دھشت گردی کے خلاف جنگ اور آئی ایس آئی۔

0
56

دھشت گردی کے خلاف جنگ اور آئی ایس آئی۔

ایک فلسطینی نے سوال کیا تھا کہ عالمی امن کے نام پر تم دنیا کی بیشتر اقوام کو ساتھ لے کر ہمارا قتلِ عام کرو تو یہ تمہاری قیامِ امن کےلیے مخلص کوشش اور ہم اگر اپنے بچوں کو نسل کشی سے بچانے کےلیے جدو جہد کروں تو دھشت گرد۔ آئیں سوچتے ہیں کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ وجہ یہ ہے ایک ارب ساٹھ کروڑ آبادی والے مسلمانوں کی جبری شناخت داعش اور القائدہ کے نام پر کروائی جاتی ہے۔ جو مسلمانوں کی کل آبادی کا 0.00001 فیصد بھی نہیں بنتے ہیں۔ چند ہزار مسلح دھشت گرد جو اسلام کی تعلیمات سے بھی واقف نہیں عالمی میڈیا ان دھشت گردوں کو 1600000000 (ایک ارب ساٹھ کروڑ) مسلمانوں کا نمائندہ بنا کر پیش کرتا ہے۔
وار آن ٹیرر یا دھشت گردی کے خلاف جنگ کا اگر ہم سنجیدگی سے جائزہ لیں تو حیرانگی ہوتی ہے کہ دنیا کے 28 طاقتور ترین ممالک اپنے تمام تر وسائل کے ساتھ پچھلے کئی سال سے چند ہزار دھشت گردوں کو ختم کرنے کی کہانی سنا رہے ہیں۔ اس سے بڑا اور ڈرامہ کیا ہو گا کہ 28 ممالک مل کر سالوں میں چند ہزار دھشت گرد ختم نہ کر سکیں۔
دھشت گردی کے خلاف عالمی جنگ دراصل دھشت گرد پیدا کرنے کی فیکٹری ہے۔ جن چند ہزار دھشت گردوں کو ختم کرنے کےلیے یہ جنگ شروع کی گئی تھی اگر واقعی ایسا ہوتا تو اب تک وہ سارے دھشت گرد (اگر کوئی تھے تو) صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہوتے۔ لیکن 2001 سے لے کر 2018 تک ہم دیکھیں تو حیرت گم ہو جاتی ہے ایک ایک مسلم ریاست روندنے کے بعد، لاکھوں انسانوں کا قتلِ عام کرنے کے بعد دھشت گردی کم ہونے کے بجائے الٹا بڑھ چکی ہے۔ کتنا سادہ اور واضح سا پلان ہے۔ چند ہزار دھشت گردوں کے نام پر مسلمانوں کے خلاف کاروائی شروع کرو، ان کو اتنا زلیل کرو، اتنا خوار کرو کہ وہ ہتھیار اٹھا لیں اور جب ہتھیار اٹھا لیں تو ان کو دھشت گرد قرار دے دو۔ ایک ارب کی مسلمان آبادی کو دھشت گرد قرار دینے کےلیے سب سے اہم کردار وہ چند ہزار نام نہاد دھشت گرد کرتے ہیں جو دراصل مغرب اور امریکہ کے اپنے تخلیق کردہ ہیں۔ ان کے خاتمے کے نام پر عام مسلم ریاستوں کو روندا گیا اور آج صورتحال آپ کے سامنے ہے۔ عراق تباہ ہوچکا،لبیاتباہ ہو چکا، شام تباہ ہوچکا ،صومالیہ کا بیڑا غرق ہو چکا، مصر کا بیڑا بھی غرق، یمن کا بیڑا بھی غرق، بحرین کا بیڑا بھی غرق اور افغانستان بھی کاٹھ کباڑ کی پرانی دکان بن چکا۔ جن دھشت گردوں کے خاتمے کےلیے یہ ساری تباہی پھیلائی گئی وہ آج بھی مطمئن جی رہے ہیں اور مسلم آبادیاں آج بھی ان نام نہاد دھشت گردوں کے نام پر روندی جا رہی ہیں۔
ہم اگر مسلم دنیا کے نقشے پر نظر دوڑائیں تو پتہ لگتا ہے کہ دھشت گردی کے خلاف اس جنگ میں اگر کوئی ملک اپنی سرحدیں برقرار رکھ سکا ہے تو وہ پاکستان ہے۔ اللہ کے کرم کے بعد یہ پاکستان آرمی، آئی ایس آئی اور اس ملک کی عوام کی قربانیاں ہیں کہ یہ ملک دشمنوں کے تمام تر اندازوں، تخمینوں اور تجزیوں کے بر خلاف اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہے۔ یہاں عراق و شام کی صورتحال پیدا کرنے کی پوری کوشش کی گئی، مثلا عراق و شام میں القاعدہ اور داعش کھڑی کی گئیں یہاں ٹی ٹی پی بنائی گئی۔ وہاں فرقہ وارانہ فسادات کروائے گئے یہاں صوبائیت کے نام پر لوگوں کو لڑوایا گیا، وہاں انسانی حقوق کو واویلا کر کے عالمی طاقتوں نے مداخلت کی اور یہاں بلوچوں کے حقوق کا رونا رو کر دخل اندازی کرنے کی کوشش کی گئی۔ مگر چشمِ فلک نے دیکھا کہ دشمن کے تمام تر منصوبے اور عزائم الحمد للہ ایک ایک کر کے ناکام ہوتے گئے۔ آج جب مسلم امہ کی بڑی بڑی مضبوط معیشت اور دفاع والی ریاستیں ڈانواں ڈول ہو چکی ہیں الحمد للہ ہم قائم و دائم دشمنوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے پرعزم کھڑے ہیں۔ یہ اس ملک پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا خاصِ کرم ہے کہ ہمیں آئی ایس آئی جیسا باصلاحیت ادارہ ملا ہے جو اپنے قیام کے پہلے دن سے لے کر آج تک اس ملک کی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے اور تمام تر رکاوٹوں اور کم ترین وسائل کے باوجود اس ملک کا دفاع کامیابی سے کر رہا ہے۔ رہی بات عالمی امن اور دھشت گردی کے خلاف جنگ کی تو ہم اپنے ملک سے اس فتنے کو اکھاڑ چکے ہیں جو ہماری بنیادوں کے لیے خطرہ تھا۔ اب کوئی دشمن اس ملک میں یہ کہہ کر نہیں گھس سکتا کہ ہم یہاں امن قائم کرنے آئے ہیں کیوں کہ الحمد للہ یہ کام پاکستان آرمی اور آئی ایس آئی پہلے ہی کر چکی ہے۔
اکیلی آئی ایس آئی اور پاک آرمی نے پاکستان میں بیک وقت داعش، اور ٹی ٹی پی جیسی خطرناک ترین دھشت گرد تنظیموں کا صفایا کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آئی ایس آئی کو دنیا کی بہترین انٹیلیجنس ایجنسی تسلیم کیا جاتا ہے اور افواجِ پاکستان کو دنیا کی بہترین افواج میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here