رانا ثناءاللہ کی 23 ستمبر 1992ء اس وقت نواز شریف کا نااہل قرار دینے والا رانا ثناءاللہ آج انکی اہلیت کی قسمیں کھا رہا ہے۔

0
520
جوش خطابت، سیاست یا غلاظت ۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟
” موجودہ حکومت ہٹاؤ ملک بچاؤ۔ یہ حکومت نااہل ہے۔ اسے ہٹانا ہوگا۔ ہمارے پاس اس حکومت کے خلاف بہت ثبوت ہے۔
یہ وزیراعظم وزارت عظمی کے لائق نہیں۔ 
یہ کہتا ہے مجھے سارے ملک کا خیال ہے۔ حالانکہ اسے اپنے گھر تک کا خیال نہیں۔ اگر اسے اپنے گھر کا خیال ہوتا تو کیپٹن صفدر اسکی بیٹی نہ لے اڑاتا۔ جو کہ اسکا ملازم تھا اور اسکے تعلقات اسکی لڑکی کے ساتھ ہوگئے جسکا اسے علم نہ تھا۔ پھر اسکی بیوی نے بھی کیپٹن صفدر کو رشتہ دینے کی ضد کی کیونکہ کیپٹن صفدر دو شفٹیں چلاتا تھا۔
اس وزیر اعظم کو یہ علم نہ تھا تو یہ ملک کے حالات کا پتہ کیسے چلا سکتا ہے۔”

رانا ثناءاللہ کی 23 ستمبر 1992ء 

————————–——-
موصوف نے یہ تقریر چنیوٹ میں جلسہ عام کے سامنے فرمائی تھی جس پر ان کے خلاف ن لیگ نے چنیوٹ سٹی میں ایف آئی آر کاٹی تھی جو آج بھی موجود ہے۔
اس وقت نواز شریف کا نااہل قرار دینے والا رانا ثناءاللہ آج انکی اہلیت کی قسمیں کھا رہا ہے۔
جواباً نواز شریف رانا ثناءاللہ کے ان گھناؤنی تہمتوں کو ” جوش خطابت ” قرار دے کر معاف کر چکا ہے۔۔۔۔۔

کوئی غیرت، کوئی شرم کوئی حیا ؟؟؟

تحریر شاہدخان
 
 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here