جب آئی ایس آئی کی بنیاد رکھی گئی آخری حصہ

0
4924
Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب آئی ایس آئی کی بنیاد رکھی گئی آخری حصہ

دس بہترین خفیہ ایجنسیوں میں سے ایک آئی ایس آئی نے جہاد ِافغانستان کے دوران عالمی شہرت پائی۔ اسی کے عملی تعاون نے ہزارہا افغان مجاہدین کو اس قابل بنایا کہ وہ سویت سپرپاور سے نہ صرف ٹکر لیں بلکہ اسے پارہ پارہ کر ڈالیں۔ 1989ء میںنوجوان کشمیری نسل نے تحریک ِآزادی کا آغاز کیا، تو انھیں بھی پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی کی کچھ نہ کچھ مدد حاصل رہی۔ رفتہ رفتہ آئی ایس آئی بہ لحاظ نفری اور وسائل پاکستان کا سب سے بڑا انٹیلی جنس ادارہ بن گئی۔ اس کا شمار دنیا کی نمبر 1 خفیہ ایجنسیوں میں ہونے لگا۔ مگر اسی اعزاز نے عملے کے کاندھوں پہ پاکستان ہی نہیں دفاع ِامت ِمسلمہ کا عظیم بار بھی ڈال دیا۔

جب آئی ایس آئی کی بنیاد رکھی گئی حصہ اؤل

ہوا یہ کہ سویت یونین کی شکست سے آئی ایس آئی کے حوصلے بلند ہو گئے۔ تب قدرتاً بعض کی نگاہیں دنیا کے ان مسلم علاقوں کی سمت اٹھنے لگی جہاں اغیار نے قبضہ کر رکھا تھا یا وہاں آباد مسلمان ظلم وستم کا شکار تھے۔ سو سوچا گیا کہ ان مسلم علاقوں میں بھی آزادی کی تحریکیں شروع ہونی چاہیں تاکہ وہاں آباد مسلمان پنجہ استبداد سے چھٹکارا پا سکیں۔ اس سلسلے میں کچھ عملی اقدامات بھی اٹھائے گئے۔ مگر اس روش سے عالمی طاقتوں کے مفادات کو ضرب لگی،

سو ان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے سب سے طاقتور اسلامی خفیہ ادارے، آئی ایس آئی کے خلاف پوشیدہ و عیاں جنگ چھیڑ دی۔اسرائیل امریکہ اور بھارت نے ان قوتوں کا بووجوہ بھرپور ساتھ دیا۔ آج عالم یہ ہے کہ خصوصاً بھارتی امریکہ و اسرائیلی حکومتیں آئی ایس آئی کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتیں۔ مثلاً اگر کوئی آئی ایس آئی پر الزام لگاتا ہے تو ۔ جلد ہی سبھی انڈین چینل یہ الزام بطور ’’بریکنگ نیوز‘‘نشر کرنے کرجاتے ہیں ۔

جب آئی ایس آئی کی بنیاد رکھی گئی حصہ دوم

بھارتی مبصّروں اور اینکرپرسنوں کی سرتوڑ کوشش رہی کہ پاکستانی انٹیلی جنس ادارے پہ الزامات کا طومار باندھ دیں۔ انھوں نے جھوٹ کو بار بار دہرایا تاکہ عوام اسے سچ سمجھنے لگیں۔ تاہم اس پروپیگنڈے کا عملی اثر نہیں پڑتا ۔ ایک بڑی غلط فہمی پچھلے ایک عشرے سے غیرملکی اور ملکی پروپیگنڈے کے باعث پاکستانی عوام میں آئی ایس آئی سے متعلق ایک بہت بڑی غلط فہمی جنم لے چکی یہ کہ جاسوسی فلموں کے مانند اس انٹیلی جنس ادارے کے ماہرین بھی خطرناک و عجیب و غریب ہتھیاروں سے لیس ہوتے ہیں۔ وہ بھیس بدلنے کے ماہر ہیں ،پلک جھپکنے میں لوگوں کو اغوا کرتے یا قتل کر ڈالتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ آئی ایس آئی کا جسم نہیں دماغ سے تعلق ہے۔ ادارے کے ماہرین کا بنیادی کام یہ ہے کہ بیرون و اندرون ملک سبھی پاکستان دشمن عناصر پہ نظر رکھیں، ان کے خفیہ منصوبے آشکارا کریں اور انھیں ناکام بنائیں۔ گویا یہ اعلی پیمانے پہ ذہنی صلاحتیں استعمال اور تحقیق و تفتیش کرنے والا ایلیٹ ادارہ ہے۔ ادارے سے منسلک ماہرین کا یہ کام نہیں کہ وہ لوگوں پہ گولیاں چلاتے پھریں۔بالفرض کسی کو گرفتار کرنا، یا کہیں حملہ آور ہونا ہے، توآئی ایس آئی یہ کام پولیس ،رینجرز یا فوج کے ذریعے انجام دیتی ہے۔

جب آئی ایس آئی کی بنیاد رکھی گئی حصہ سوئم

اس کے افسروں حتی کہ عام مخبروں کو بھی یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ بغیر وارنٹ کسی کو بھی دھر لیں۔ وہ کبھی ’’خواہ مخواہ ‘‘کسی کو نہیں اٹھاتے،جیسا کہ اکثر قومی انٹیلی جنس اداروں پہ یہ الزام لگتا ہے۔ اسے ’’ہر فن مولا‘‘مت سمجھیے مذید براں پاکستانیوں کا ایک طبقہ آئی ایس آئی کو تمام ملکی خرابیوں کی جڑ سمجھنے لگا ہے۔اس طبقے کو بھی سمجھنا چاہیے کہ یہ خفیہ ادارہ’’ہر فن مولا‘‘نہیں کہ حکومتی کرپشن یا امن و امان سے متعلق مسائل حل کر دے۔

آئی ایس آئی صرف متعلقہ اداروں کو باخبر کرتی ہے کہ فلاں شخص، گروہ یا جماعت ملک دشمن سرگرمیوں یا کرپشن میں ملوث ہے۔ یا فلاں جگہ بم دھماکہ ہونے کا امکان ہے۔ اب کارروائی کرنا متعلقہ وفاقی و صوبائی سیکورٹی اداروں کی ذمے داری ہے۔ اگر وہی اپنا فرض بجا لانے میں کوتاہی کریں، تو آئی ایس آئی کو کیسے قصوروار ٹھہرایا جا سکتا ہے؟؟؟

جب آئی ایس آئی کی بنیاد رکھی گئی حصہ چہارم

یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ پاک افواج اور ہمارے اینٹلی جنس ادارے سیاچن کے برف پوش پہاڑوں سے لے کر سندھ کے صحراوں اور بلوچستان کی بے آب و گیاہ وادیوں تک مادر ِوطن کا دفاع کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ وہ جانیں ہتھیلی پر رکھ کر ’’غیر مرئی‘‘محاذ جنگ میں دشمنان ِوطن سے نبردآزما ہوتے اور

خاموشی سے،چپ چاپ شہید ہو جاتے ہیں۔ ان گمنام شہداء اور مجاہدوں کو اپنی دعائوں میں ضرور یاد رکھئیے 

 

x


Sharing Services
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here