تم لوگ بارڈر پر چلے جاؤ دھماکہ ہوا تو ہم سننبھال لینگے 

0
762

 تم لوگ بارڈر پر چلے جاؤ دھماکہ ہوا تو ہم سننبھال لینگے 

یہ کیسے سنبھال رہے ہیں ذرا اسکی ایک جھلک ملاحظہ کیجیے ۔۔۔

ان مردود ججوں نے پچھلی ایک دہائی کے دوران 13000 مقدمات میں کم از کم 3000 سے زائد دہشت گردوں کو بری کر دیا۔۔۔ انکی حالت یہ ہے کہ ۔۔

لاہور میں ایک جج صاحب کے سامنے ایک دہشت گرد کہتا ہے کہ ” الحمداللہ 17 مرتد پاکستانیوں کو مارا ہے ” تو جج صاحب یہ کہتے ہوئے بری کر دیتے ہیں کہ یہ تو شکل سے ہی معصول لگتا ہے یہ جھوٹ بول رہا ہے ۔

کوئٹہ کے ایک جج صاحب باردو کے ساتھ پکڑے جانے والے دہشت گرد کو یہ کہہ کر بری کر دیتے ہیں کہ ” بارود پھٹا نہیں تو دہشت گردی نہیں ہوئی ” ۔۔۔

سکھر کے جج صاحبان آئی ایس آئی کے ہیڈ کواٹر پر حملے سے ایک دن پہلے بلاجواز تمام حفاظتی بیرئیر ہٹانے کا حکم دے دیتے ہیں جس کے اگلے دن حملہ ہوجاتا ہے اور کئی آئی ایس آئی اہلکار شہید ہوجاتے ہیں ۔۔۔

اور ان سب کے جد امجد افتخار چوھری کے تو کیا کہنے ۔ موصوف نے دہشت گردوں کی رہائی اور انکے ” حقوق” کی حفاظت کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا تھا اور جان ہتھیلی پر رکھ ان سے لڑنے والی پاک فوج کے خلاف ہی سوموٹو ایکشن لیتا رہا ۔ حتی کہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے نے اس کو پاکستان میں اپنا پسندیدہ ترین شخص قرار دے دیا ۔۔۔

بالآخر مجبور ہو کر آرمی عدالتیں بنانی پڑ گئیں تو جسٹس ناصر الملک نے ان کے فیصلوں کو بھی کلعدم قرار دے دیا۔

دو دن پہلے ایک جج نے ایک پردہ دار لڑکی کے جسم پر چاقو کے 23 زخم ملاحظہ کرنے کے بعد یہ کہہ کر حملہ آور کو چھوڑ دیا کہ  لڑکی نے بھی کچھ کیا ہوگا ۔۔۔۔ کیونکہ ملزم اس کے ساتھی وکیل کا بیٹا تھا۔

کس قدر مغرور ، بے شرم ، بے غیرت اور ڈھیٹ ہیں یہ لوگ ۔۔۔

واللہ دہشت گردی میں مرنے والے 70 ہزار سے زائد پاکستانیوں کا خون ان ججوں کی موٹی اور منحوس گردنوں پر ہے ۔

فوجی قابل احترام ہیں ۔۔۔ ملک کے لیے جانیں دیتے ہیں ۔
ڈاکٹر قابل احترام ہیں ۔۔۔ جانیں بچاتے ہیں ۔۔
استاد قابل احترام ہیں ۔۔۔ پڑھاتے ہیں ۔۔
سرکاری ملازمین بھی زیادہ برے نہیں ۔۔ محکمے ان کے بل پر چل رہے ہیں ۔۔۔
پولیس میں موجود تمام تر برائی اور خرابی کے باوجود اس کے بغیر بھی گزرا نہیں ۔۔
صحافیوں کو ہزار گالیاں دیں لیکن ہم تک خبریں پہنچاتے ہیں یہ سچ ہے ۔۔۔
سیاست دان اس ٹائپ کی سرکاری ملازمین کی کیٹگری میں نہیں آتے اسلئے ان کا ذکر نہیں کرتے ۔۔۔
علماء میں ہزار خامیاں ہیں لیکن کم از کم انہوں نے مسجدوں کا آباد رکھا ہوا ہے۔

مجھے کوئی بتائے کہ جج کیوں قابل احترام ہوتے ہیں؟؟

یہ کیا کام کرتےہیں؟؟

انکی تنخواہیں اور دیگر ساری مراعات عام سرکاری ملازمین سے 4/5 گنا زیادہ کیوں ہوتی ہیں ؟؟

میں یہ دعوی کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان کا وہ واحد محکمہ جو اگر بند بھی ہوجائے تو پاکستان کا کام بخوبی چل سکتا ہے وہ ان منحوس ججوں اور بدمعاش وکلاء سے بنی پاکستان کی ” عدلیہ ” ہے ۔ ہمارے جرگے اور پنچائتیں ان سے ہزار درجے بہتر اور تیز رفتار فیصلے کر سکتی ہیں ۔ دہشت گردوں اور غداروں کے لیے آرمی عدالتیں کافی ہیں۔

جانے سے پہلے ۔۔۔۔

قانونی تقاضوں کے نام پر انصاف کی راہ میں روڑے اٹکانے والے ان مکار ججوں سے متعلق نعمت اللہ شاہ ولی کی یہ پیشن گوئیاں ملاحظہ کجیے ۔۔۔

در مومناں نزارے، در جنگ قاضی آرے
چوں سگ پئے شکاری، گردد بسے بہانہ​
ترجمہ: قاضی کی لڑائی میں کمزور مسلمان شکاری کے پیچھے کتے کی طرح بہانہ سازی کریں گے۔ اس سے مراد غالبا نام نہاد “عدلیہ بحالی” کی تحریک ہے جو افتخار چودھری کے اقتدار کی جنگ تھی۔

بینی تو قاضیاں را بر مسند جہالت
گیرند رشوت از خلق علامہ با بہانہ​
ترجمہ: قاضیان یعنی ججوں کو تو جہالت کی مسندپر دیکھے گا۔ بڑے بڑے علم والے لوگ بہانہ سے لوگوں سے رشوت لیں گے۔

گردانگ از بہ رشوت در چنگ قاضی آری
چوں سگ پئے شکاری، قاضی کند بہانہ​
ترجمہ: اگر تو قاضی (جج) کی مُٹھی میں چاندی کے چند سکہ دے دے گا تو قاضی شکاری کتے کی طرح بہانہ سازی کرے گا۔
تشریح: چونکہ مندرجہ بالا تینوں اشعار میں لفظ ”بہانہ” قافیہ میں استعمال ہوا ہے۔ لہذٰا اس بہانہ کا مفہوم قانون کی غلط اور من مانی توضیح و تشریح بھی مراد لی جا سکتی ہے۔ یہی ” حیلہ” ان ججوں کو سب سے اہم ہتھیار ہے جس کی مدد سے انہوں نے فیصلے لٹکا دئیے اور انصاف کو ناپید کر دیا۔

تحریر شاہدخان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here