خوراج کہتے ہیں کہ ” دیکھو پاک فوج سفید ریش بزرگوں پر ظلم کر رہی ہے

0
1715

ان خبیث بڈھوں کی اصلیت ۔۔۔۔۔ !

ان بڈھوں کی یہ تصاویر خوارج اور قوم پرستوں کا مشترکہ اور سب سے مشہور چورن جس کے ذریعے یہ لوگ بے خبر عوام کو مسلسل بہکاتے رہتے ہیں۔

خوراج کہتے ہیں کہ ” دیکھو پاک فوج سفید ریش بزرگوں پر ظلم کر رہی ہے”
جبکہ قوم پرست کہتے ہیں ” دیکھو پاک فوج ہمارے سفید ریش بزرگوں کے ساتھ کیا سلو کر رہی ہے”

کچے اور معصوم ذہن کی عوام حقائق سے بے خبر پاک فوج کے خلاف بھڑک اٹھتے ہیں۔

یہ خیال کیے بغیر کہ پاک فوج کا ان بدبختوں کے ساتھ کوئی ” پولہ پٹے شریک ” نہیں تھا نہ ہی کوئی ذاتی دشمنی تھی۔ تب انہوں نےکیا کیا تھا؟

زیر نظر تصویر ان لوگوں کی ہے جنھوں نے سوات میں ” نام نہاد شریعت” کے نفاذ کے بعد مسجد میں جرگہ بلوا کر جرگہ میں آنے والے معززین کو مسجد کے صحن میں ہی ذبح کروا دیا تھا اور جب ان دہشتگردوں کے خلاف پاک آرمی نے آپریشن کیا تو عوام اور ان لوگوں کے لواحقین کی شکایات پر ہی پاک فوج نے ان ظالموں کو گرفتار کیا تھا جو ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر دھوکے سے لوگوں کو صلح کے لئے بلوا کر ذبح کرتے تھے.

یہ بڈھے نہ صرف ٹی ٹی پی کے مخبر تھے بلکہ اس خاص جرگے کا حصہ تھے جو زبردستی پشتون عورتوں کے نکاح دہشت گردوں سے کروانے کے لیے پیغام لے کر جاتا تھا۔ اس وقت ” پشتین” جیسے پشتون چوہے کی طرح بلوں میں منہ چھپائے بیٹھے تھے۔

وادی تیراہ کا کنٹرول جب طالبان سے سنبھالا اور وہاں جرگے میں پہلا بڑا دھماکہ کیا تو تیراہ والوں یاد ہوگا کہ ایک 80 سالہ سفید ریش بوڑھے نے کھڑے ہو کر کہا تھا کہ ” اوس چہ سوک خلاف وی نو بند پہ بند بہ حلالہ وو” مطلب اب جو خلاف ہوگا تو اس کے جسم کا ہر عضو کاٹیں گے!

اگر ان کی عمروں کا لحاظ کیا جاۓ تو یاد رہے ابو جہل بھی عمر رسیدہ تھا، مسلیمہ کذاب کو جب قتل کیا جا رہا تھا اس وقت اسکی عمر 90 سے اوپر تھی۔ شیطان بھی بہت عمر رسیدہ ہو چکا ہے اور اسرایل کا وزیر اعظم ایریل شیروں بھی بزرگا تھا، تو پھر ان سب پر بھی ہاتھ ہولا رکھا جاۓ؟

قرآن میں اللہ فرماتے ہیں کہ ۔۔۔

’ اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو تحقیق کرلیا کرو کہ کہیں کسی کو بے جا ایذا نہ دے اور پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہ جائو ۔‘‘(سورۃ الحجرات)

جن کو شک ہو وہ ذرا سوات کا چکر لگا کر اپنے طور پر تحقیق کر لیں تو ان کو پتہ چلے۔

اور آخر میں میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ اگر آپکے بھائی باپ یا بیٹے کو کوئی ذبح کر دے بے دردی سے اور اسکی نعش سوات کے گرین چوک ( جسے طالبان دور میں خونی چوک کہا جاتا تھا) وہاں ٹانگ دے اور سر ٹانگوں کے درمیان رکھ دے اور آپکو یہ بھی اجازت نہ ہو کہ آپ انکی لاش کو درخت سے اتار سکیں تو ایسے سفاک قاتلوں کے ساتھ آپ کیسا سلوک کرینگے ؟
یا خدانخواستہ آپکو گھر میں آ کر حکم دیا جاتا یا تو زیور دو یا ہمارے مجاہد سے شادی کے لئے اپنی بیٹی فراہم کرو تو آپکا کیا جواب ہوتا ؟

قوم پرستی کے نام پر عصبیت کے جھنڈے تلے کھڑے ہونے سے اللہ کی پناہ مانگو!

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here