہے تھے.

مرحومہ فوزیہ وہاب نے اس پر بیان دیا تھا کہ آصف علی زرداری فرانسیسیوں کے قتل میں ملوث نہیں فرانسیسی میڈیا انھیں بدنام کر رہا ہے۔

نوٹ : میں اس میگا سکینڈل کے ساتھ کک بیکس وصول کرنے والی برٹش آئی لینڈ کی ان آف آشور کمپنیز کی رجسٹریشن کے ثبوت فراہم کر رہی ہوں جو آج تک میڈیا کی آنکھ سے دور رہے یہ فرنچ عدالتوں میں وہاں کی ایجینسیز نے پیش کیے جو کہ عامر لودھی سے برامد ہوے جو کہ آصف علی زرداری کی ثابت ہو چکی ہیں میری قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدالت عالیہ سے اپیل ہے کہ زرداری کی آفشور کمپنیز پہ بھی جے آئی ٹی بنے اور اس کی دبئی اور برطانیہ میں خریدی گئ جائیدادوں کی بابت چھان بین کی جائے برٹش ورجن آئی لینڈ نے اب 5 جولائی 2018 کو ان تمام آفشور کمپنیز کی true کاپی پاکستانی ادارے کو بھیج دی ہیں جن کو میں اس کالم کے ساتھ پوسٹ کر رہی ہوں.

تحریر و تحقیق: حجاب رندھاوا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here