جب آئی ایس آئی کی بنیاد رکھی گئی حصہ چہارم

0
105

جب آئی ایس آئی کی بنیاد رکھی گئی حصہ چہارم

انھوں نے لکڑی کے کریٹوں کو بطور میز کرسی استعمال کیا۔ اپنے پلّے سے دفتری استعمال کی اشیا خریدنا معمول تھا۔ دراصل ان پہ بس یہی دھن سوار تھی کہ نوزائیدہ ادارے کو مستحکم کر کے مملکت کا دفاع زیادہ سے زیادہ مضبوط بنا دیا جائے۔ تنکا تنکا جمع ہوا

آئی ایس آئی میں پہلے پہل صرف تینوں افواج سے منسلک افسر و جوان شامل کیے گئے۔ بعد ازاں سویلین عملہ بھی بھرتی کیا جانے لگا۔ ان میں بیشتر افراد پولیس سے لیے جاتے۔ آئی بی کے دو ڈائرکٹروں، سید کاظم رضا اور غلام محمد نے آئی ایس آئی کے اولیّں ریکروٹوں کو انٹیلی جنس کے اسرارورموز سکھانے میں بڑی جانفشانی دکھائی۔

جب آئی ایس آئی کی بنیاد رکھی گئی حصہ اؤل

یوں تنکا تنکا جمع کر کے ایسا قوی لٹھ تیار کیا جانے لگا جسے دشمن کے سر پہ مارا جا سکے۔ کرنل شاہد حامد کی ذمے داری تھی کہ وہ ایجنسی کی سرگرمیوں کی رپورٹ مسلح افواج کے سربراہوں کو ارسال کریں۔ ان کے نائب (جنرل سٹاف آفیسر) میجر صاحب زادہ یعقوب علی خان تھے جو بعد لیفٹیننٹ جنرل بنے اور وزیر خارجہ پاکستان رہے۔

آئی ایس آئی کی بنیادیں مضبوط کرنے میں میجر محمد ظہیر الدین نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ جولائی 1948ء ہی میں انھیں بھی اسکول آف انٹیلی جنس سے آئی ایس آئی منتقل کر دیا گیا۔ وہ سراغ رسانی کے معاملات میں مہارت تامہ رکھتے تھے۔ ایجنسی کے اولیّں افسروں نے بھی ان کے تجربے سے خوب فائدہ اٹھایا۔ افسوس کہ ظہیر الدین کا انجام کچھ اچھا نہیں ہوا۔ ہوا یہ کہ 1950ء میں انھیں ترقی دے کر ایم آئی کا سربراہ بنا دیا گیا۔

جب آئی ایس آئی کی بنیاد رکھی گئی حصہ دوم

مارچ 1951ء میں راولپنڈی سازش کیس سامنے آ گیا۔ یہ سازش پولیس افسروں نے دریافت کی تھی۔ اسی لیے ڈی جی ایم آئی،ظہیر الدین کو سازش پکڑنے میں ناکامی پر شدید تنقید کا نشانہ بننا پڑا۔ (انھیں اپنے چیف آف جنرل سٹاف، میجر جنرل محمد اکبر خان پہ نظر رکھنا تھی کیونکہ اس زمانے میں ایم آئی انہی کے ماتحت تھی۔) نتیجتہً کمانڈر پاک فوج، جنرل ایوب خان نے انھیں برخاست کر دیا۔ اس اقدام سے ظہیر الدین بہت زیادہ افسردہ و دل گرفتہ ہوئے۔

جب آئی ایس آئی کی بنیاد رکھی گئی حصہ سوئم

ایوب خان کا دور کرنل شاہد حامد نے دو برس تک ڈی جی آئی ایس آئی کی ذمے داری نبھائی۔ چونکہ وہ میدان جنگ میں جانے کے خواہشمند تھے، سو جون 1951ء میں انھیں بریگیڈیر بنا کر 100 بریگیڈ(پشاور)کی کمان سونپ دی گئی۔ ڈی جی کا عہدہ پھر شوریدہ سر سیاسی حالات کے باعث طویل عرصہ خالی رہا

۔ اکتوبر1958ء میں جنرل ایوب خان نے اقتدار سنبھالا ،تو انھوں نے بریگیڈیر ریاض حسین کو آئی ایس آئی کا سربراہ مقرر کیا۔ دنیائے انٹرنیٹ کے مشہور انسائیکلوپیڈیا،وکی پیڈیا میںنجانے کس نے یہ دُرفطنی چھوڑ دی کہ میجر جنرل کائوتھورن 1951ء تا 1959 ء آئی ایس آئی کے ڈی جی رہے۔ اس واسطے انجان لوگ انہی کو اس قومی ادارے کا خالق سمجھنے لگے ہیں۔ شروع میں آئی ایس آئی دشمن کی سراغ رسانی کرنے اور اس کے منصوبے خاک میں ملانے پہ مامور تھی۔

جب آئی ایس آئی کی بنیاد رکھی گئی آخری حصہ

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here