دبلے پتلے، کسے ہوئے چمڑے اور جسم کے فوجیوں کی جگہ تنومند اور سست الوجود اور موٹی فوج ۔۔۔۔۔ سعودی افواج کی طرح ۔۔۔۔۔

0
290

میں کئی سال پہلے ایک ریٹائرڈ کمانڈو سے ملا تھا۔ اس کی کنپٹیوں کے بال سفید ہو چکے تھے۔

لیکن اس ادھیڑ عمری میں بھی جب چلتا تھا تو زمین میں ایک دھمک سی محسوس ہوتی تھی۔ بظاہر وہ کوئی لحیم شحیم شخص نہیں تھا لیکن لوہے کا بنا ہوا معلوم ہوتا تھا۔

زور آزمائی میں اس نے ہم سب کو بڑی آسانی سے شکست دے دی۔ ہم نے صحت اور طاقت کا راز پوچھا تو اس نے کہا ” راز کا تو نہیں پتہ۔ لیکن یہ ہے کہ میں ہمیشہ مفرد غذا کھاتا ہوں یعنی ایک وقت میں ایک چیز اور وہ بھی خالص حالت میں ” ۔۔۔۔

دوسرے لفظوں میں آٖرگینک فوڈز ۔۔۔۔۔۔۔ !

پاکستان میں ایک نئی نسل جنم لے رہی ہے جس کو عرف عام میں ” برگرنسل ” کہا جاتا ہے۔ سرخ و سفید، بظاہر تنو مند لیکن ڈھیلے ڈھالے وجود کے مالک۔ گردن کی پشت پر گوشت کی تہیں۔

وجہ وہ خوارکیں ہیں جو شہروں سے دیہاتوں تک پاکستان بھر میں عام ہوچکی ہیں۔ یہی نسل چند سالوں تک فوج میں بھی آجائیگی۔

دبلے پتلے، کسے ہوئے چمڑے اور جسم کے فوجیوں کی جگہ تنومند اور سست الوجود اور موٹی فوج ۔۔۔۔۔ سعودی افواج کی طرح ۔۔۔۔۔ 🙂

میرے خیال میں یہ کافی سیریس معاملہ ہے۔ پاکستان بھر میں خوراک کو درست کرنا حکومت وقت کا کام ہے جو ظاہر ہے ان چیزوں کے لیے فارغ نہیں۔ لیکن کم از کم پاک فوج اپنے جوانوں کی حد تک یہ کام کر سکتی ہے۔ ظاہر ہے جوان وہی کھائنگے جو ان کو ملے گا۔

میں فوج کا مینیو نہیں جانتا لیکن سنا ہے کہ اسکو کیلوریز اور پروٹینز وغیرہ کو مد نظر رکھ کر ترتیب دیا جاتا ہے۔ میرے خیال میں آرگینک اور ان آرگینک کو بھی مد نظر رکھا جائے۔ مثلاً

خالص گندم کا آٹا جو چھنا ہوا نہ ہو۔
ڈبوں کے دودھ پر پابندی۔
فارمی مرغی کو سکپ کردیں۔
اور ہائی بریڈ سبزیوں کو سکپ کر دیں۔

شائد یہ تحریر آپ کو بچگانہ لگے لیکن چند سال اسی طرح گزرنے دیجیے اور پھر اپنی آنے والی نسل دیکھ لینا۔

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here