جمہوری اصول کے مطابق عوام نمائندے منتخب کرتی ہے اور وہ منتخب نمائندے ہی انکے ترجمان مانے جاتے ہیں۔

وہاں کی سٹوڈنٹ یونینز بھی انضمام کی تحریک چلا رہی ہیں۔ کچھ دن پہلے فاٹا عمائدین پر مشتمل ایک جرگے نے بھی کے پی کے میں شمولیت کا مطالبہ کیا۔

0
438

مولانا اپنا دھرم چھوڑ کر ہٹ دھرمی پہ اتر آیا ہے۔

مولانا کا دھرم جمہوریت ہے۔ جمہوری اصول کے مطابق عوام نمائندے منتخب کرتی ہے اور وہ منتخب نمائندے ہی انکے ترجمان مانے جاتے ہیں۔

فاٹا کے کل 12 منتخب نمائندے ہیں جن میں سے صرف ایک کا تعلق جے یو آئی سے ہے۔ اس ایک کے علاوہ باقی سارے منتخب نمائندے فاٹا کے پختونخواہ میں انضمام کے حق میں ہیں۔

وہاں کی سٹوڈنٹ یونینز بھی انضمام کی تحریک چلا رہی ہیں۔ کچھ دن پہلے فاٹا عمائدین پر مشتمل ایک جرگے نے بھی کے پی کے میں شمولیت کا مطالبہ کیا۔

لیکن جمہوریت کا چیمپئن ملا ان سب کی رائے کو رد کر رہا ہے اور بدستور اڑا ہوا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ” فیصلہ فاٹا والوں کی مرضی سے کیا جائے”۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب فاٹا والوں کی مرضی کیسے معلوم ہو ؟؟

مولانا کے بقول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ مرضی صرف اور صرف وہ جرگہ ہی بتا سکتی ہے جسکی نشاندہی مولانا کرینگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 🙂

مولانا فضل الرحمن کو یقین ہے کہ اگر فاٹا کے پی کے میں شامل ہوتا ہے تو اسکے اقتدار حاصل کرنے کی رہی سہی امیدیں بھی دم توڑ جائینگی۔

اقتدار ہی اس حرام خور شخص کا مطلوب و مقصود ہے اور زر اسکا خدا۔۔۔ اس کو حاصل کرنے کے لیے یہ کسی بھی حد تک گر سکتا ہے۔

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here